اویسی کی پارٹی کو بڑا جھٹکا، عاصم وقار کانگریس میں شامل
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے قومی ترجمان عاصم وقار نے اویسی کا ساتھ چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی، یوپی انتخابات سے قبل بڑا جھٹکا۔
لکھنؤ: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے قومی ترجمان سید عاصم وقار نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ بدھ کے روز دہلی میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران انہوں نے کانگریس کا دامن تھاما۔ اس موقع پر راجیہ سبھا کے رکن اور کانگریس کے شعبۂ اقلیت کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی، اتر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اجے رائے اور ریاستی انچارج راجیش گوتم بھی موجود تھے۔اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے درمیان عاصم وقار کا اے آئی ایم آئی ایم سے الگ ہوکر کانگریس میں شامل ہونا سیاسی اعتبار سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کی رخصتی کو خاص طور پر اسد الدین اویسی کی قیادت والی جماعت کے لیے ایک بڑا سیاسی نقصان سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ عاصم وقار طویل عرصے سے پارٹی کا نمایاں چہرہ رہے ہیں۔
عاصم وقار تقریباً ایک دہائی سے اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ وابستہ تھے۔ قومی سطح کے ٹیلی ویژن مباحثوں اور سیاسی پروگراموں میں وہ باقاعدگی سے پارٹی کا مؤقف پیش کرتے نظر آتے تھے۔ اپنی واضح اور پُراعتماد گفتگو کے باعث انہوں نے اتر پردیش میں پارٹی کے ایک معروف ترجمان کے طور پر شناخت بنائی تھی۔اے آئی ایم آئی ایم میں شامل ہونے سے قبل عاصم وقار تقریباً دو دہائیوں تک سماج وادی پارٹی سے بھی وابستہ رہے تھے۔ سیاسی حلقوں میں ان کی کانگریس میں شمولیت کے پس منظر میں پارٹی کے اندرونی معاملات کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وہ اتر پردیش میں اے آئی ایم آئی ایم کی تنظیم سے متعلق بعض فیصلوں سے خوش نہیں تھے۔ کانگریس میں ان کی شمولیت میں عمران پرتاپ گڑھی کا کردار بھی اہم بتایا جا رہا ہے۔
اتر پردیش میں عاصم وقار کو اے آئی ایم آئی ایم کے اہم مسلم چہروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ان کی خاص پہچان قومی نیوز چینلوں پر پارٹی کا دفاع اور سیاسی معاملات پر کھل کر اپنا مؤقف پیش کرنا تھا۔ پارٹی کے ریاستی صدر شوکت علی کے ساتھ ان کے تعلقات بھی گزشتہ کچھ عرصے سے خوشگوار نہیں بتائے جاتے تھے اور دونوں کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق عاصم وقار کی رخصتی سے اتر پردیش میں اے آئی ایم آئی ایم کی انتخابی حکمت عملی متاثر ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں مسلم ووٹ انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کی پوزیشن میں ہوتا ہے، وہاں پارٹی کو اپنے معروف ترجمان کی کمی محسوس ہوسکتی ہے۔واضح رہے کہ 2022 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم نے کئی حلقوں سے اپنے امیدوار میدان میں اتارے تھے، لیکن پارٹی کو کسی بھی نشست پر کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ اب 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل عاصم وقار کا کانگریس میں جانا ریاست کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ کانگریس بھی اس شمولیت کو اتر پردیش میں اپنی سیاسی سرگرمیوں اور تنظیمی بنیاد مضبوط کرنے کے تناظر میں اہم قرار دے سکتی ہے۔






