سیاسی بصیرت

وعدوں اور یقین دہانیوں کی منڈی کا ایک سستا مال بن گیا بنکر

جاوید اختر بھارتی

بنکر صرف کپڑا نہیں بنتا ہے بلکہ وہ اپنی محنت، اپنے پسینے اور اپنے خوابوں سے ایک خاندان کی زندگی بناتا ہے۔ اس کے ہاتھ کرگھے پر چلتے ہیں تو ایک خوبصورت ساڑی، کپڑا یا دستکاری کا نمونہ وجود میں آتا ہے، لیکن افسوس کہ اسی محنت کش بنکر کی اپنی زندگی آج بھی مسائل کے الجھے ہوئے دھاگوں میں پھنسی ہوئی ہے۔سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بنکر کے مسائل نئے نہیں ہیں۔ بجلی کا مسئلہ ہو، اجرت کا مسئلہ ہو، روزگار کا مسئلہ ہو، سرکاری سہولتوں کا سوال ہو یا اس کی محنت کی مناسب قیمت کا معاملہ ہر دور میں بنکر کو وعدے ملے، یقین دہانیاں ملیں، میٹنگیں ملیں، بیانات ملے، مگر اپنے مسائل کا مستقل حل کم ہی ملا۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وعدوں اور یقین دہانیوں کی ایک ایسی منڈی قائم ہے جہاں سب کچھ مہنگا ہے، مگر بنکر سب سے سستا مال ہے۔جب بنکر اپنے مسائل لے کر کسی دفتر کے دروازے پر پہنچتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ معاملہ حکومت کے علم میں ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ کمیٹی بنے گی، کبھی کہا جاتا ہے کہ نمائندوں سے بات ہوگی، کبھی یقین دلایا جاتا ہے کہ جلد فیصلہ ہوگا۔ بنکر امید لے کر واپس آتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہی مسئلہ دوبارہ اس کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔
یہاں سوال صرف حکومت سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے بھی ہے جو بنکروں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔
بنکروں کے نام پر میٹنگیں ہوتی ہیں، وفود جاتے ہیں، تصویریں بنتی ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر کامیابی کے دعوے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن عام بنکر کے گھر میں جب بجلی کا بل، بچوں کی فیس، راشن کا خرچ اور روزمرہ زندگی کی ضروریات سامنے آتی ہیں تو اسے ان تصویروں اور دعووں سے کیا حاصل ہوتا ہے؟
بنکر کو تصویر نہیں، اپنے مسئلے کا حل چاہیے۔
بنکر کو وعدہ نہیں، واضح فیصلہ چاہیے۔
بنکر کو یقین دہانی نہیں، اپنے حق کا عملی نتیجہ چاہیے۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بنکر کی محنت کی قیمت طے کرنے والے بہت ہیں، مگر اس محنت کی حقیقی قدر سمجھنے والے کم ہیں۔ ہینڈ لوم و پاور لوم پر کھڑا اور بیٹھا ہوا شخص گھنٹوں محنت کرتا ہے۔ اس کی آنکھیں تھکتی ہیں، ہاتھ تھکتے ہیں، جسم تھکتا ہے، مگر اس کی اجرت کے معاملے میں اکثر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔
کیا بنکر کی محنت اتنی سستی ہے کہ ہر بحران کا بوجھ اسی کے کندھوں پر ڈال دیا جائے؟
اگر خام مال مہنگا ہو سکتا ہے، اگر بجلی مہنگی ہو سکتی ہے، اگر بازار میں ہر چیز کی قیمت بڑھ سکتی ہے، تو پھر بنکر کی مزدوری اور اس کی محنت کی قیمت بار بار کم کیوں سمجھی جاتی ہے؟
یہ سوال کسی ایک فرد کا نہیں، پورے بنکر طبقے کا سوال ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ بنکر کو صرف انتخابات، میٹنگوں یا سرکاری اجلاسوں کے وقت یاد کرنے کے بجائے اسے ایک مستقل محنت کش طبقے کے طور پر دیکھا جائے۔ اس کے مسائل کو وقتی اعلانات کے بجائے مستقل پالیسی کے ذریعے حل کیا جائے۔
اور بنکروں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف وعدہ سن لینا کامیابی نہیں ہے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب وعدہ حکم نامے میں تبدیل ہو، حکم نامہ عمل میں آئے اور عمل کا فائدہ بنکر کے گھر تک پہنچے۔
نمائندگی کا مطلب صرف حکومت کے ساتھ بیٹھنا نہیں ہے۔ نمائندگی کا اصل مطلب یہ ہے کہ جو بات عام بنکر کے حق میں طے ہو، اسے واضح طور پر بنکروں تک پہنچایا جائے، اور جو بات طے نہ ہو، اسے کامیابی بنا کر پیش نہ کیا جائے۔
بنکروں کو یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے:
کتنے وعدے ہوئے؟
کتنی یقین دہانیاں ملیں؟
کتنے فیصلے تحریری ہوئے؟
کتنے فیصلوں پر عمل ہوا؟
اور سب سے اہم سوال:
عام بنکر کی زندگی میں اس کا فائدہ کہاں نظر آیا؟جب تک ان سوالوں کے جواب نہیں ملتے، تب تک ہر نئی یقین دہانی کو کامیابی سمجھنا شاید بنکر کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی ہوگی۔بنکر کسی کا محتاج نہیں۔ وہ محنت کرتا ہے، روزگار پیدا کرتا ہے، ہنر کو زندہ رکھتا ہے اور ملک کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس کی محنت کو عزت، اس کے کام کو مناسب قیمت اور اس کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کا عملی نظام دیا جائے۔ورنہ تاریخ یہی کہے گی کہ ایک ایسا محنت کش طبقہ، جس کے ہاتھوں نے دوسروں کے لیے خوبصورت کپڑے بنائے، خود وعدوں اور یقین دہانیوں کے پھٹے ہوئے کپڑے میں زندگی گزارنے پر مجبور رہا۔وعدوں کی منڈی بہت بڑی ہے، یقین دہانیوں کے خریدار بھی بہت ہیں؛مگر اب بنکر کو وعدہ نہیں، اپنے حق کا عملی حساب چاہیے۔بنکر کو سستا سمجھنے کا زمانہ ختم ہونا چاہیے،کیونکہ بنکر سستا نہیں جو اس کی محنت کو سستا سمجھا گیا ہے۔

+++++++++++++++++++++++++
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سیاسی بصیرت

ٹی ایم سی رائے گنج لوک سبھا الیکشن کیوں نہیں جیت پاتی؟

تحریر: محمد شہباز عالم مصباحی رائے گنج لوک سبھا حلقہ مغربی بنگال کی ایک اہم نشست ہے جس کی سیاسی
سیاسی بصیرت

مغربی بنگال میں کیا کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے؟

محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال مغربی بنگال، جو ہندوستان کی سیاست میں