کینیڈا کا امریکا کو بڑا جھٹکا، 20 ارب ڈالر کا جوابی ٹیرف عائد
کینیڈا نے امریکی ٹیرف کے جواب میں 20 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات پر 50 فیصد تک جوابی محصولات عائد کردیے۔
کینیڈین حکومت کے مطابق امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے نئے محصولات کے جواب میں تقریباً 28 ارب کینیڈین ڈالر، یعنی لگ بھگ 20 ارب امریکی ڈالر مالیت کی امریکی مصنوعات پر مختلف شرحوں سے جوابی ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔ ان محصولات کی شرح بعض اشیا پر 15 فیصد سے شروع ہو کر 50 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔کینیڈا کی جانب سے جاری کردہ اعلان کے مطابق نئے جوابی محصولات 8 ستمبر کی نصف شب سے نافذ العمل ہوں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امریکی محصولات کے باعث کینیڈین صنعت اور کاروبار پر پڑنے والے ممکنہ منفی اثرات کا مقابلہ کرنا اور امریکی فیصلے کا متناسب جواب دینا ہے۔
کینیڈا نے اس سے قبل واضح کیا تھا کہ اگر امریکا اس کی مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کرتا ہے تو اوٹاوا بھی تقریباً “ڈالر کے بدلے ڈالر” کی بنیاد پر جواب دے گا۔ موجودہ فیصلے کو اسی پالیسی کا عملی اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔کینیڈا کی جانب سے جن امریکی مصنوعات کو نئے جوابی ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا، ان میں اسٹیل، ڈیری مصنوعات، گھریلو استعمال کی مختلف اشیا اور دیگر متعدد امریکی مصنوعات شامل ہیں۔ حکام کے مطابق مختلف اشیا پر عائد ڈیوٹی کی شرح ان کی نوعیت اور امریکی اقدامات کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف رکھی جائے گی۔یہ تازہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جمعے سے کینیڈا کی بعض مصنوعات پر 50 فیصد تک اضافی ٹیرف نافذ کیا گیا، جس کے بعد کینیڈا نے بھی جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات بھی کسی حتمی اتفاق رائے تک نہیں پہنچ سکے۔ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد امریکا نے کینیڈا سے آنے والی بعض اشیا پر اضافی محصولات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا، جس پر کینیڈین حکومت نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔امریکا اس سے قبل بھی کینیڈا کی بعض اہم برآمدات پر محصولات عائد کر چکا ہے۔ ان میں کینیڈین اسٹیل، ایلومینیم، گاڑیاں اور لکڑیسمیت متعدد شعبوں سے متعلق مصنوعات شامل ہیں۔ کینیڈا کے لیے یہ صورتحال خاصی اہم ہے کیونکہ امریکا اس کی بڑی تجارتی منڈیوں میں شمار ہوتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان وسیع پیمانے پر اشیا کی درآمد و برآمد ہوتی ہے۔
تجارتی ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان محصولات کی یہ جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات صرف حکومتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کاروباری اداروں، صنعتوں، برآمد کنندگان اور صارفین پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اضافی محصولات کے نتیجے میں بعض درآمدی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا امکان بھی موجود ہے، جبکہ کاروباری اداروں کو اپنی سپلائی چین اور قیمتوں کے تعین سے متعلق نئی حکمت عملی اختیار کرنا پڑ سکتی ہے۔کینیڈا کا تازہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اوٹاوا امریکی تجارتی پالیسی کے خلاف خاموش رہنے کے بجائے براہ راست جوابی اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب اگر واشنگٹن بھی مزید محصولات عائد کرتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تنازع مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔
فی الحال کینیڈا نے اپنے جوابی ٹیرف کی تفصیلات اور متاثر ہونے والی مصنوعات کی فہرست سامنے رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکی اقدامات کا جواب دیا جائے گا۔ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا دونوں ممالک دوبارہ مذاکرات کے ذریعے اس تجارتی تنازع کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا محصولات کی ایک نئی جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے۔






