سیاسی بصیرت

اب فرانس کی آڑ میں

ودود ساجد

ایڈیٹر: روزنامہ انقلاب

ہندوستان کی طرح یوروپی ملک فرانس کی سڑکوں پر بھی پریشان حال طبقات کے شدید مظاہرے جاری ہیں لیکن فرانس کی راجدھانی پیرس سے چھ ہزار اور تین ہزار کلومیٹر دور بیٹھے ہوئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو کے دماغ میں ’مسلم مالیخولیا‘ اٹھ رہا ہے۔ یہ اصطلاح میں نے ہی وضع کی ہے۔
دو اگست 1997 کو میں نے کسی اور ملک کیلئے جاتے ہوئے ایک دن اور ایک شب پیرس میں گزاری تھی۔’ایفل ٹاور‘ کی سیر کے دوران ہندوستان کے ایک ہندو رکن راجیہ سبھا نے مجھے بتایا تھا کہ یہاں فرانس میں بھی دائیں بازو کے سیاسی طبقات مسلم مخالف زہر پھیلا رہے ہیں۔ فرانس میں 1987میں انتخابی مہم کے دوران دائیں بازو کے سیاسی طبقات نے ایک پوسٹر جاری کرکے دعویٰ کیا تھا کہ فرانس اگلے 20 برسوں میں ’اسلامی جمہوریہ‘ بن جائے گا۔ اب ٹرمپ نے یہ دعوی ٰکیا ہے کہ فرانس کا دارالحکومت پیرس جلد ہی ’مسلم شہر‘بن جائے گا۔
اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے بھی مظاہروں کے تناظر میں 20 اکتوبر کو دعویٰ کیا کہ فرانس کو اسلام پسندوں کے حملے کا سامنا ہے۔ غزہ کے 70 ہزار نہتے فلسطینیوں کے اس شرپسند قاتل کو بھی فرانس کے مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد میں مسلمانوں کا ہاتھ نظر آیا۔ دنیا بھر کے امن و امان کو غارت کرنے والے ان دونوں بد دماغ سیاستدانوں نے اپنے ان زہریلے دعووں کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ دونوں ہی اس وقت اپنی اپنی انتخابی مہم میں مصروف ہیں اور دونوں کا ہی سیاسی مستقبل دائو پر لگا ہوا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ہندوستان کے متشدد ذہن رکھنے والے طبقات بھی سوشل میڈیا پر فرانس کے مسلمانوں کو لعن طعن کر رہے ہیں اور وہاں کے دائیں بازو کے انتہاپسندوں کی حمایت کر رہے ہیں۔۔۔
1987میں فرانس کے دائیں بازو کا دعویٰ تھا کہ اگلے 20 برسوں میں فرانس اسلامی جمہوریہ بن جائے گا لیکن آج 39 برس بعد بھی وہاں ایسا نہیں ہوسکا۔ فرانس کی مجموعی آبادی یکم جنوری 2026 کو چھ کروڑ 90 لاکھ 82 ہزار تھی۔ فرانس میں مذہبی بنیاد پر مردم شماری نہیں کی جاتی۔ لہٰذا سرکاری طور پر یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ اس وقت فرانس میں مسلم آبادی کتنی ہے۔ تاہم آبادی کے اعداد و شمار پر نظر رکھنے والے مختلف مقامی اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی آبادی 10 فیصد ہے۔ ایک رپورٹ میں ان کی آبادی 57 سے67 لاکھ کے درمیان بتائی گئی ہے۔
متعدد رپورٹوں میں تجزیہ کیا گیا ہے کہ اگر تارکین وطن کو آنے سے روک دیا جائے تو اگلے 50 برسوں میں مسلمانوں کی کل آبادی محض 12 فیصد تک پہنچے گی۔ اور اگر تارکین وطن کی آمد معمول کے مطابق چلتی رہے اور فرانس کی حکومت ‘ ڈونالڈ ٹرمپ اور نتن یاہو کے اس مشورہ کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دے کہ تارکین وطن پر فوری طور پر پابندی عاید کردی جائے تب بھی فرانس میں مسلمانوں کی آبادی اگلے 50 برسوں میں 17 فیصد تک ہی پہنچے گی۔ کیا اس آبادی کے ساتھ فرانس ’اسلامی جمہوریہ‘ بن سکتا ہے؟ یا کیا فرانس کا دارالحکومت پیرس ’مسلم شہر‘ بن سکتا ہے؟ ۔
اس وقت فرانس میں معتدل خیالات کی حامی جماعتوں کی حکومت ہے۔ صدر میکرون اور ان کے دیگر وزراء نے ٹرمپ اور یا ہو کے الزامات کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ مظاہروں اور ان میں ہونے والے تشدد کے واقعات کا تارکین وطن یا مسلمانوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ تشدد کرنے والے غنڈے اور لٹیرے ہیں اور ان سے اسی طرح نپٹا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ ٹرمپ کے ’مسلم شہر‘ والے بیان کو اسکولوں کے ٹیچرس اور اسٹوڈینٹس نے بھی مسترد کردیا ہے۔
19اکتوبر کو ٹرمپ نے وہائٹ ہائوس میں کہا تھا کہ’’ اگر یوروپ اپنی سرحدوں کو بند کرکے جرائم پیشہ افراد کو باہر نہیں کرتا تو پھر یوروپ ختم ہوجائے گا‘‘۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر آپ فرانس اور اٹلی کو دیکھیں اور ان تمام افراتفری اور تشدد کے واقعات کو دیکھیں تو یہ اسکولوں یا دوسرے سماجی مسائل کی وجہ سے نہیں ہے‘ یہ ان تارکین وطن کی وجہ سے ہے جو ان ملکوں سے آتے ہیں جو فرانس اور اٹلی سے نفرت کرتے ہیں۔ اس پر فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے بیان جاری کرکے کہا کہ اس طرح کے بیانات انتہائی احمقانہ ہیں۔ میکرون نے قطر کے دورہ کے دوران دوحہ میں کہا کہ یہ کہنا انتہائی مضحکہ خیز اور بے بنیاد ہے کہ فرانس کے فسادات کے پیچھے کوئی بیرونی ہاتھ ہے۔انہوں نے سعودی عرب کا بھی دورہ کیا اور ٹرمپ اور نتن یاہو کے شرپسندانہ بیانات کو مسترد کردیا ۔
الجزیرہ کی صحافی ’پیٹرو مارچی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے 17 سالہ اسٹوڈینٹ ’بلال نرجسی‘ نے ٹرمپ اور نتن یاہو کے بارے میں کہا کہ’’ وہ جو چاہیں کہہ سکتے ہیں‘ ہم تو اس وقت صرف کلیدی موضوع پر توجہ دے رہے ہیں اور وہ اسٹوڈینٹس کے مطالبات ہیں۔ ‘‘ اس نے مزید کہا کہ اس طرح کی باتیں دنیا بھر کے دائیں بازو کے لوگ کرتے ہیں‘ ان کی سیاست انہی بے ہودہ خیالات اور خوف و دہشت پھیلانے پر ہی ٹکی ہوئی ہے۔
یوروپی ملکوں کے مرکز برائے سیاسیات ’ایمانوئیل ڈوپیوئی‘ نے کہا کہ ٹرمپ کو فقط اپنے الیکشن کی فکر ہے‘ وہ امریکی ووٹروں کو ایک پیغام دے رہے ہیں کہ تارکین وطن مسلمان ان کیلئے خطرہ ہیں اور اسی وجہ سے وہ اس طرح کے بے ہودہ بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹرمپ کے مصنوعی دلائل ہیں جو وسط مدتی انتخابات کو ذہن میں رکھ کر دئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ اسرائیل میں عام انتخابات 27 اکتوبر کو اور امریکہ میں وسط مدتی انتخابات 7 نومبر کو ہو رہے ہیں۔ دونوں کاسیاسی مستقبل خطرہ میں ہے لہذا دونوں کو ’اسلامو فوبیا‘ ستا رہا ہے۔
فرانس ایک ترقی یافتہ یوروپی ملک ہے۔ لیکن وہاں ایک عرصہ سے جاری مساوات کی پالیسی میں وقت کے ساتھ تبدیلی ہوتی رہی اور آخر کار اب وہاں سماجی مسائل کا انبار ہوگیا ہے۔ معاشرہ میں عدم مساوات عروج پر ہے۔ حکومت نے فلاحی اسکیموں پر ہونے والا خرچ کم کردیا ہے۔ لہذا بہت سے شعبوں کا بجٹ گھٹ گیا ہے۔ یہ سن کر حیرت ہوتی ہے کہ فرانس جیسے ملک میں ہائی اسکولوں کی حالت زار بھی عروج پر ہے اور ان اسکولوں کو اساتذہ اور انفرااسٹرکچر کی زبردست قلت کا سامنا ہے۔ یہاں تک کہ بعض اسکولوں میں بیت الخلا تک ڈھنگ کے نہیں ہیں۔ کلاس روم خستہ حالی کا شکار ہیں۔
معاشرہ میں بے چینی اسی طرح کے مسائل کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ جب سیاسی جماعتوں کو ہر قیمت پر اقتدار مطلوب ہوتا ہے تو عوامی مسائل کی انہیں کوئی فکر نہیں ہوتی۔ ایسے میں متاثرین کو اگر کوئی معمولی سی بھی قیادت مل جاتی ہے تو صدائے احتجاج کو پَر لگ جاتے ہیں۔فرانس میں بھی یہی ہوا۔ وہاں مظاہروں کی ابتدا 17 ستمبر کو پیرس کے شمال مشرقی نواحی علاقہ’کریٹیل‘ کے ایک اسکول سے ہوئی تھی۔ مظاہرہ ٹیچرس اور انفرااسٹرکچر کی قلت اور دوسری ضروری سہولتوں کے فقدان کے خلاف خود ٹیچرس نے ہی شروع کیا تھا۔ ایک ٹیچر نے آواز اٹھائی تو ہزاروں اسٹوڈینٹ بھی سراپا احتجاج بن گئے۔
فرانس میں اب تک دو ہزار سے زائد افراد گرفتار ہوچکے ہیں۔رپورٹیں بتاتی ہیں کہ ایک قصبہ سے ستمبر میں شروع ہونے والا احتجاج پورے ملک میں پھیل گیا ہے اور اب تک آٹھ لاکھ لوگ سڑکوں پر آچکے ہیں۔ان مظاہروں میں بھی وہی ہوا جو دوسرے ملکوں میں بھی ہوتا ہے۔ امن پسند مظاہرین کے ساتھ شرپسند بھی شامل ہوگئے اور انہوں نے لوٹ پاٹ اور آگ زنی کے ذریعہ ملک بھر میں افراتفری پھیلادی۔
ہندوستان میں بھی مختلف مسائل کے تعلق سے ملک کے تمام طبقات نے آواز اٹھائی۔ شرپسندوں نے ان مظاہروں کو بیرونی طاقتوں اور مسلمانوں سے جوڑنے کی کوشش کی لیکن سرتاپا احتجاج بن جانے والی نئی نسل نے اس شرپسندی کو بیک آواز مسترد کردیا۔ اگر پچھلی کم و بیش دو دہائیوں سے دنیا کے بڑے حصہ پر قوم پرستی کی آڑ میں انتہائی سخت گیر طبقات کا تسلط ہے تو اب یہ تسلط چرمرا رہا ہے۔ نئی نسل اپنے مسائل کے تعلق سے ایک واضح فکر رکھتی ہے۔ ان مسائل سے نپٹنے کیلئے اسے تمام طبقات کی تائید درکار ہے۔ ہر قیمت پر اقتدار پر تسلط رکھنے والوں کا اصل مقصد وہ پہچان گئی ہے۔ لہذا اب اس پر ’اسلاموفوبیا‘ کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے۔ دیر سویر ہر جابر کو اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔ ایسا نہیں ہے کہ فرانس میں مسلمانوں کو دائیں بازو کی عصبیت کا سامنا نہیں ہے۔ لیکن وہاں کا عمومی معاشرہ مسلمانوں کو قبول کرچکا ہے۔
فرانس میں 57-67 لاکھ مسلمانوں کیلئے دو ہزار 670 مسجدیں ہیں۔ پیرس اور اس کے مضافات میں ہی 462 مساجد ہیں۔ لیکن دوسرے ملکوں میں آباد شرپسندوں کو فرانسیسی مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو دیکھ کر درد اٹھتا ہے۔ تفصیل کا موقع نہیں ہے لیکن بعض بین الاقوامی قلم کاروں نے ثابت کیا ہے کہ فرانس اور ہندوستان کے دائیں بازو کے طبقات کا باہمی ربط ہے۔ صحافی ’نچیکیٹ ڈیوسکر‘ نے جون 2023 میں فرانسیسی پولیس کے ہاتھوں 17 سالہ ’ناہل مرزوق‘ کی ہلاکت کے بعد ہو نے والے احتجاج کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض ہندوتوا حامی سوشل میڈیا اکائونٹس نے فرانس کے دائیں بازو کے طبقات کی حمایت کی اور مظاہرین کو سختی کے ساتھ کچلنے کی اپیل کی۔
ایک اور میڈیا ہائوس نے ہندوستان اور فرانس کے سخت گیر طبقات کے درمیان مکالموں اور دونوں ملکوں میں ان کے دوروں کی تفصیلات شائع کی ہیں۔ فرانس میں دائیں بازو کے لوگ مسلسل اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مظاہرے کرتے رہتے ہیں۔جون 2024 میں انہوں نے ’لیون‘ میں مسلمانوں کے خلاف مظاہرے کئے تھے۔ دی گارجین نے لکھا تھا کہ فرانس کے مسلمان مسلسل خوف و دہشت میں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اب ان کے لباس اور ان کی شناخت کو نشانہ بنایا جائے گا۔ مسلمانوں کے خلاف اس مہم کا نتیجہ یہ ہوا کہ اپریل 2026 میں ان کے سالانہ اجتماع پر پابندی لگادی گئی۔ مختلف بین الاقوامی اخبارات نے حکومت فرانس کے حوالہ سے لکھا کہ مسلمانوں کے اجتماع پر اس خوف سے پابندی لگائی گئی ہے کہ کہیں شرپسند اور دائیں بازو کے گروپ ان کے اجتماع میں دہشت گردانہ حملے نہ کردیں۔
بہرحال اب دنیا بھر کے مظاہرین کو ادراک ہوگیا ہے کہ انتہا پسند‘ شرپسند اور دائیں بازوکے افکار کی جماعتیں محض اقتدار حاصل کرنے یا اپنے اقتدار کو بچانے کی خاطر اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے خوف پھیلاتی ہیں۔ اب اس نئی صورتحال کا اثر قدرے معتدل حکومتوں پر بھی ہونے لگا ہے۔ فرانس میں احتجاج کو تارکین وطن اور اسلام پسندوں سے جوڑنے کے دعووں کو فرانس کے صدر میکرون نے نہ صرف حقارت کے ساتھ مسترد کردیا بلکہ اسی دوران وہ سعودی عرب اور قطر کے اچانک دورہ پر بھی چلے گئے۔
یاد رکھئے کہ فرانس بھی ان ممالک میں شامل ہے جو اسرائیل کو ہر سطح پر مدد کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب شرپسندوں اور قاتلوں کی حالت یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو مطعون کرکے اپنے ملکوں میں انتخابات جیتنا چاہتے ہیں لیکن فرانس کے صدر ان کے بیان اور ان کی خواہشوں کو حقارت کے ساتھ جھٹک رہے ہیں۔ وقت اسی طرح بدلتا ہے۔ دنیا بھر کے ان شرپسندوں کا وقت بھی اسی طرح بدلے گا اور تاریخ انہیں اپنے کوڑے دان میں بھی جگہ نہیں دے گی۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سیاسی بصیرت

ٹی ایم سی رائے گنج لوک سبھا الیکشن کیوں نہیں جیت پاتی؟

تحریر: محمد شہباز عالم مصباحی رائے گنج لوک سبھا حلقہ مغربی بنگال کی ایک اہم نشست ہے جس کی سیاسی
سیاسی بصیرت

مغربی بنگال میں کیا کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے؟

محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال مغربی بنگال، جو ہندوستان کی سیاست میں