نیپال میں تباہ کن سیلاب، 1252 لاشیں برآمد، 4216 افراد لاپتا
نیپال میں تباہ کن سیلاب سے 1252 لاشیں برآمد، 4216 افراد لاپتا، امدادی کارروائیاں جاری، 42 افراد کی تلاش جاری۔
نیپال میں گزشتہ ہفتے آنے والے شدید اور تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (NDRRMA) کی جانب سے جاری تازہ معلومات کے مطابق بھوٹیکوشی اور تریشولی دریاؤں میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں اب تک 1252 افراد کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتا ہیں۔
قدرتی آفت کے بعد امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ بدھ کو سیلاب آنے کے بعد سے 4216 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع ہے۔ لاپتا افراد کی بڑی تعداد کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امدادی ٹیمیں مختلف متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان مقامات تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے جہاں لوگوں کے پھنسے ہونے کا امکان ہے۔
اسی دوران ضلع رسوا میں قائم لَانگ ٹانگ ہائیڈرو پاور منصوبے سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امدادی کارکن ایک زیرِ زمین سرنگ کے ذریعے اس مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے جہاں متعدد افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ تھا۔ منصوبے کے انتظامیہ کے مطابق سرنگ کے اندر تقریباً 150 میٹر کے فاصلے سے دو افراد کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔
پروجیکٹ کے مینیجنگ ڈائریکٹر وجے موہن بھٹّرائی کے مطابق تکنیکی ماہرین نے پین اسٹاک پائپ کے راستے سرنگ کے اندر جانے کا راستہ تلاش کیا۔ امدادی کارروائی کے دوران پائپ کے اوپری حصے تک پہنچنے کے بعد ایک راستہ بنایا گیا، جس کے ذریعے نیپالی فوج نے اندر داخل ہو کر لاشوں کو باہر نکالنے کا عمل شروع کیا۔
اس منصوبے میں بجلی گھر کے اوپر ایک تقریباً 150 میٹر طویل سرنگ بھی تعمیر کی گئی تھی۔ اس سرنگ کا مقصد پین اسٹاک پائپ کے ابتدائی حصے تک رسائی حاصل کرنا تھا۔ یہی پائپ سرنگ سے پانی کو بجلی گھر تک پہنچانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں کے باوجود منصوبے سے وابستہ تقریباً 42 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ ان افراد کی تلاش کے لیے سکیورٹی فورسز، تکنیکی ماہرین اور امدادی کارکن مشترکہ طور پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔
نیپال میں آنے والے اس سیلاب نے کئی علاقوں میں معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ دریاؤں میں اچانک پانی کی سطح بڑھنے سے متعدد مقامات پر رابطہ سڑکوں، بنیادی ڈھانچے اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں اور لاپتا افراد کی تلاش کے ساتھ ساتھ متاثرین تک ضروری امداد پہنچانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔






