دہلی ہائی کورٹ نے انجینئر رشید کو ایک ہفتے کی ضمانت دے دی
دہلی ہائی کورٹ نے انجینئر رشید کو والد سے ملاقات کیلئے ایک ہفتے کی ضمانت دی، سخت شرائط بھی عائد ہیں۔
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے منگل کے روز ایک اہم فیصلے میں جموں و کشمیر سے رکنِ پارلیمان شیخ عبدالرشید المعروف انجینئر رشید کو ایک ہفتے کی عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔ عدالت نے یہ رعایت انہیں اپنے علیل والد سے ملاقات کے پیش نظر دی ہے، جن کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔عدالتی حکم کے مطابق اس مدت کے دوران رشید کو محدود نقل و حرکت کی اجازت ہوگی۔ وہ یا تو اسپتال جا کر اپنے والد کی عیادت کر سکتے ہیں یا پھر گھر پر قیام کریں گے۔ اس کے علاوہ انہیں کسی اور مقام پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان کے ساتھ ہر وقت کم از کم دو پولیس اہلکار سادہ لباس میں موجود رہیں گے تاکہ سکیورٹی اور نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ فیصلہ جسٹس پرتِبھا ایم سنگھ اور جسٹس مدھو جین پر مشتمل بنچ نے سنایا۔ سماعت کے دوران عدالت نے رشید کی اس اپیل پر غور کیا، جس میں انہوں نے نچلی عدالت کے 24 اپریل کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ نچلی عدالت نے اس سے قبل انہیں عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔رشید کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کے والد شدید علیل ہیں اور سری نگر کے ایک سرکاری اسپتال میں زیر علاج ہیں، جس کے باعث ان کا اپنے والد سے ملنا نہایت ضروری ہے۔ دوسری جانب قومی تحقیقاتی ایجنسی کی نمائندگی کرتے ہوئے سرکاری وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ رشید کو ضمانت کے بجائے حراست میں پیرول پر ملاقات کی اجازت دی جائے، تاہم عدالت نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔
واضح رہے کہ انجینئر رشید بارہمولہ سے رکن پارلیمان ہیں اور انہوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ وہ اس وقت دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق ایک مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں، جس میں ان پر وادیٔ کشمیر میں علیحدگی پسند عناصر اور عسکریت پسند گروہوں کو مالی مدد فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ انہیں سنہ 2017 کے ایک مقدمے میں قومی تحقیقاتی ایجنسی نے گرفتار کیا تھا اور 2019 سے وہ دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ عدالت کے حالیہ فیصلے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔





