الٰہ آباد ہائی کورٹ نے این ایچ آر سی پر سوال اٹھائے
الٰہ آباد ہائی کورٹ نے این ایچ آر سی کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھایا، مدرسہ معاملے میں سماعت ملتوی، اگلی پیشی 11 مئی مقرر.
الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس اتل شری دھرن نے بدھ کے روز ایک مقدمے کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے اپنے تحریری حکم میں قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) کے کردار پر سخت تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے انسانی حقوق کے ادارے بعض اوقات ایسے معاملات میں مداخلت کی کوشش کرتے ہیں جو دراصل عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔جسٹس شری دھرن نے اپنے مشاہدات میں یہ بھی لکھا کہ کچھ معاملات میں، خاص طور پر جہاں مسلم برادری کے افراد پر حملے ہوتے ہیں یا انہیں ہجوم کے تشدد (لنچنگ) کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہاں ملزمان کے خلاف مناسب کارروائی نہیں ہوتی یا تفتیش میں خامیاں رہ جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حساس معاملات میں ازخود نوٹس لینے کے بجائے، انسانی حقوق کا ادارہ اکثر ایسے کیسز میں دلچسپی لیتا نظر آتا ہے جن کا بظاہر انسانی حقوق سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔
یہ معاملہ دراصل فروری 2025 میں درج ایک شکایت سے جڑا ہوا ہے، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ اتر پردیش میں 588 مدارس کو سرکاری امداد تو دی جا رہی ہے، مگر وہ بنیادی سہولیات جیسے مناسب عمارت، معیاری اساتذہ اور دیگر ضروری معیار پر پورا نہیں اترتے۔ شکایت میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ اساتذہ کی تقرری میں رشوت کا عمل شامل ہے اور ریاست کے اقلیتی بہبود محکمہ کے کچھ افسران بھی اس میں ملوث ہیں۔اس شکایت کے بعد این ایچ آر سی نے ریاست کی اکنامک آفینس ونگ کو ہدایت دی تھی کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کرے اور رپورٹ پیش کرے۔ اسی حکم کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی، جس کی سماعت جسٹس شری دھرن اور جسٹس وویک سارن پر مشتمل بنچ کر رہی تھی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے تاریخ آگے بڑھانے کی درخواست کی گئی، جبکہ ریاستی حکومت کے وکیل نے اس کی مخالفت کی۔ جسٹس شری دھرن نے ابتدائی طور پر کہا کہ اس کیس میں انسانی حقوق کا کوئی واضح پہلو نظر نہیں آتا۔تاہم بنچ کے دوسرے رکن جسٹس وویک سارن نے اس بات سے اختلاف کیا کہ این ایچ آر سی پر سخت تبصرہ کیا جائے، کیونکہ اس وقت کمیشن کی جانب سے کوئی نمائندہ عدالت میں موجود نہیں تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے سماعت ملتوی کرنے پر اتفاق کیا۔ اب اس کیس کی اگلی سماعت 11 مئی کو مقرر کی گئی ہے۔





