راجستھان میں CJP ٹیم پر حملہ، کیجریوال نے بی جے پی کو للکارا
راجستھان میں سرکاری اسکول کی خستہ حالی دیکھنے پہنچی CJP ٹیم پر مبینہ حملہ، کیجریوال نے بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
راجستھان کے جے پور ضلع کے بگرُو اسمبلی حلقے میں ایک سرکاری اسکول کی خستہ حالی کا جائزہ لینے پہنچنے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP) کی ٹیم کے ساتھ مبینہ مارپیٹ اور پتھراؤ کا معاملہ سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ واقعے کے بعد عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ CJP کے رضاکاروں کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ بچوں کی بہتر تعلیم کے لیے آواز اٹھا رہے تھے۔یہ واقعہ جمعہ کو جے پور کے بگرُو علاقے کے رام پورہ۔کنور پورہ گاؤں میں پیش آیا۔ رپورٹس کے مطابق CJP کی ٹیم مقامی سرکاری اسکول کی حالت کا جائزہ لینے اور وہاں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو درپیش مسائل کی معلومات حاصل کرنے کے لیے پہنچی تھی۔ ٹیم کی آمد سے پہلے ہی گاؤں میں مخالفت شروع ہوگئی تھی۔ مقامی افراد نے مبینہ طور پر راستے میں ٹریکٹر ٹرالیاں کھڑی کرکے آمدورفت روکنے کی کوشش کی اور اسکول کے باہر احتجاج بھی کیا۔
CJP کے کنوینر اور ترجمان اشوتوش رانکا بھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ موقع پر پہنچے تو صورتِ حال مزید کشیدہ ہوگئی۔ رپورٹس کے مطابق مقامی لوگوں اور CJP کارکنوں کے درمیان پہلے بحث و تکرار اور دھکم دھکا ہوئی، جس کے بعد ہاتھا پائی کی نوبت آگئی۔ اس دوران پتھراؤ کیے جانے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ واقعے کے بعد رانکا اور ان کی ٹیم کو وہاں سے واپس ہونا پڑا۔ بعض رپورٹس میں گاڑیوں کے شیشے توڑے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔CJP کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے بی جے پی سے وابستہ افراد تھے۔ اشوتوش رانکا نے واقعے کے بعد بی جے پی اور پولیس پر بھی سنگین الزامات عائد کیے اور ریاستی حکومت سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔ تاہم دوسری جانب مقامی افراد کا مؤقف ہے کہ وہ کسی بیرونی گروپ کو اسکول کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی اجازت نہیں دینا چاہتے تھے۔ بعض مقامی لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اسکول سے متعلق ان کے اپنے خدشات اور تحفظات ہیں۔
اس پورے تنازعے کی بنیادی وجہ ایک سرکاری اسکول کی خراب حالت بتائی جارہی ہے۔ CJP کا کہنا ہے کہ اسکول کی عمارت انتہائی خستہ ہے اور بچوں کو مناسب تعلیمی ماحول میسر نہیں۔ اسی مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے تنظیم کی جانب سے ’اسکول ٹھیک کرو‘ مہم چلائی جارہی ہے۔ دوسری جانب مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اسکول کے معاملے کو حل کرنے کی ضرورت ضرور ہے، لیکن وہ بیرونی سیاسی مداخلت کے حق میں نہیں ہیں۔واقعے کے بعد اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سخت ردِعمل دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک میں یہ سب کیا ہورہا ہے اور الزام لگایا کہ بی جے پی سے وابستہ افراد نے CJP کے کارکنوں پر حملہ کیا، ان کے ساتھ مارپیٹ کی، کپڑے پھاڑے اور گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے۔ کیجریوال نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کوئی گروپ بچوں کو بہتر تعلیم فراہم کرنے کے لیے آواز اٹھا رہا ہے تو اس کی مخالفت کیوں کی جارہی ہے۔
کیجریوال نے اپنے بیان میں تعلیم کے مسئلے کو سیاسی تنازعے کے مرکز میں لاتے ہوئے کہا کہ بچوں کو پڑھنے اور آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق کسی بھی سیاسی اختلاف کو تشدد میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔دوسری جانب واقعے کے بعد CJP کی جانب سے راجستھان حکومت کو کارروائی کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ تنظیم نے کہا ہے کہ اگر مبینہ حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی۔





