امریکہ ایران تنازع: ٹرمپ کے سامنے مشکل فیصلوں کی گھڑی
آئی آر جی سی کے مطابق امریکہ کمزور، ایران کے معاملے میں مشکل انتخاب، عالمی حمایت میں کمی، سفارتی دباؤ میں اضافہ۔
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے انٹیلیجنس ونگ نے ایک حالیہ بیان میں امریکہ کی موجودہ پوزیشن پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن ایک ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں اسے ایران کے معاملے میں دو مشکل راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑ سکتا ہے۔ تنظیم کے مطابق، امریکہ یا تو ایک ایسے مشن کا انتخاب کرے گا جسے کامیاب بنانا تقریباً ناممکن ہے، یا پھر اسے ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کرنا پڑے گا جو اس کے لیے سیاسی اور سفارتی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔بیان میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت پر بھی تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ ان کی پوزیشن نہ صرف امریکہ کے اندر بلکہ عالمی سطح پر بھی کمزور پڑ چکی ہے۔ آئی آر جی سی انٹیلیجنس کے مطابق حالیہ عالمی اور علاقائی حالات نے امریکہ کے فیصلوں کے دائرہ کار کو محدود کر دیا ہے، جس کے باعث اس کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کی جانب سے پینٹاگون کو دی گئی ڈیڈ لائن، جس میں ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، ایک اہم پیش رفت تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ چین، روس اور یورپی ممالک کے رویے میں تبدیلی کو بھی نمایاں قرار دیا گیا، جو مبینہ طور پر اب امریکہ کے مؤقف سے مکمل ہم آہنگ نہیں رہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ان عالمی طاقتوں کی پالیسیوں میں یہ تبدیلی امریکہ کے لیے ایک سفارتی چیلنج بن چکی ہے۔آئی آر جی سی نے یہ بھی کہا کہ امریکی کانگریس کو صدر ٹرمپ کی جانب سے بھیجا گیا خط مؤثر ثابت نہیں ہوا، اور اس کا کوئی خاص نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ مزید برآں، ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے پیش کی گئی شرائط کو بھی غیر مؤثر قرار دیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اپنی مرضی کے مطابق حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہا ہے۔
آخر میں بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ صورتحال میں امریکہ کے پاس زیادہ آپشنز باقی نہیں رہے۔ یا تو وہ ایک مشکل اور غیر یقینی مہم جوئی کا راستہ اختیار کرے، یا پھر ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کرے جو اس کے مفادات کے خلاف ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے اور عالمی سیاست پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔





