یا حسین کے پرچم پر گرفتاری، قانون کے دوہرے معیار پر سوال
ریا میں یا حسین درج سیاہ پرچم پر کارروائی، پینٹر مبین سمیت تین گرفتار، پولیس کے قانونی جواز پر سوالات اٹھ گئے۔
ریا میں مذہبی پرچم پر ’’یا حسین علیہ السلام‘‘ لکھنے کے معاملے میں پولیس نے پینٹر مبین سمیت تین افراد کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق سیاہ پرچم پر لکھی عبارت کی بناوٹ مبینہ طور پر اے کے 47 رائفل سے مشابہ دکھائی دے رہی تھی، جس کے بعد ویڈیو سامنے آنے پر کارروائی کی گئی۔یہ پرچم ایک مکان پر لگائے گئے دو مذہبی پرچموں میں شامل تھا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام سے منسوب سیاہ پرچم بعض شیعہ برادریوں میں عزاداری، شجاعت اور قربانی کی علامت کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
پولیس کی کارروائی کے بعد اب قانونی بنیاد پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ محض عبارت کی شکل کو ہتھیار سے مشابہ قرار دے کر گرفتاری کس قانون کے تحت کی گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مذہبی علامات اور اردو تحریروں سے متعلق معاملات میں فوری گرفتاری کا رجحان دکھائی دیتا ہے، جب کہ دیگر مذہبی تنظیموں سے وابستہ افراد کے خلاف مبینہ طور پر دھمکی آمیز سرگرمیوں کے ویڈیوز سامنے آنے کے باوجود یکساں کارروائی نظر نہیں آتی۔
ہندو رکشا دل کے ارکان کی جانب سے تلواریں تقسیم کرنے اور انہیں لہرا کر دھمکانے سے متعلق ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے بھی پولیس کے یکساں رویے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔






