کیجریوال عدالت میں پیش نہیں ہوں گے، دہلی کیس میں نیا موڑ
اروند کیجریوال نے دہلی ہائی کورٹ میں پیشی سے انکار کیا، دہلی شراب پالیسی کیس میں نیا موڑ آیا۔
بھارت کے دارالحکومت دہلی میں سیاسی اور قانونی حلقوں میں اس وقت ایک اہم پیش رفت زیرِ بحث ہے، جہاں سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے دہلی ہائی کورٹ میں جاری ایک مقدمے کی سماعت میں پیش نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مقدمہ مبینہ شراب پالیسی کیس سے متعلق ہے، جس میں مرکزی تفتیشی ادارہ سی بی آئی کی اپیل زیرِ سماعت ہے۔اروند کیجریوال نے اس فیصلے کے حوالے سے دہلی ہائی کورٹ کی جج جسٹس سورن کانتا شرما کو ایک تفصیلی خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ نہ خود عدالت میں پیش ہوں گے اور نہ ہی اپنے وکیل کے ذریعے اس کیس کی پیروی کریں گے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ انہوں نے سوچ سمجھ کر اور ذاتی اصولوں کی بنیاد پر کیا ہے۔
کیجریوال نے اپنے خط اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ وہ عدلیہ کا مکمل احترام کرتے ہیں، لیکن موجودہ صورتحال میں ان کے لیے اس مقدمے کو اس عدالت میں آگے بڑھانا ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مہاتما گاندھی کے اصولِ ستیہ گرہ سے متاثر ہیں اور اسی سوچ کے تحت انہوں نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ان کے مطابق، ان کا مؤقف یہ ہے کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ عوام کے سامنے ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس کیس کی موجودہ کارروائی پر تحفظات ہیں اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ عدالتی عمل اس بنیادی اصول کی مکمل عکاسی نہیں کر رہا۔ اسی وجہ سے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس عدالت میں اپنا موقف پیش نہیں کریں گے۔
اپنے ویڈیو بیان میں اروند کیجریوال نے مزید کہا کہ انہیں اس جج کی عدالت سے انصاف کی امید کمزور محسوس ہو رہی ہے، اسی لیے انہوں نے خاموش احتجاج کے طور پر یہ راستہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ یا ان کے وکیل عدالت میں پیش بھی ہوں تو اس سے کیس کے نتائج پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا، لہٰذا انہوں نے عدم شرکت کا فیصلہ کیا۔





