این ایل سی میں سرکاری ملکیتی حصہ فروخت پر وجے کا اعتراض
وجے نے این ایل سی میں سرکاری ملکیتی حصہ فروخت کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے مودی حکومت سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ وجے نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر مرکزی حکومت کے این ایل سی انڈیا لمیٹڈ میں اپنی حصص داری کم کرنے کے مجوزہ فیصلے پر سخت اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ این ایل سی محض ایک عام درجۂ فہرست کمپنی نہیں بلکہ ملک کی توانائی کی ضرورت، معدنی وسائل کے فروغ اور اہم بنیادی ڈھانچے سے جڑا ہوا ایک اسٹریٹجک قومی اثاثہ ہے۔ وجے نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ اس فیصلے پر دوبارہ غور کیا جائے، کیونکہ ایسے حساس اور اہم سرکاری اداروں میں حکومت کی ملکیت میں مزید کمی ایک غلط مثال قائم کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کے اثرات صرف مالی پہلوؤں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے ریاستی مفادات، عوامی اعتماد اور ملک کی طویل مدتی توانائی سلامتی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس معاملے پر تمل ناڈو کی مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی تشویش ظاہر کی ہے اور حکومت سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی سلسلے میں ڈی ایم کے رکنِ پارلیمنٹ کنیموزھی نے بھی مرکزی کوئلہ اور کان کنی کے وزیر کو خط لکھ کر این ایل سی انڈیا لمیٹڈ میں تین فیصد حصص فروخت کرنے کی تجویز فوری طور پر واپس لینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ملازمین، ٹریڈ یونینوں اور عام شہریوں میں بے چینی پیدا ہوئی ہے، اس لیے حکومت کو تمام متعلقہ فریقوں کے مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے۔ کنیموزھی کے مطابق این ایل سی کی سرکاری حیثیت اور اس کی اسٹریٹجک اہمیت برقرار رکھنا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ این ایل سی انڈیا لمیٹڈ 1956 میں قائم ہوئی تھی اور یہ ملک کی نمایاں سرکاری کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے، جو لِگنائٹ کان کنی اور بجلی کی پیداوار کے شعبے میں سرگرم ہے۔ اس کے منصوبے ملک کی کئی ریاستوں میں کام کر رہے ہیں اور قومی توانائی نظام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔






