ریزرویشن ختم کرنے کی سازش؟ اکھلیش یادو نے بی جے پی کو للکار
اکھلیش یادو نے ریزرویشن ختم کرنے کی مبینہ کوششوں پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا، حق برقرار۔
اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے ریزرویشن کے معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’ریزرویشن میں اصلاح‘ کے نام پر دراصل ریزرویشن ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ پسماندہ، دلت اور اقلیتی طبقات پر مشتمل پی ڈی اے سماج کے حقوق کے خلاف ایک بڑی سازش ہے۔اکھلیش یادو نے واضح الفاظ میں کہا کہ ریزرویشن پی ڈی اے سماج کا حق ہے اور اسے کسی فرد یا جماعت کی مرضی سے جوڑا نہیں جا سکتا۔ ان کے مطابق ریزرویشن کا مقصد ان طبقات کو مواقع فراہم کرنا ہے جو طویل عرصے تک سماجی اور تعلیمی محرومی کا شکار رہے ہیں۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی اور اس کے حلیف وقتاً فوقتاً ریزرویشن کے حوالے سے ’جائزہ‘، ’اصلاح‘ اور اس طرح کی مبہم اصطلاحات استعمال کرتے رہے ہیں۔ اکھلیش کے مطابق ان الفاظ کے ذریعے ریزرویشن کے موجودہ نظام پر سوال اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے، جس سے ان طبقات میں تشویش پیدا ہوتی ہے جو ریزرویشن کو اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
سماج وادی پارٹی کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ کبھی ’کریم لیئر‘ کے نام پر ریزرویشن کے دائرے کو محدود کرنے کی بات کی جاتی ہے اور کبھی اہل افراد سے ریزرویشن کا فائدہ چھوڑنے کی اپیل کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ سب دراصل محروم اور پسماندہ طبقات کو حاصل ریزرویشن کے حق کو کمزور کرنے کی مختلف شکلیں ہیں۔اکھلیش یادو نے کہا کہ ریزرویشن کے حق پر کسی بھی طرح کی ضرب قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ریزرویشن ماضی میں بھی موجود تھا، آج بھی ہے اور آئندہ بھی برقرار رہنا چاہیے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ دو دن سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر ریزرویشن پالیسی میں تبدیلی اور اس کے مبینہ طور پر خاتمے کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ مظاہرین کی جانب سے ریزرویشن کے موجودہ نظام کا دوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔مظاہرین کے ایک اہم مطالبے میں یہ بھی شامل ہے کہ ریزرویشن دینے کی بنیاد ذات کے بجائے خاندان کی معاشی حالت کو بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں ذات کو بنیادی معیار بنانے کے بجائے معاشی طور پر کمزور افراد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
دوسری جانب اکھلیش یادو کا مؤقف ہے کہ ریزرویشن محض معاشی کمزوری کی بنیاد پر دیا جانے والا فائدہ نہیں بلکہ تاریخی سماجی اور تعلیمی محرومی کا ازالہ کرنے کے لیے دیا گیا حق ہے۔ اسی لیے وہ ’اصلاح‘ یا ’جائزے‘ کے نام پر ریزرویشن کے بنیادی ڈھانچے میں ایسی تبدیلیوں کی مخالفت کر رہے ہیں جن سے پسماندہ طبقات کے حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔ریزرویشن کے معاملے پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر بھارت میں سماجی انصاف، مساوی مواقع اور پسماندہ طبقات کے حقوق سے متعلق سیاسی بحث کو تیز کر دیا ہے۔ ایک طرف مظاہرین ریزرویشن کی بنیاد تبدیل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، تو دوسری جانب اکھلیش یادو جیسے سیاسی رہنما موجودہ ریزرویشن نظام کے تحفظ کو سماجی انصاف سے جوڑ رہے ہیں۔





