خبرنامہ

سونم وانگچک بھی تعلیم وزیر کے خلاف سی جے پی احتجاج میں شامل

بھارت میں سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں چلائی جانے والی مہم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ اس مہم کے بانی ابھیجیت دیپکے کی بھارت واپسی کے اعلان کے بعد اب ایک اور معروف شخصیت نے ان کے احتجاجی پروگرام میں شامل ہونے کا عندیہ دیا ہے۔لداخ کے معروف ماحولیاتی کارکن اور تعلیمی امور سے وابستہ شخصیت سونم وانگچک نے اعلان کیا ہے کہ اگر 5 جون تک مرکزی وزیرِ تعلیم اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیتے تو وہ 6 جون کو ہونے والے احتجاج میں شریک ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام سے متعلق عوامی خدشات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور حکومت کو اس معاملے پر واضح جواب دینا ہوگا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ’کاکروچ اِز بیک‘ نامی اکاؤنٹ سے سونم وانگچک کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی گئی، جس میں انہوں نے پرامن احتجاج کی حمایت کا اظہار کیا۔ اس پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ معروف ماہرِ تعلیم اور ریمَن میگسیسے ایوارڈ یافتہ سونم وانگچک 6 جون کو دہلی میں ہونے والے مظاہرے میں شریک ہوں گے، جہاں وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا جائے گا۔دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آئیں گے۔ ان کے مطابق دہلی کے جنتر منتر پر ایک پُرامن احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا جائے گا، جس میں تعلیمی پالیسیوں اور حالیہ تنازعات کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق ابھیجیت دیپکے اس وقت امریکہ میں موجود ہیں، جہاں انہوں نے بوسٹن یونیورسٹی سے اپنی گریجویشن مکمل کی ہے۔ ان کی واپسی اور مجوزہ احتجاج کو سوشل میڈیا پر کافی توجہ مل رہی ہے، جب کہ مختلف حلقوں میں اس معاملے پر بحث بھی جاری ہے۔ تاہم حکومت یا وزارتِ تعلیم کی جانب سے اب تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر