سال 2047کا ترقی یافتہ: ہندوستان کیسا ہوگا؟
مارکنڈے کاٹجو
(سابق جج: سپریم کورٹ)
ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی نے تاریخی لال قلعہ سے 15 اگست 2026ء کو جشن یوم آزادی سے اپنے خطاب میں پرزور انداز میں کہاکہ 2047ء میں ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک ہوگا۔ میں پوری طرح ان (مودی) سے اتفاق کرتا ہوں شاید اس طریقہ سے نہیں جس کا اُنھوں نے تصور کیا ہوگا۔ جیسا کہ اکثر میں کہا کرتا ہوں کہ ترقی یافتہ انڈیا صرف ایک شاندار اور طاقتور عوامی جدوجہد کے ذریعہ ہی یقینی بنایا جاسکتا ہے اور اس ترقی یافتہ انڈیا میں تمام ذاتوں کی نمائندگی کرنے والے، مختلف مذاہب کے ماننے والوں اور مختلف زبانوں کے بولنے والے متحد رہیں گے یہ جدوجہد ممکنہ طور پر 15 تا 20 سال تک جاری رہے گی جس کی قیادت شخصی مفادات سے بالاتر، بے لوث، بے غرض، محب وطن اور جدید سوچ و فکر رکھنے والے رہنما کریں گے۔ اس دوران بہت سے نشیب و فراز آئیں گے اور بہت بڑی قربانیاں دینی پڑیں گی۔ آپ کو بتادوں کہ یہ عوامی جدوجہد بالآخر ایک تاریخی عوامی انقلاب میں تبدیل ہوگی اور پھر ملک میں ایک ایسا سیاسی و سماجی نظام قائم ہوگا جس کے تحت ہندوستان میں بڑی تیزی کے ساتھ صنعتی ترقی ہوگی اور عوام کی معیار زندگی میں مسلسل بہتری آئے گی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ 2047ء تک ہندوستان کو حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ ملک میں تبدیل کرنے کے لیے صرف سرکاری منصوبے ہی کافی نہیں ہوں گے بلکہ ایک طویل مدتی عوامی جدوجہد، متحدہ طور پر عوام کی کوشش، جدید قیادت اور بڑے ایثار و قربانی کی ضرورت ہوگی۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ 2047ء کے ترقی یافتہ ہندوستان کی کیا خصوصیات ہوں گی؟ میرے خیال میں 2047ء کے ترقی یافتہ ہندوستان میں حسب ذیل خصوصیات ہوں گی :
-1 ہندوستانی عوام اعلیٰ معیار زندگی سے محظوظ ہوں گے اور ہمارے ملک میں ان لعنتوں اور ان بُرائیوں کا خاتمہ ہوجائے گا جو صدیوں سے ہندوستانی معاشرہ کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ ان لعنتوں میں نوجوانوں میں پائی جانے والی بہت زیادہ بیروزگاری، بچوں میں ناقص غذا کی تکلیف دہ سطح (ہمارے ملک کی موجودہ صورت حال یہ ہے کہ ہر دوسرا بچہ ناقص غذا کا شکار ہے، گلوبل ہنگر انڈکس کے مطابق) اور ملک کے بچے غذائی قلت بلکہ ناقص غذا کا شکار ہیں۔ نگہداشت صحت کی مؤثر سہولیات کا فقدان پایا جاتا ہے۔ اچھی تعلیم کی کمی بھی ایک لعنت ہے۔ ذات پات کا نظام اور فرقہ واریت نے بھی ملک کی حالت خراب کر رکھی ہے۔
-2 تمام مذاہب اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی شہریوں کے ساتھ ریاست اور معاشرہ مساوی احترام کا سلوک کرے گا جو لوگ ذات پات یا فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دیں گے انھیں سخت سزا دی جائے گی۔
-3 خواتین کو جو آبادی کا تقریباً آدھا حصہ ہیں، مردوں کے مساوی مکمل مساوات حاصل ہوں گے، اگرچہ ہندوستانی دستور کی دفعہ 15 اور 16 کے تحت خواتین کو قانونی مساوات اور حقوق حاصل ہیں لیکن عملی طور پر اکثر انھیں مردوں سے کمتر سمجھا جاتا ہے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔
-4 2047ء کے ترقی یافتہ ہندوستان میں ذات پات کی بیماری باقی نہیں رہے گی، ذات پات کا نظام اور دلتوں کے خلاف امتیاز کا خاتمہ ہوجائے گا۔ یہ صنعتی ترقی بین ذات پات شادیوں اور معاشرہ کے دانشور طبقہ کی طرف سے مسلسل عوامی شعور کی بیداری کے ذریعہ حاصل کی جائے گی تاکہ لوگوں کی سوچ و فکر میں مثبت تبدیلیاں آئیں اور وہ جدید ذہن اور جدید خیالات اپنائیں۔-5 2047ء کے ترقی یافتہ ہندوستان میں مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔ ریاست سائنس اور سائنسی سوچ و فکر کی حوصلہ افزائی کرے گی کیوں کہ سائنس ہی اقتصادی اور سماجی ترقی کی واحد راہ ہے۔
-6 2047ء کے ترقی یافتہ ہندوستان میں سیاسی قائدین حقیقت میں بے لوث اور بے غرض ہوں گے۔ محب وطن، جدید سوچ و فکر کے حامل اور سیکولر اذہان و قلوب رکھنے والے ہوں گے۔ ان میں ملک کو بڑی تیزی کے ساتھ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور بڑے پیمانہ پر صنعتیانے کا جذبہ ہوگا۔ ان میں اپنے عوام کو بہتر زندگی دینے کا عزم ہوگا خواہش ہوگی۔
نوٹ : جسٹس مارکنڈے کٹجو سپریم کورٹ کے سابق جج ہیں اور پریس کونسل آف انڈیا کے چیرمین بھی رہ چکے ہیں۔ وہ سماجی، سیاسی اور قانونی مسائل و موضوعات پراپنے بے باک بے لاگ تبصروں اور خیالات کیلئے جانے جاتے ہیں۔ وہ، نظام انصاف رسانی، سیکولرازم اور ہندوستان کی سماجی و اقتصادی تبدیلیوں کے بارے میں اچھا بولتے ہیں اور لکھتے بھی ہیں۔






