عمران خان کو جیل میں خطرہ؟بیٹوں کے سنگین الزامات نے ہلچل مچا دی
عمران خان کی صحت پر بیٹوں نے تشویش ظاہر کی، آزادانہ علاج کا مطالبہ کیا، حکومت نے صحت مند قرار دے دیا۔
عمران خان کے بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان نے ایک آن لائن پریس بریفنگ کے دوران اپنے والد کی صحت، جیل میں حالات اور طبی سہولیات سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا ہے۔سلیمان خان کے مطابق ان کی اپنے والد سے آخری مرتبہ مارچ میں ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی تھی، جس کے بعد انہیں فون پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مارچ میں ہونے والی گفتگو کے دوران عمران خان کافی پُرجوش محسوس ہو رہے تھے، تاہم طویل عرصے تک تنہائی میں رہنے کے باعث اب ان کی ذہنی اور جسمانی حالت کے بارے میں خاندان کو تشویش ہے۔
سلیمان خان نے مزید بتایا کہ حال ہی میں ان کی ایک پھوپھی نے عمران خان سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے خاندان کو بتایا کہ عمران خان کی گفتگو سن کر وہ خاصی پریشان ہوئیں۔ سلیمان کے مطابق عمران خان کو یہ خدشہ بھی ہے کہ جیل میں ان کی صحت کو بتدریج نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔عمران خان کے دوسرے بیٹے قاسم خان نے بھی اپنے والد کے علاج کے حوالے سے آزادانہ طبی معائنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا معائنہ ایسے ڈاکٹروں سے ہونا چاہیے جو مکمل طور پر آزاد اور غیر جانب دار ہوں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اگر علاج کی ضرورت ہو تو انہیں کسی غیر جانب دار اور قابل اعتماد اسپتال منتقل کیا جائے۔
قاسم خان نے حکومت کے اس ممکنہ مؤقف پر بھی سوال اٹھایا کہ عمران خان مکمل طور پر صحت مند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومتی حکام سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی صحت ٹھیک ہے تو انہیں اس حوالے سے قابل اعتماد طبی شواہد بھی سامنے لانے چاہئیں۔یہ معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب 18 اگست کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔تاہم حکومتی مؤقف کے مطابق شفا اسپتال کے باہر اور اطراف میں پی ٹی آئی کارکنوں کی موجودگی اور سکیورٹی سے متعلق پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث عمران خان کو وہاں لے جانے کے بجائے ایک سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکومت کے مطابق عمران خان کا سرکاری طبی مرکز میں تفصیلی معائنہ کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی صحت کا جائزہ لینے کے بعد انہیں مجموعی طور پر صحت مند قرار دیا۔ طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔دوسری جانب پی ٹی آئی نے حکومتی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کا معاملہ اٹھایا ہے۔ پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق پی ٹی آئی سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو شفا اسپتال منتقل نہ کیے جانے کی وجہ اسپتال کے اطراف پیدا ہونے والی سکیورٹی کی صورتحال تھی۔ ان کے مطابق حکومت نے عمران خان کی صحت کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ انہیں سرکاری طبی مرکز لے جاکر ضروری اور تفصیلی طبی معائنہ کرایا۔یوں عمران خان کی صحت اور ان کے علاج کا معاملہ ایک مرتبہ پھر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان تنازع کا مرکز بن گیا ہے۔ ایک طرف ان کے اہل خانہ آزاد ڈاکٹروں اور غیر جانب دار اسپتال میں علاج کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کا طبی معائنہ کیا جا چکا ہے اور اس میں کوئی ایسی تشویش ناک بات سامنے نہیں آئی جس کے باعث انہیں فوری طور پر کسی دوسرے اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہو۔
اب معاملہ سپریم کورٹ میں مزید آگے بڑھنے کی صورت میں عدالت کے سامنے بھی آ سکتا ہے، جہاں یہ طے ہونا باقی ہے کہ عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے سے متعلق عدالتی حکم پر مکمل طور پر عمل ہوا یا نہیں۔ دوسری جانب ان کے اہل خانہ اور پارٹی کی جانب سے آزادانہ طبی معائنے کا مطالبہ بھی برقرار ہے






