سیاسی بصیرت

جامعہ ملیہ اسلامیہ: تاریخ کی پکار اور صدرِ جمہوریہ کی ذمہ داری

شعیب رضا فاطمی

کچھ ادارے محض اینٹ، پتھر اور عمارتوں کا مجموعہ نہیں ہوتے، وہ ایک عہد کے خواب، ایک قوم کی جدوجہد اور تاریخ کے روشن ابواب کی علامت ہوتے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ بھی ایسا ہی ایک ادارہ ہے، جس کی بنیاد میں آزادی کا جذبہ، قومی خودداری کا احساس اور علم کے ذریعے سماج کی تعمیر کا عزم شامل ہے۔ افسوس کہ آج اسی تاریخی جامعہ کے طلبا اپنے جمہوری حق کے لیے جس کشمکش سے گزر رہے ہیں، وہ ہر درد مند ہندوستانی کو بے چین کرنے کے لیے کافی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پیدائش کسی سرکاری حکم نامے یا اقتدار کی عنایت سے نہیں ہوئی تھی۔ اس کا جنم 1920 میں تحریکِ عدم تعاون کے اس تاریخی ماحول میں ہوا، جب مہاتما گاندھی نے ہندوستانیوں سے غلامی کے اداروں کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی۔ اس اپیل پر لبیک کہتے ہوئے مسلم دانشوروں، علما، مجاہدینِ آزادی اور قومی رہنماؤں نے ایک ایسی دانش گاہ کی بنیاد رکھی، جو انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہندوستان کے خواب کو علم و شعور کی روشنی میں حقیقت بنانے کا وسیلہ بن سکے۔
شیخ الہند مولانا محمود حسن، مولانا محمد علی جوہر، حکیم اجمل خاں، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، عبدالمجید خواجہ اور ان کے رفقا نے جس ادارے کی آبیاری کی، اس کے پیچھے صرف تعلیم کا حصول نہیں، بلکہ ایک آزاد، خوددار اور روشن خیال قوم کی تعمیر کا تصور بھی کارفرما تھا۔ جامعہ نے مالی بحران دیکھے، وسائل کی کمی برداشت کی اور بقا کے لیے آزمائشوں کا سامنا کیا، لیکن اس کے بانیوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ مہاتما گاندھی نے تو اس کے تحفظ کے لیے کاسۂ گدائی لے کر نکلنے تک کا عزم ظاہر کیا تھا۔ یہ وہ تاریخ ہے جس پر جامعہ ہی نہیں، پورے ہندوستان کو فخر ہونا چاہیے۔لیکن آج اسی جامعہ کے طلبا اپنی منتخب نمائندہ یونین کی بحالی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ تقریباً دو دہائیوں سے طلبا یونین کے انتخابات نہیں ہوئے۔ طلبا کا مطالبہ ہے کہ انہیں اپنی قیادت منتخب کرنے کا حق دیا جائے، اپنی آواز بلند کرنے کے لیے ایک جمہوری پلیٹ فارم فراہم کیا جائے اور انتظامیہ کے سامنے اپنے مسائل رکھنے کا باقاعدہ راستہ کھولا جائے۔
کیا یہ کوئی ایسا مطالبہ ہے جسے ملک کی ایک مرکزی یونیورسٹی کے طلبا کے لیے ناقابلِ قبول قرار دیا جائے؟
طلبا یونین کے انتخابات پر انتظامیہ کے اپنے دلائل ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں تشدد یا تعلیمی ماحول متاثر ہونے کے خدشات بھی زیرِ بحث آ سکتے ہیں، لیکن کیا ان خدشات کا واحد حل یہ ہے کہ طلبا کو برسوں تک ان کے منتخب نمائندوں سے محروم رکھا جائے؟ کیا نظم و ضبط اور جمہوریت ایک دوسرے کے مخالف ہیں؟ اور اگر کسی ادارے میں اختلافات پیدا ہوں تو کیا ان کا جواب مکالمے کے بجائے طاقت، پابندیوں اور تادیبی کارروائیوں سے دیا جانا چاہیے؟ حالیہ احتجاج کے دوران طلبا نے سخت کارروائیوں، معطلیوں، اخراج اور کیمپس میں داخلے پر پابندیوں کی شکایت کی۔ بعض طلبا نے بھوک ہڑتال کا راستہ اختیار کیا۔ ان واقعات نے جامعہ کے تعلیمی ماحول اور انتظامیہ و طلبا کے درمیان اعتماد کے رشتے کو گہرا نقصان پہنچایا ہے۔ اب انتظامیہ نے انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے اور بعض تادیبی نوٹس واپس لینے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس اعلان کو عملی شکل دینے، تمام متعلقہ فریقوں کے خدشات دور کرنے اور اعتماد بحال کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات بھی کیے جائیں گے؟ جامعہ کے طلبا محض حاضری لگانے، امتحان دینے اور ڈگری حاصل کرنے والی مشینیں نہیں ہیں۔ وہ اس ملک کا مستقبل ہیں۔ ان میں سے کوئی کل استاد بنے گا، کوئی سائنس داں، کوئی صحافی، کوئی وکیل اور کوئی سیاست دان۔ ان کے اندر سوال کرنے، اختلاف کرنے اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے کی صلاحیت کو کچل کر ہم کیسا ہندوستان تعمیر کرنا چاہتے ہیں؟ ایک ایسا ہندوستان جہاں نوجوان صرف حکم کی تعمیل کریں، یا ایسا ہندوستان جہاں وہ دلیل سے بات کریں، اختلاف کا حوصلہ رکھیں اور جمہوری اقدار کا احترام کرنا سیکھیں؟
جامعہ کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اختلاف اور مزاحمت اس کی روح سے اجنبی نہیں رہے۔ جس ادارے نے نوآبادیاتی اقتدار کے خلاف اپنے وجود کا اعلان کیا تھا، اس کے طلبا کی آواز کو آج محض انتظامی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یونیورسٹی کا وقار صرف اس کی عمارتوں، ڈگریوں، تحقیقی مقالات یا درجہ بندی سے نہیں بنتا، اس کا اصل وقار اس ماحول سے تشکیل پاتا ہے جہاں طالب علم خوف کے بغیر سوال کر سکے اور انتظامیہ اختلاف کو دشمنی نہ سمجھے۔اس صورتِ حال میں صدرِ جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو سے ہماری مؤدبانہ مگر پُرزور اپیل ہے کہ وہ اس تاریخی جامعہ کی جانب خصوصی توجہ فرمائیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک مرکزی یونیورسٹی ہے اور صدرِ جمہوریہ اس کی وزیٹر ہیں۔ یہ حیثیت انہیں اس ادارے کے تعلیمی ماحول، انتظامی معاملات اور اس کے بنیادی مقاصد کے تحفظ کے سلسلے میں خصوصی توجہ دینے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
محترمہ صدر، آپ ملک کے اعلیٰ ترین آئینی منصب پر فائز ہیں۔ آپ سے یہ توقع بے جا نہیں کہ آپ اس ادارے کے طلبا کی آواز سنیں گی، انتظامیہ سے جواب طلب کریں گی اور تمام فریقوں کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے مناسب پہل کی حوصلہ افزائی کریں گی۔ یہ مداخلت کسی ایک فریق کی حمایت نہیں ہوگی، بلکہ اس تعلیمی ادارے کے وقار، جمہوری اقدار اور نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ کی کوشش ہوگی۔
ہمیں نہیں معلوم کہ اب تک اس معاملے پر صدرِ جمہوریہ کی توجہ کیوں نہیں گئی، یا حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ نے اس بحران کو کس نظر سے دیکھا ہے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ جب ایک تاریخی ادارے کے طلبا اپنے حق کی آواز بلند کرتے ہوئے بھوک ہڑتال تک پہنچ جائیں اور انتظامیہ و طلبا کے درمیان بداعتمادی کی خلیج وسیع ہونے لگے تو خاموشی مسئلے کا حل نہیں رہتی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کو کسی سیاسی کشمکش کا میدان نہیں، علم و تحقیق، مکالمے اور آزاد فکر کی آماج گاہ ہونا چاہیے۔ انتظامیہ کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ طلبا کے مطالبات سن لینا اس کی کمزوری نہیں، بلکہ ادارہ جاتی بلوغت کی علامت ہے۔ اسی طرح طلبا کے لیے بھی ضروری ہے کہ احتجاج کو تعلیمی نقصان کا سبب بننے سے بچاتے ہوئے مکالمے کے تمام امکانات کو بروئے کار لائیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جامعہ کے زخموں پر مرہم رکھا جائے، خوف کی جگہ اعتماد، کشیدگی کی جگہ مکالمہ اور پابندیوں کی جگہ اصول و ضوابط کے مطابق جمہوری عمل کو فروغ دیا جائے۔ انتخابات کے اعلان کو محض ایک انتظامی بیان بن کر نہیں رہنا چاہیے، اسے ایک واضح، شفاف اور قابلِ عمل انتخابی نظام کی صورت اختیار کرنی چاہیے۔تاریخ اپنے معماروں کو یاد رکھتی ہے، لیکن وہ ان لوگوں سے بھی سوال کرتی ہے جنہیں اس تاریخ کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ جامعہ کے بانیوں نے جس چراغ کو اپنی قربانیوں سے روشن کیا تھا، اسے آج بے اعتمادی اور کشمکش کی آندھیاں بجھانے نہ پائیں۔
محترمہ صدرِ جمہوریہ! جامعہ ملیہ اسلامیہ کی سدھ لیجیے۔ اس کی عمارتوں ہی نہیں، اس کی روح کی خبر بھی لیجیے۔ اس کے طلبا کی آواز سنیے، انتظامیہ کو اعتماد کی فضا بحال کرنے کی ترغیب دیجیے اور اس تاریخی دانش گاہ کو ایک بار پھر اس کے حقیقی مقصد کی طرف لوٹنے میں مدد دیجیے۔یہ صرف جامعہ کے طلبا کی فریاد نہیں، ہندوستان کی اس جمہوری روایت کی پکار ہے جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی تھیں۔ اس پکار کو سننا آج بھی ممکن ہے،کیونکہ کل تاریخ کے سامنے اس کا جواب آپ کو ہی دینا پڑیگا ۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سیاسی بصیرت

ٹی ایم سی رائے گنج لوک سبھا الیکشن کیوں نہیں جیت پاتی؟

تحریر: محمد شہباز عالم مصباحی رائے گنج لوک سبھا حلقہ مغربی بنگال کی ایک اہم نشست ہے جس کی سیاسی
سیاسی بصیرت

مغربی بنگال میں کیا کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے؟

محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال مغربی بنگال، جو ہندوستان کی سیاست میں