مغربی بنگال میں بھی یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کا اعلان
مغربی بنگال حکومت نے یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کا اعلان کیا، کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جب کہ وندے ماترم پر قومی میوزیم بھی قائم ہوگا۔
کولکاتا: مغربی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ شبھندو ادھیکاری نے اعلان کیا ہے کہ ریاست میں بھی یکساں سول کوڈ (یونیفارم سول کوڈ) نافذ کرنے کے لیے حکومت باضابطہ عمل کا آغاز کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں تمام آئینی اور قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے اور جلد ہی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔جمعہ کے روز کولکاتا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے لیے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی جائے گی، جو مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں وہی طریقۂ کار اختیار کیا جائے گا جو پہلے گجرات، اتراکھنڈ اور آسام جیسی ریاستوں میں اپنایا جا چکا ہے۔
شوبھندو ادھیکاری نے مزید کہا کہ وہ پیر کے روز ریاستی اسمبلی میں اس معاملے پر تفصیلی بیان دیں گے اور ارکان کو مجوزہ منصوبے، قانونی مراحل اور آئندہ کی حکمتِ عملی سے آگاہ کریں گے۔اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ نے سابق ریاستی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ حکومت کی ترجیحات میں بدعنوانی، اقربا پروری اور ریاست کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے والی پالیسیاں شامل تھیں۔ ان کے مطابق ماضی کی حکومت نے بنگال کی عظیم ادبی اور ثقافتی شخصیات، جن میں رابندرناتھ ٹیگور اور بنکم چندر چٹوپادھیائے شامل ہیں، کی قومی وراثت کو فروغ دینے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت خود کو قوم پرست نظریات کی حامل حکومت قرار دیتی ہے اور اس کی کوشش ہوگی کہ ریاست کی تہذیبی، ادبی اور ثقافتی شناخت کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ اسی سلسلے میں وزیرِ اعلیٰ نے اعلان کیا کہ ’وندے ماترم‘ کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر ایک قومی سطح کا جدید میوزیم قائم کیا جائے گا، جہاں اس تاریخی نغمے اور اس سے وابستہ قومی تحریک کی تاریخ، دستاویزات اور اہم یادگاروں کو محفوظ کیا جائے گا۔وزیرِ اعلیٰ کے اس اعلان کے بعد ریاست کی سیاست میں یکساں سول کوڈ کا معاملہ ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گیا ہے، جب کہ مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس پر ردِعمل سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔






