کاروبار کی دنیا

عالمی یوم مزدور اور ہمارا رویہ

غلام علی اخضر

مزدوروں کا اس دنیا کو سنوارنے اور بہتر بنائے رکھنے میں کیا کردار ہے وہ کسی ذی عقل سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہم سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر ان کے حقوق کا کتنااحترام اور خیال کرتے ہیں، وہ بھی اظہر من الشمس ہے۔ اس دنیا میں بہت سے ایسے بھی ہیں جو مزدور سے کام کروانے کے بعد اس کی مزدوری نہیں دیتے، یا دیتے ہیں تو ان کے جائز محنت کے روپے کے لیے کئی کئی روز تک دوڑاتے ہیں،جو کہ ایک سامراجی، غیر اخلاقی اور مجرمانہ عمل ہے۔اسی سامراجی، غیر قانونی اور مجرمانہ عمل کے خلاف ایک ایسے دن کا تعین کیا گیا جس دن خاص طور پر محنت کشوں کے حقوق پر بات ہواور اس دن کو عالمی یومِ مزدور یا بین الاقوامی یومِ مزدور یعنی محنت کشوں کا دن قرار دیا گیا۔ یہ دن ہر سال یکم مئی کو منایا جاتا ہے اور اس کا اصل مقصد محنت کش طبقے کی جدوجہد، قربانیوں اور حقوق کو یاد کرنا ہے۔یہ دن ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ مزدور کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں، کیوں کہ وہ اپنی محنت سے عمارتیں کھڑی کرتے ہیں، فیکٹریاں چلاتے ہیں اور معیشت کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس دن کو منانے کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ مزدوروں کو ان کے جائز حقوق جیسے مناسب اجرت، محفوظ کام کا ماحول اور بہتر اوقاتِ کار کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔

تاریخ میں مزدوروں نے اپنے حقوق کے لیے طویل جدوجہد کی، حتیٰ کہ کئی قربانیاں بھی دیں۔ انھی کی یاد میں یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ ۱۸۸۶ء میں شکاگو میں سرمایہ دار طبقے کے خلاف ایک ایسی تحریک نے جنم لیا جس نے پوری دنیا میں مزدوروں کے حقوق اور اوقاتِ کار کے تعین میں اہم کردار ادا کیا کہ ایک مزدور کتنے وقت تک کام کرسکتا ہے۔
انیسویں صدی کے صنعتی عہد کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ترقی کے عروج کے پیچھے مزدور کی زندگی خاصی کٹھن تھی۔ کارخانے دن رات چلتے تھے، مگر ان میں کام کرنے والوں کے لیے نہ اوقاتِ کار کی کوئی حد مقرر تھی اور نہ ہی آرام کا کوئی واضح تصور موجود تھا۔ ایسے ماحول میں ایک آواز ابھری کہ مزدوروں کی زندگی میں بھی توازن کی ضرورت ہے اور دن کو اس طرح تقسیم ہونا چاہیے کہ کام کے ساتھ ساتھ تفریح اور آرام بھی اس کا حصہ ہوں۔ برطانوی سماجی مفکر رابرٹ اوون نے اس تصور کو ’آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے تفریح اور آٹھ گھنٹے آرام‘ کے نعرے کی صورت میں پیش کیا۔یہ تصور اور نعرہ محض ایک نظریہ بن کر نہیں رہا بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے مزدوروں کی خواہش بن گیا۔

1886ء میں امریکہ کے مختلف شہروں میں ٹریڈ یونینز نے اس مطالبے کو لے کر منظم احتجاج شروع کیے۔ یکم مئی کا دن خاص طور پر اہم ثابت ہوا، جب ہزاروں مزدور اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ شکاگو اس تحریک کا مرکز بنا، جہاں بڑی تعداد میں کارکن جمع ہوئے اور اپنے مطالبات کو واضح انداز میں پیش کیا۔اس کے باوجود یہ احتجاج ہر طبقے کے لیے قابلِ قبول نہیں تھا۔ کاروباری حلقوں اور حکمرانوں نے اسے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا اور جیسے جیسے دن گزرتے گئے حالات میں کشیدگی بڑھتی چلی گئی۔ کچھ ایسے عناصر بھی اس تحریک کا حصہ بن گئے جو محض اصلاح نہیں بلکہ پورے نظام کو بدلنے کے خواہاں تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ماحول مزید حساس ہو گیا اور چھوٹی چھوٹی جھڑپیں ایک بڑے تصادم کی شکل اختیار کرنے لگیں۔4؍مئی کو شکاگو میں ہونے والا اجتماع اسی کشیدگی کا نقطۂ عروج ثابت ہوا۔ یہ پرامن مظاہرہ دراصل پہلے ہونے والے واقعات کے خلاف احتجاج تھا، مگر اچانک ایک دھماکے نے سارا منظر بدل دیا۔ ایک نامعلوم شخص نے پولیس پر بم پھینکا، جس کے بعد فائرنگ ہوئی اور کئی افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ یہ سانحہ مزدور تحریک کی سمت پر گہرا اثر ڈالا۔

اس واقعے کے بعد چند افراد کو ذمے دار ٹھہرایا گیا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی گئی، حالاں کہ ان پر لگائے گئے الزامات پوری طرح ثابت نہیں ہو سکے تھے۔ لیکن اس ساری کشمکش نے ایک بات واضح کر دی تھی کہ مزدور اپنے حقوق کے لیے سنجیدہ ہیں اور اب ان کی آواز کو نظرانداز کرنا آسان نہیں رہا۔چند برس بعد 1889ء میں جب مختلف ممالک کے مزدور نمائندے ایک اجلاس میں جمع ہوئے تو انھوں نے فیصلہ کیا کہ یکم مئی کو ان واقعات کی یاد میں ایک علامتی دن کے طور پر منایا جائے۔ یہ دن صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ اس جدوجہد کی یادگار بن گیا جس نے دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے سوچ کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔یہ دن صرف یوم مزدور نہیں بلکہ عہد کرنے کا موقع ہے کہ ہم محنت کشوں کی عزت کریں گے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھائیں گے، اور ان کے لیے جتنا بہتر قدم اٹھا سکتے ہیں، اٹھائیں گے۔

اس موقع پر لیکچر، سیمینار، ورکشاپ، جلسے، ڈرامے، نکڑ ناٹک، تقریری و تحریری مقابلے اور تحریکی و بیداری مہم چلائی جاتی ہیں۔ادب میں بھی اس حوالے سے کافی کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اگر صرف شاعری پر نظر ڈالیں تو اقبال، جوش ملیح آبادی، حبیب جالب، علی سردار جعفری، جمیل مظہری ، منور رانا اور ان کے علاوہ کئی نام قابلِ ذکر ہیں۔ ذیل کے اشعار کے انتخاب میں ملاحظہ کیجیے، جس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ادب میں اس حوالے سے کیا کچھ کہا گیا ہے اور شاعری کس طرح مزدوروں کی حالت، حقوق اور ان کی زندگی کو پیش کرتی ہے۔
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں/ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات(علامہ اقبال)۔ میں کہ ایک محنت کش میں کہ تیرگی دشمن/صبح نو عبارت ہے میرے مسکرانے سے(مجروح سلطانپوری)۔ انہی حیرت زدہ آنکھوں سے دیکھے ہیں وہ آنسو بھی/جو اکثر دھوپ میں محنت کی پیشانی سے ڈھلتے ہیں(جمیلؔ مظہری)۔ غریبوں پر تو موسم بھی حکومت کرتے رہتے ہیں/کبھی بارش کبھی گرمی کبھی ٹھنڈک کا قبضہ ہے۔سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر/مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے۔

فرشتے آ کر ان کے جسم پر خوشبو لگاتے ہیں/وہ بچے ریل کے ڈبوں میں جو جھاڑو لگاتے ہیں۔ بوجھ اٹھانا شوق کہاں ہے مجبوری کا سودا ہے/رہتے رہتے اسٹیشن پر لوگ قلی ہو جاتے ہیں(منور رانا)۔دولت کا فلک توڑ کے عالم کی جبیں پر/مزدور کی قسمت کے ستارے نکل آئے(نشور واحدی)۔میں اک مزدور ہوں روٹی کی خاطر بوجھ اٹھاتا ہوں/مری قسمت ہے بار حکمرانی پشت پر رکھنا(احتشام الحق صدیقی)۔ خون مزدور کا ملتا جو نہ تعمیروں میں/نہ حویلی نہ محل اور نہ کوئی گھر ہوتا(حیدر علی جعفری)۔ہم ہیں مزدور ہمیں کون سہارا دے گا/ہم تو مٹ کر بھی سہارا نہیں مانگا کرتے(راہی شہابی)۔سروں پہ اوڑھ کے مزدور دھوپ کی چادر/خود اپنے سر پہ اسے سائباں سمجھنے لگے(شارب مورانوی)۔ آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے/آدمی مزدور ہے راہیں بنانے کے لیے(حفیظ جالندھری)۔نیند آئے گی بھلا کیسے اسے شام کے بعد/روٹیاں بھی نہ میسر ہوں جسے کام کے بعد(اظہر اقبال)۔آج بھی سپراؔ اس کی خوشبو مل مالک لے جاتا ہے/میں لوہے کی ناف سے پیدا جو کستوری کرتا ہوں(تنویر سپرا)۔اس لیے سب سے الگ ہے مری خوشبو عامی/مشک مزدور پسینے میں لیے پھرتا ہوں(عمران عامی)۔اب تک مرے اعصاب پہ محنت ہے مسلط/اب تک مرے کانوں میں مشینوں کی صدا ہے(تنویر سپرا)۔دنیا میری زندگی کے دن کم کرتی جاتی ہے کیوں/خون پسینہ ایک کیا ہے یہ میری مزدوری ہے(منموہن تلخ)۔لے کے تیشہ اٹھا ہے پھر مزدور/ڈھل رہے ہیں جبل مشینوں میں(وامق جونپوری)۔کتنا بعد ہے میرے فن اور پیشہ کے مابین/باہر دانشور ہوں لیکن مل میں آئل مین(تنویر سپرا)۔ شہر میں مزدور جیسا در بدر کوئی نہیں/جس نے سب کے گھر بنائے اوس کا گھر کوئی نہیں(نامعلوم)
قاری اندازہ کر سکتا ہے کہ ان اشعار میں مزدور کی زندگی کی سختیوں، محرومیوں اور عظمت کو کس قدر بھرپور انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ مزدور اپنی محنت سے دنیا کو آباد کرتا ہے مگر خود بنیادی سہولیات سے محروم رہتا ہے۔ اس کی زندگی مسلسل جدوجہد، فاقہ کشی اور ناانصافی کا شکار رہتی ہے، جہاں موسم، حالات اور نظام سب اس کے خلاف دکھائی دیتے ہیں۔ پھر بھی وہ خوددار ہوتا ہے اور اپنی محنت پر فخر کرتا ہے۔تو ہمیں بھی چاہیے کہ مزدور کی حق تلفی اور استحصال کے خلاف آواز بلند رکھیں اور اس کے وجود کو پورے وقار کے ساتھ قبول کریں۔مزدور کی چھٹی کی بھی حالت، بقول افضل خان:

ضروری ہے کہ ہم نہ صرف اس کے حقوق کی بات کریں بلکہ عملی طور پر بھی اس کے حالات بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہی اس دن کا اصل پیغام اور تقاضا ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

کاروبار کی دنیا

تجارت میں اسلام کی رہنمائی

ڈاکٹر محمد واسع ظفر احقر نے سنہ 2019ء میں تجارت کے موضوع پر ایک طویل مضمون رقم کیا تھا جس
کاروبار کی دنیا

تجارت کی عالمی جنگ

عارف بہار دنیا کی دوبڑی معیشتوں امریکہ اور چین کے درمیان تزویراتی مخاصمت اب پوری طرح تجارتی محاذ تک پھیل