متنازع پوسٹ پر اتر پردیش کے چیف الیکشن افسر کی عوامی معذرت
اتر پردیش کے چیف الیکشن افسر نے بلیا کی ووٹر لسٹ میں غلطی پر متنازع پوسٹ کی زبان کے لیے معافی مانگ لی، آئندہ محتاط گفتگو کی یقین دہانی کرائی۔
اتر پردیش کے چیف الیکشن افسر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک متنازع پوسٹ کی زبان پر عوامی طور پر معذرت کی ہے۔ یہ معاملہ بلیا میں قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر لسٹ میں ایک نام کی جگہ درج غلط عبارت پر کیے گئے تبصرے سے متعلق ہے۔ پوسٹ میں ذات پات اور فرقہ واریت سے متعلق الفاظ کے استعمال پر سوشل میڈیا صارفین نے سخت اعتراضات کیے تھے۔اطلاعات کے مطابق، بلیا کی ووٹر لسٹ میں ایک ووٹر کے نام کی جگہ ’’رام نے شرما کو مارا‘‘ درج ہوگیا تھا۔ اس غیر معمولی اندراج نے توجہ حاصل کی اور معاملے پر بحث شروع ہوگئی۔
اس غلطی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اتر پردیش کے چیف الیکشن افسر کے سرکاری ایکس ہینڈل سے ایک پوسٹ شیئر کی گئی، جس میں کہا گیا کہ کمپیوٹر یا سافٹ ویئر ذات پرست نہیں ہوتا۔ تاہم، اسی پوسٹ میں اقلیتی برادری کا ذکر کیے جانے کے بعد تنازع مزید بڑھ گیا۔ سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے پوسٹ کی زبان اور اس میں استعمال کیے گئے الفاظ پر سوال اٹھائے۔معاملے پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد چیف الیکشن افسر کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے ایک نیا بیان جاری کیا گیا۔ اس میں سابقہ پوسٹ کی عبارت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے زبان کے لیے معافی مانگی گئی۔
بیان میں یقین دہانی کرائی گئی کہ آئندہ سوشل میڈیا پر گفتگو اور عوامی رابطے کے دوران شائستگی، احتیاط اور سرکاری عہدے کے وقار کا خیال رکھا جائے گا۔ ساتھ ہی مستقبل میں زیادہ مہذب اور رسمی انداز اختیار کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا۔یہ واقعہ انتخابی اداروں کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جاری ہونے والے بیانات میں محتاط زبان کے استعمال کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ایسے اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ حساس معاملات پر غیر جانب دارانہ اور ذمہ دارانہ انداز میں اپنا مؤقف پیش کریں، تاکہ کسی بھی طبقے کے بارے میں غلط فہمی پیدا نہ ہو اور غیر ضروری تنازع سے بچا جاسکے۔فی الحال اس معاملے میں چیف الیکشن افسر کی جانب سے معذرت اور مستقبل میں محتاط طرزِ ابلاغ اپنانے کی یقین دہانی اہم پیش رفت ہے۔






