سیاسی بصیرت

اتحاد کا خوف

ودود ساجد

(ایڈیٹر روزنامہ انقلاب)

پورے مشرق وسطی کے امن و سکون کو درہم برہم کرنے کے باوجود نتن یاہو کی شیطانی جبلت کو اب بھی قرار نہیں آیا ہے۔ اب اس نے اسرائیل کے پڑوسی ملک شام میں بھی ایک نیا محاذ کھول کر شام کے پڑوسی ملک ترکی کو مسلح کشیدگی میں گھسیٹنے کی کوشش کی ہے۔ لہذا جو اب آں غزل کے طور پر ترکی نے بھی نتن یاہو کے خلاف 2019 کے ایک واقعہ میں گرفتاری کا انٹر نیشنل وارنٹ جاری کردیا ہے۔

گزشتہ 18 اگست کو اسرائیل کی ایرفورس نے شام اور ترکی کی سرحد پر شا م کے شمال مغرب میں ابوالظہور ملٹری ایربیس کے رن وے پر آٹھ حملے کئے۔ سبب یہ بتایا کہ وہاں ترکی اپنی فوج کو تعینات کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمہ کے بعد سے اسرائیل ‘شام پر ترکی کو اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے سے روکنے کی کوشش کر تارہا ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کی اس شیطنت کی مذمت کی ہے۔ نتن یاہو کو دنیا میں کسی بھی ملک سے اور خاص طور پر خلیج کے کسی بھی ملک سے جنگ چھیڑنے میں کوئی تکلف نہیں۔ مخالف تو پھر مخالف ہے وہ اپنے خیر خواہ ملکوں تک پر حملہ کرنے میں کوئی تردد نہیں کرتا۔ نوستمبر 2025 کو کیا جانے والا قطر کا حملہ اس کی واضح مثال ہے۔ قطر نے حماس اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کا غیر معمولی کردار ادا کرکے اسرائیل کے 250 یرغمال شہریوں کو آزاد کرایا تھا۔ لیکن حماس کی قیادت کو ٹھکانے لگانے کیلئے نتن یاہو نے دوحہ میں بھی خطرناک حملہ کردیا تھا۔

امریکہ کی شیطانیت کے سبب پوری دنیا اسرائیل کی ہمہ جہت مکاری‘ درندگی اور مکر و فریب سے پُر سفارتکاری کے نرغہ میں ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو نتن کے خلاف بھی ویسی ہی اجتماعی کارروائی کی جاتی جیسی 2003 میں جھوٹے الزامات کے تحت عراق کے صدر صدام حسین کے خلاف کی گئی تھی۔ صدام حسین پر برطانیہ کے اس وقت کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے الزام عاید کیا تھا کہ انہوں نے عوامی تباہی والے ہتھیار حاصل کرلئے ہیں۔ٹونی بلیئر کے اس فرضی الزام کی بنیاد پر امریکہ کی قیادت میں پوری اقوام متحدہ عراق پر ٹوٹ پڑی تھی۔ لیکن آج تو پوری دنیا اسرائیل کی اور خاص طور پر نتن یاہو کی تباہ کاریاں نہ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے بلکہ ان تباہ کاریوں کے نتائج بھگت بھی رہی ہے۔

صدام حسین کے خلاف کسی عدالت نے نہ کوئی فرد جرم عاید کی تھی اور نہ گرفتاری کا کوئی وارنٹ جاری کیا تھا۔ لیکن نتن یاہو کے خلاف تو عالمی عدالت کا گرفتاری وارنٹ موجود ہے۔ یہی نہیں عالمی عدالت نے اسے فلسطینیوں اور خاص طور پر اہل غزہ کی نسل کشی اور معصوم بچوں کو بھوک سے مارنے کا مرتکب قرار دے رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کا اور خاص طور پر امریکہ کا یہ رویہ اس کے علاوہ اور کس بات کا ثبوت ہے کہ دشمنی اسلام اور مسلمانوں سے ہے۔ لہذا یہ قضیہ صرف فلسطین یا ایران کا ہی نہیں ہے‘ یہ فقط ترکی‘ شام یا لبنان کا بھی قضیہ نہیں ہے‘ آج نشانہ پر یہ ممالک ضرور ہیں لیکن آخر کار اصل ہدف تو پوری مسلم دنیا ہے۔اسرائیل کا مقصد ’عظیم تر اسرائیل‘ کے خواب کو پورا کرنا ہے اور امریکہ کا مقصد قدرتی وسائل سے بھرپور عرب ممالک کو اپنا دست نگر بنانا ہے۔

10 مارچ 2023 کو میں نے جو موقف اختیار کیا تھا وہ اس عرصہ میں مزید مستحکم ہوا ہے۔ نظام بدل رہا ہے۔ کسی بھی نئے منظرنامہ کو حتمی خد و خال اختیار کرنے میں وقت لگتا ہے۔ لیکن خلیج میں جس تیزی کے ساتھ منظرنامہ تشکیل پا رہا ہے وہ غیر معمولی طور پر حوصلہ افزاء ہے۔ خلیج کی تاریخ میں دس مارچ 2023 خود ایک تاریخی دن تھا جب ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی رشتوں کی تجدید ہوئی تھی۔ لیکن اس کے بعد آنے والی بہت سی دوسری تاریخیں بھی تاریخی ہوگئی ہیں۔ ایسی ہی ایک تازہ تاریخ سات اگست 2026کی تھی جب ترکی‘پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک تاریخی دفاعی سمجھوتہ ہوا تھا۔
میرا مستحکم موقف یہ ہے کہ 40 مہینے کے عرصہ میں ہونے والے مذکورہ دو واقعات مشرق وسطی کا نقشہ بدلنے کی سمت جانے والی راہ کا سنگ میل ہیں۔

یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن اتنا سمجھنا ضروری ہے کہ ترکی‘ پاکستان اور سعودی عرب کےسہ فریقی معاہدہ میں وقت آنے پر وسعت کا ہونا لازمی اور فطری امر ہے۔ مصر بھی جلد یا بدیر اس معاہدہ میں شامل ہوجائے گا۔ ایران بھی اس سے الگ نہیں رہ سکتا لیکن ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔ جو پُرجوش ٹولے اعتراض کر رہے ہیں کہ ایران کو کیوں اس سے باہر رکھا گیا انہیں نہ سفارتی نزاکتوں کا علم ہے اور نہ تقاضوں اور مصلحتوں سے کوئی واسطہ ہے۔ کچھ مبصرین کہہ رہے ہیں کہ اس معاہدہ کے پس پشت امریکہ یا ٹرمپ ہیں۔ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا لیکن یہی سب کچھ نہیں ہے۔ یہ کہنا مشرق وسطی میں ظہور پزیر ہونے والی ہمالیائی تبدیلی کو چھوٹا کرکے پیش کرنا ہے۔

نتن یاہو کے سامنے اسرائیل کے عام انتخابات ہیں۔ اس نے آٹھ اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے خلاف غزہ کا قتل عام شروع کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں مشرق وسطی کا نقشہ بدل کر رکھ دوں گا۔ لیکن 27 اکتوبر 2026 کو اس کا فیصلہ ہوجائے گا کہ وہ جیت کر اقتدار میں واپس آئے گا یا ہار کر جیل جائے گا۔ اس پر بدعنوانی کے اتنے مضبوط مقدمات ہیں کہ اس کا بری ہونا ممکن نہیں ہے۔ ایسے میں جب اس کی آنکھوں کے سامنے مشرق وسطی کا نقشہ کوئی اور طاقت بدل رہی ہے وہ ان دو مہینوں میں ہر ممکن کوشش کرے گا کہ خطہ میں کسی بھی مسلم ملک سے اس کی جنگ چھڑجائے۔

18 اگست کو اس نے شام کی سرحد پر ملٹری ایر بیس پر اسی لئے حملہ کیا تھا۔ اس حملہ کی شام اور ترکی کی حکومتوں نے سخت مذمت کی اور اقوام متحدہ سے فوراً نوٹس لینے کی اپیل کی۔ اسرائیل کے ایک افسر اعلی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیل نے اس حملے کے تعلق سے امریکہ کو پیشگی مطلع کردیا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیل کے پاس انتہائی حساس معلومات تھیں جن کی بنیاد پر یہ حملہ کیا گیا۔ ترکی میں امریکہ کے سفیر ٹام براک نے اسرائیل کے اس حملہ کی تصدیق کرتے ہوئے اسے خطہ کے استحکام کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔ٹام کو ٹرمپ نے شام اور عراق کے امور کا خصوصی نمائندہ بھی مقرر کر رکھا ہے۔ ٹام نے کہا کہ شام کے صدر احمد الشرع مسلسل کہتے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کو کم سے کم کرنا چاہتے ہیں۔ اسرائیل کے میڈیا نے بتایا ہے کہ اسرائیل کی مسلسل کوشش ہے کہ ترکی کو شام کی نئی فضائی قوت کی تشکیل میں تعاون دینے سے روکا جائے۔

مختلف ذرائع نے بتایا ہے کہ شام کا یہ ملٹری ایرپورٹ 2013 سے بند تھا لیکن اب نئی حکومت کے آنے کے بعد یہاں سرگرمی بڑھ گئی ہے اور نئی فوج کو یہیں تربیت دی جارہی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس ایرپورٹ پر ترکی کے فوجی وفود کی بھی آمد و رفت ہونے لگی ہے۔ اسرائیل نہیں چاہتا کہ کوئی بھی عرب ملک اور خاص طور پر اس کی سرحدوں سے متصل عرب ممالک دفاعی طور پر مضبوط ہوجائیں۔ مشکل یہی ہے کہ نتن یاہو سے کوئی نہیں پوچھتا کہ تجھے ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا کس نے حق دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بے لگام شیطان کی سرکشی بڑھتی جارہی ہے۔ دسمبر 2024 سے اسرائیل مسلسل شام کی سرحدوں کے اندر گھستا جارہا ہے اور اس وقت شام کے اندر 15 کلومیٹر تک اس کی فوجیں گشت کر رہی ہیں۔

یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ 26 جولائی 2026 کو شام کے صدر احمد الشرع نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ ایک اچھا سیکیورٹی معاہدہ ہوسکتا ہے۔ مبصرین نے اس کے کئی معنی نکالے تھے۔ لیکن یہ تو طے تھا کہ شامی صدر نے یہ بات بلاشبہ امریکہ کی تحریک پر ہی کہی ہوگی۔ ممکن ہے کہ انہیں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی بھی تائید حاصل ہو۔لیکن اب تو نتن یاہو نے اس کے امکانات پر کچھ دنوں کیلئے تو پانی پھیر ہی دیا ہے۔ ترکی نے بھی نتن یاہو کے خلاف نیا گرفتاری وارنٹ جاری کرکے تصویر کو اور صاف کردیا ہے۔ سات نومبر 2025کو ترکی نے نتن یاہو اور دیگر 36 اسرائیلی حکام کے خلاف غزہ میں نسل کشی کے الزام میں گرفتاری کا ’گھریلو وارنٹ‘ جاری کیا تھا۔ لیکن اب 21 اگست 2026کو ترکی نے نتن یاہو کی گرفتاری کا ’انٹرنیشنل وارنٹ‘ جاری کردیا ہے۔انٹرپول سے بھی ریڈ کارنر نوٹس جاری کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

ترکی کے ذریعہ نیا وارنٹ بحری جہازوں کے اس قافلہ کے ساتھ زیادتی کرنے کے الزام میں جاری کیا گیا ہے جو غزہ کے محصور عوام کیلئے اشیائے خورد ونوش لے کر جارہا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب ترکی اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کئی مرحلے طے کرکے آگے بڑھ چکی ہے۔ ورنہ یہ دونوں ملک ایک عرصہ سے باہم بڑا کاروبار کر رہے تھے۔ان دونوں کے سفارتی مراسم دہائیوں پرانے ہیں۔ ترکی اور اسرائیل کے درمیان تجارتی سرگرمیاں عروج پر تھیں جب 2023 میں دونوں نے مشترکہ طور پر 6.8 ارب ڈالر کا کاروبار کیا تھا۔ لیکن 2024 میں یہ کاروبار گھٹ کر 3.47 ارب ڈالر رہ گیا۔ جبکہ 2025 میں یہ صفر پر آگیا اور اب 2026 میں بھی دونوں کے درمیان تجارتی مراسم ٹوٹے ہوئے ہیں۔

اس ضمن میں ماضی کے متعدد کالموں میں تفصیلی جائزہ لیا جاچکا ہے لیکن یہاں اتنا سمجھنا ضروری ہے کہ اسرائیل اور ترکی نے اردوگان کے برسر اقتدار آنے سے پہلے کے 26 برسوں میں جتنا کاروبار کیا تھا اردوگان کے اقتدار میں آنے کے نو برس کے اندر اس سے دوگنا کاروبار کرلیا تھا۔اس اعتبار سے کاروبار کی موجودہ صورتحال دونوں ملکوں کے درمیان روز افزوں سیاسی اور فوجی کشیدگی کی شدت کو سمجھنے کیلئے کافی ہے۔

اب ایک نکتہ یہ ہے کہ اسرائیل کے ذریعہ ملک شام کے ایربیس پر حملہ کو ترکی پر حملہ تصور کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اسرائیل کے وضاحتی بیانات کے جائزہ سے تو پتہ چلتا ہے کہ اس نے ترکی کو انتباہ دینے کی غرض سے ہی یہ حملہ کیا تھا۔ لیکن ترکی نے یہ تسلیم ہی نہیں کیا کہ وہ شام کے ایربیس پر اپنا فوجی اثر و رسوخ قائم کر رہا تھا۔ اس حملہ پر پاکستان اور سعودی عرب نے شدید مذمت کی اور دونوں کے ردعمل میں یکسانیت پائی گئی۔دونوں نے اسے شام کی خود مختاری اور سالمیت پر حملہ قرار دیا۔یہی نہیں 18 اگست کو ہی 12 عرب اور مسلم ملکوں نے بھی اس کی سخت مذمت کی تھی۔

مختلف تجزیہ نگاروں نےاسے ترکی پر براہ راست حملہ تصور کیا اور اس طرح ترکی اور اسرائیل کے درمیان براہ راست تصادم کا خطرہ پیدا ہوگیا ۔اسی کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے امریکہ نے دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کی پیش کش کرڈالی۔اس موضوع کے کئی نکات ابھی باقی ہیں لیکن تجزیہ نگاروں کے اس خیال میں وزن ہے کہ اسرائیل مسلم ملکوں کےاس ممکنہ دفاعی اتحاد سے خوف زدہ ہوگیا ہے جس کا راستہ ترکی‘ پاکستان اور سعوی عرب نے باہم دفاعی اتحادکرکے دکھادیا ہے۔۔۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سیاسی بصیرت

ٹی ایم سی رائے گنج لوک سبھا الیکشن کیوں نہیں جیت پاتی؟

تحریر: محمد شہباز عالم مصباحی رائے گنج لوک سبھا حلقہ مغربی بنگال کی ایک اہم نشست ہے جس کی سیاسی
سیاسی بصیرت

مغربی بنگال میں کیا کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے؟

محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال مغربی بنگال، جو ہندوستان کی سیاست میں