کیا جامعہ میں طلبہ یونین کی ضرورت ہے؟
غلام علی اخضر
یہ ایک ایسا پیچیدہ سوال ہے جس کا جواب چند لفظوں میں دینا ممکن نہیں۔ خود جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ تین دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو جامعہ میں طلبہ یونین نہیں چاہتا۔ اس کا نظریہ ہے کہ یونین کے قیام سے یہاں آپسی تفرقہ بڑھے گا اور طلبہ علاقائی بنیادوں پر تقسیم ہو جائیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جامعہ کا ماحول جے این یو یا دہلی یونیورسٹی جیسا نہیں ہے، بلکہ یہاں کا کیمپس بھی چھوٹا ہے۔ ایسے میں جب بھی کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے گا تو پڑھائی کا نظام بری طرح متاثر ہوگا، کیوں کہ یہاں لائبریری سے لے کر کیمپس میں داخلے تک کے راستے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔مثال کے طور پر حال ہی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سرسید ڈے کے موقع پر اعظم گڑھ اور مرادآباد سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے گروہوں کے درمیان لڑائی کی خبریں سامنے آئیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق فائرنگ بھی ہوئی۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ علی گڑھ میں اس طرح کے واقعات اب عام ہوتے جا رہے ہیں، جہاں علاقائی گروہ بندی کی وجہ سے اکثر ہنگامے ہوتے رہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ جامعہ میں بھی ایسی صورتِ حال پیدا ہو۔ ان کے مطابق بڑے کیمپس میں اگر کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اس کا اثر عموماً ایک محدود حصے تک رہتا ہے، جب کہ جامعہ جیسے چھوٹے کیمپس میں معمولاتِ زندگی اور تعلیمی سرگرمیاں زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں۔
دوسرا طبقہ ان طلبہ کا ہے جو تذبذب کا شکار ہے۔ ایک طرف انھیں لگتا ہے کہ طلبہ یونین نہ ہونے کی وجہ سے جامعہ انتظامیہ لاپروائی برتتی ہے، اس لیے یونین کا قیام ضروری ہے، لیکن دوسری طرف انھیں یہ خدشہ بھی ہے کہ کہیں فائدے سے زیادہ نقصان نہ ہو جائے۔ جیسے ایک طالب علم سے معلوم ہوا کہ چانسلر سے ملاقات کے لیے وفد کی تشکیل کے معاملے میں تین مرتبہ لڑائی کی نوبت آ گئی۔ یہ بھی سننے میں آیا کہ ابھی سے ہریانوی، بہاری اور یوپی جیسے علاقائی حوالوں سے گروہ بندی شروع ہو گئی ہے اور موبائل فون پر مختلف گروپ بھی بننے لگے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ابھی سے یہ صورتِ حال ہے تو باقاعدہ انتخابات کے بعد کیا ہوگا؟
تیسرا طبقہ ان طلبہ کا ہے جو ہر حال میں جامعہ میں طلبہ یونین کا قیام چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ کے حقوق کی بازیابی یونین کے ذریعے ہی ممکن ہے، کیوں کہ انتظامیہ کی لاپروائی حد سے تجاوز کر چکی ہے۔ دفتری کاموں میں غیر معمولی تاخیر ہوتی ہے، ریسرچ کے طلبہ کو نان نیٹ فیلوشپ کئی کئی مہینوں تک نہیں مل رہی ہے،جامعہ جب چاہتی ہے فیس بڑھا دیتی ہے، مرکزی لائبریری کی لفٹ برسوں سے بند پڑی ہے، لیکن انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ طالبات کے ہاسٹلوں میں بھی معمولی معمولی باتوں پر وارڈن وغیرہ کی جانب سے شوکاز نوٹس بھجوا کر پریشان کیے جانے کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ جامعہ میں کئی نئے کورسز شروع کرنے کی ضرورت ہے، لیکن انتظامیہ اس طرف بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہی ہے۔
یونین کے حامیوں کا سوال ہے کہ جب ملک کی تقریباً ہر بڑی یونیورسٹی میں طلبہ یونین موجود ہے تو پھر جامعہ میں کیوں نہیں؟ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ انتخابات کے نتیجے میں بیرونی یا علاقائی سیاست داخل ہو جائے گی،جس کی شروعات ہوبھی شکی ہے؛ ان کے جواب میں ان کا کہنا ہے کہ اب جامعہ ماضی کی طرح محدود نہیں رہی، بلکہ بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ یہاں کے طلبہ میں سیاسی شعور ہے اور وہ اپنے مسائل کو سمجھتے ہیں۔ لیکن مخالفین کا کہنا ہے کہ جامعہ چاروں طرف سے آبادیوں میں گھری ہوئی ہے، اس لیے انتخابات کی صورت میں بیرونی مداخلت کو روکنا مشکل ہوگا۔ ان کے مطابق انتخابات ہوتے ہیں تو علاقائی گروہ بندی اور سیاسی جماعتوں کی مداخلت کا خدشہ حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔
اس طرح طلبہ تین مختلف نظریات میں بٹے ہوئے ہیں اور سب اپنی اپنی جگہ تذبذب کا شکار ہیں۔ بعض طلبہ تو محض چند گھنٹوں کی تفریح کے لیے بھی احتجاج کا حصہ بن جاتے ہیں۔ چند طلبہ سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ وہ صرف اس لیے یہاں آتے ہیں کہ یہاں رونق ہوتی ہے اور مزہ آتا ہے، ورنہ وہ خود بھی یونین کے حق میں نہیں ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ احتجاج میں موجود ہر طالب علم کسی ایک مطالبے کا سنجیدہ حامی نہیں ہے۔ان تمام نظریات کو اپنی اپنی جگہ اہمیت حاصل ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کیا ہونا چاہیے؟ وہ کون سا راستہ ہے جو جامعہ اور اس کے طلبہ کے لیے بہتر ثابت ہو؟ جامعہ برادری اور انتظامیہ کو اس معاملے پر جلد کوئی مضبوط قدم اٹھانا چاہیے، اور وہ بھی کسی نظریاتی تنظیم کے دباؤ میں آئے بغیر۔ کیوں کہ یہ احتجاج جتنا طویل ہوگا، اس میں اتنی ہی زیادہ بدنظمی پیدا ہونے اور بیرونی مداخلت بڑھنے کا اندیشہ رہے گا۔ اگر بروقت کوئی حل نہیں نکالا گیا تو صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
بعض دانش وروں کی رائے ہے کہ ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ تمام کلاسوں کے مانیٹروں پر مشتمل ایک کونسل تشکیل دی جائے اور اسی کونسل کے ذریعے طلبہ یونین کا لیڈر منتخب کر لیا جائے۔ اس طرح طلبہ کو نمائندگی بھی مل جائے گی اور براہِ راست انتخابی سیاست کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بعض پیچیدگیوں سے بھی بچا جا سکے گا۔ لیکن اس تجویز پر جامعہ کے تمام متعلقہ فریقوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، تاکہ ایسا نظام تشکیل دیا جا سکے جو طلبہ کی حقیقی نمائندگی کرے اور ان کے مسائل کو مؤثر انداز میں انتظامیہ تک پہنچائے۔اگر جامعہ برادری اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو مشکلات دن بہ دن بڑھتی جائیں گی۔ جامعہ کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کے طلبہ کے اندر احتجاج اور مزاحمت کا جذبہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ این آر سی کے خلاف ہونے والے احتجاج کو کون بھول سکتا ہے، جس نے حکومت کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی تھی؟ جامعہ سے اٹھنے والی آواز شاہین باغ پہنچی اور پھر پورے ملک میں پھیل گئی۔ شاہین باغ اس احتجاج کی پہچان بن گیا اور اس پر عالمی سطح پر گفتگو ہونے لگی۔
دراصل جامعہ کی بنیاد ہی جدوجہد اور آزادی کے جذبے پر رکھی گئی ہے۔ علی گڑھ سے نکل کر جامعہ ملک کی آزادی کی تحریک کا ایک اہم مرکز بنی اور اس نے تعلیم کے ساتھ قومی بیداری میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جامعہ کی فضا میں آزادیِ فکر اور حق گوئی کا جذبہ رچا بسا ہے۔ یہاں کے طلبہ کو غلامی کبھی راس نہیں آئی، کیوں کہ اس کی حرکت و عمل میں آزادی کا تصور شامل ہے اور ٹھہراؤ اسے گوارا نہیں۔
اب ذرا جامعہ یونین کے احتجاج میں بلند ہون اور پوسٹروں میں لکھے جانے والے نعروں پر بھی غور کیجیے کہ ان کی آواز کن بزرگوں کی یاد دلاتی ہے:
جذبوں کی حرارت زندہ ہے، گاندھی کی صداقت زندہ ہے، محمود کی بصیرت زندہ ہے، جوہر کی شجاعت زندہ ہے، خواجہ کی قیادت زندہ ہے، آزاد کی عظمت زندہ ہے، ذاکر کی ذکاوت زندہ ہے، اجمل کی ہمت زندہ ہے، طلبہ کی اخوت زندہ ہے، وطن سے محبت زندہ ہے، جامعہ سے عقیدت زندہ ہے۔لڑو جامعہ زندہ باد ، پڑھوجامعہ زندہ باد!
یہ نعرے محض ماضی کی شخصیات کو یاد کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ اس روایت سے وابستگی کا اظہار بھی ہیں جس میں آزادی، خودداری اور حق کے لیے آواز بلند کرنے کو اہمیت حاصل رہی ہے۔اب جامعہ انتظامیہ کے کاندھوں پر ایک بڑی ذمے داری آن پڑی ہے کہ وہ اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرے، طلبہ کو اعتماد میں لے اور ایسا نتیجہ سامنے لائے جو جامعہ کے تعلیمی ماحول اور طلبہ کے حقوق، دونوں کے لیے بہتر ہو۔ طلبہ کو بھی چاہیے کہ وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے جامعہ کے تقدس کو ٹھیس پہنچے اور بعد میں پچھتانا ہو۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اختلافات کو ضد اور انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے باہمی مشاورت سے حل تلاش کیا جائے۔میں اپنی بات گلستانِ غالب کے آغوش میں بسے اس احتجاجی جلسے کے احاطے میں لگے ایک پوسٹر پر درج غالب کے اس شعر پر ختم کرتا ہوں:
غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوشِ اشک سے
بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوئے






