موہن بھاگوت کے خطاب پرمودی کابڑاردعمل،آرایس ایس کی جم کر تعریف
وزیراعظم مودی نے موہن بھاگوت کے خطاب کو متاثر کن قرار دیا، قومی ترقی، سماجی اتحاد اور خود انحصاری پر زور دیا۔
ناگپور: بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے وجے دشمی کے موقع پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے خطاب کو متاثر کن قرار دیتے ہوئے قومی ترقی، سماجی ہم آہنگی اور خود انحصاری کے پیغام کو سراہا ہے۔ یہ خطاب تنظیم کے قیام کے 101 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے ناگپور میں منعقدہ تقریب کے دوران کیا گیا۔وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ موہن بھاگوت نے اپنے خطاب میں ملک کی ترقی، معاشرتی اتحاد، خود کفالت کی اہمیت اور سماج کے کردار کو مضبوط بنانے جیسے اہم موضوعات پر اظہار خیال کیا۔
مودی کے مطابق، آر ایس ایس سربراہ نے خدمت کے جذبے اور قومی تعمیر کے لیے عزم کو خصوصی اہمیت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدار تنظیم کے ہر رضاکار کی زندگی کا لازمی حصہ ہیں اور سماج کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔وزیراعظم نے بھاگوت کے خطاب میں بیان کیے گئے ’پنچ پریورتن‘ کے تصور کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، اس نظریے کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانے اور سماجی ذمہ داریوں کو فروغ دینے کے امکانات پر روشنی ڈالی گئی۔
ایک اور پیغام میں نریندر مودی نے آر ایس ایس کے یومِ تاسیس پر تنظیم کے تمام رضاکاروں کو مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ بے شمار رضاکار اپنی محنت، فرض شناسی اور ملک کو اولین ترجیح دینے کے جذبے کے ساتھ سماجی بہتری کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ جذبہ مستقبل میں بھی بھارت کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔واضح رہے کہ وجے دشمی کے موقع پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے اپنے خطاب میں مختلف قومی اور سماجی امور پر بات کی تھی۔ انہوں نے بھارت میں اقتدار کی تبدیلی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے ان قوتوں پر تنقید کی جو موجودہ نظام کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔تنظیم کے قیام کی 101ویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والی اس تقریب میں قومی یکجہتی، سماجی ذمہ داری اور ملک کی ترقی سے متعلق موضوعات نمایاں رہے۔ وزیراعظم کے ردعمل کو بھاگوت کے خطاب میں پیش کیے گئے خیالات کی تائید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔






