پیپر لیک کا بڑا کھیل بے نقاب، پروفیسر سمیت 6 گرفتار
رائے پور زرعی یونیورسٹی پیپر لیک معاملے میں پروفیسر سمیت 6 گرفتار، اینڈوسکوپی کیمرے سے سوال نامہ ریکارڈ کرکے طلبہ کو فروخت کرنے کا الزام۔
چھتیس گڑھ کی راجدھانی رائے پور میں واقع اندرا گاندھی یونیورسٹی کے پیپر لیک معاملے میں پولیس نے ایک پروفیسر سمیت 6 افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد پر یونیورسٹی کے امتحانات کے سوال نامے امتحان سے پہلے حاصل کرنے اور انہیں طلبہ کو فروخت کرنے کا الزام ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے دوران پولیس کو سوال نامے کے سیل بند لفافے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیے جانے اور ایک خاص کیمرے کے ذریعے سوال نامے کی ویڈیو بنائے جانے کا بھی پتا چلا ہے۔پولیس کے مطابق گرفتار افراد میں درگ کے بھارتی ایگریکلچر کالج کے پروفیسر یوگیش سونکیسریا بھی شامل ہیں۔ الزام ہے کہ پروفیسر نے سوال نامے کے سیل بند لفافے میں پہلے سوئی اور ایک نوکیلے آلے کی مدد سے سوراخ کیا۔ اس کے بعد اینڈوسکوپی میں استعمال ہونے والا کیمرہ اس سوراخ کے ذریعے لفافے کے اندر پہنچایا اور سوال نامے کے تمام صفحات کی ویڈیو بنا لی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اسی ویڈیو کی مدد سے سوال نامے کی نقل تیار کی گئی۔ بعد میں یہ نقل مبینہ طور پر اسی کالج کے تین طلبہ کو 11 ہزار روپے میں فروخت کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ معاملے کی اطلاع ملنے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا اور تحقیقات کا دائرہ ریاست کے مختلف اضلاع تک بڑھایا گیا۔ کئی مقامات پر پولیس کی ٹیمیں بھیجی گئیں اور مسلسل تفتیش کے بعد 6 افراد کو گرفتار کیا گیا۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اندرا گاندھی زرعی یونیورسٹی سے منسلک زرعی کالجوں میں ہونے والے گریجویشن امتحانات کے سوال نامے امتحان سے پہلے ہی لیک ہونے کی اطلاع ملی۔ یونیورسٹی میں 7 اور 20 اگست کو ہونے والے امتحانات کے سوال نامے پہلے ہی باہر آ جانے کے بعد متعلقہ امتحانات منسوخ کر دیے گئے۔ اس فیصلے سے یونیورسٹی سے وابستہ 28 زرعی کالج متاثر ہوئے۔
امتحانات منسوخ ہونے کے بعد سوال نامے لیک ہونے کے معاملے نے یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ پولیس کے سامنے بھی کئی سوال کھڑے کر دیے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد یہ معلوم کرنے کی کوشش شروع کی کہ سوال نامے کس طرح سیل بند لفافے سے باہر پہنچے اور انہیں طلبہ تک کس طریقے سے پہنچایا گیا۔رائے پور کی تیلی بندھا پولیس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ تحقیقات کے دوران سوال نامے کی ویڈیو بنانے اور اسے آگے پہنچانے سے متعلق اہم معلومات سامنے آئیں۔ پولیس کے مطابق، گرفتار افراد سے پوچھ گچھ کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ سوال نامہ لیک کرنے کے اس پورے معاملے میں مزید کتنے افراد شامل ہو سکتے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ریاست کے مختلف اضلاع میں ٹیمیں بھیج کر مسلسل تفتیش کی گئی، جس کے بعد پروفیسر سمیت 6 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اب تفتیش کا دائرہ اس بات تک بڑھایا جا رہا ہے کہ لیک شدہ سوال نامے کتنے طلبہ تک پہنچے اور اس پورے معاملے میں مزید کون کون لوگ ملوث ہیں۔فی الحال پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مزید شواہد اور معلومات سامنے آنے کے بعد معاملے کی پوری کڑی واضح ہو سکتی ہے۔





