رام مندر کے چندے میں بڑا گھپلا، آٹھ ملزمان عدالتی تحویل میں
رام مندر کے چندہ چوری کیس میں آٹھ ملزمان عدالتی تحویل میں بھیج دیے گئے، تحقیقات جاری، تقریباً 80 لاکھ روپے برآمد ہوئے۔
ایودھیا کے رام جنم بھومی مندر کے عطیات اور نذرانوں میں مبینہ خرد برد کے معاملے میں گرفتار کیے گئے آٹھ ملزمان کو عدالت نے پیر تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق اس مقدمے میں اب تک تقریباً 80 لاکھ روپے نقد برآمد کیے جا چکے ہیں، جب کہ مزید شواہد اور دیگر ممکنہ ملوث افراد کی تلاش کا عمل بھی جاری ہے۔سرکاری وکیل کے سی ورما نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شری رام جنم بھومی مندر میں عقیدت مند بڑی تعداد میں نقد رقم، زیورات اور دیگر قیمتی اشیا بطور نذرانہ عطیہ کرتے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹرسٹ سے وابستہ بعض ملازمین نے ان عطیات میں مبینہ طور پر بے ضابطگیاں کیں اور رقم کا غلط استعمال کیا۔ انہی الزامات کی بنیاد پر آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا، جنہیں عدالت میں پیش کرنے کے بعد پیر تک عدالتی تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے مجموعی طور پر 79 لاکھ 85 ہزار 493 روپے برآمد ہوئے ہیں۔ ایک ملزم، سبھاش شریواستو، کے علاوہ دیگر گرفتار افراد کے پاس سے مختلف مقدار میں نقد رقم ملی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مبینہ سازش میں شامل دیگر افراد کے کردار کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے اور تحقیقات کے دائرے کو مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اپنی ابتدائی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کی تھی، جس کے بعد گزشتہ جمعرات کی شام آٹھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ تمام ملزمان کو حراست میں لے کر ان سے مسلسل پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور انہیں جمعہ کے روز عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
یہ مقدمہ شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کے رکن کرشن موہن کی شکایت پر رام جنم بھومی پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں ملازم کی جانب سے چوری، امانت میں خیانت، دھوکہ دہی اور مجرمانہ سازش سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔پولیس کے مطابق مقدمے میں جن افراد کو نامزد کیا گیا ہے ان میں ٹنّو یادو، انوکلپ مشرا، لوکش مشرا، اویناش شکلا، منیش یادو، سبھاش شریواستو، کرونیش پانڈے اور رام شنکر مشرا شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مالی لین دین کے تمام ریکارڈ اور دیگر شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ واقعے میں ملوث ہر فرد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔






