سیاسی بصیرت

عدلیہ کے تازہ احوال

ودود ساجد

ایڈیٹر روزنامہ انقلاب

ان دنوں سپریم کورٹ کی 9 رکنی بنچ کے سامنے کیرالہ کے مشہور ’سبری مالا‘ مندر کے ایک قضیہ پر بحث ہورہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ’لارڈایپا‘ کا یہ مندر ایک ہزار سال پرانا ہے۔ 9 رکنی بنچ عام طور پر تشکیل نہیں دی جاتی اور انتہائی اہم آئینی اور قانونی سوالات کو طے کرنے کیلئے ہی اس کی تشکیل ہوتی ہے۔

سبری مالا مندر کے جس قضیہ کی بنیاد پر نو ججوں کی بنچ سماعت کر رہی ہے وہ قضیہ 2018 میں پانچ ججوں کی بنچ اکثریت کے ساتھ فیصل کرچکی ہے۔ قضیہ یہ تھا کہ مذکورہ مندر کے مرکزی مقام میں‘ جہاں لارڈ ایپا کی مورتی رکھی ہوئی ہے‘ 10 سال سے لے کر 50 سال کی عمر کی خواتین کو داخلہ کی اجازت نہیں تھی۔ یعنی نو سال اور اس سے نیچے اور 51 سال اور اس سے اوپر کی خواتین کے داخل ہونے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ مندر کے پجاریوں اور انتظامیہ کے ذمہ داروں کی طرف سے وجہ یہ بتائی گئی کہ ’لارڈ ایپا‘ برہماچاری تھے اور چونکہ 10 سال سے 50 سال کے درمیان کی عمر ایام حیض کی عمر ہوتی ہے اس لئے اس عمر کی بچیوں اور خواتین کو مندر کے مرکزی مقام میں داخلہ نہیں مل سکتا۔

2018 میں پانچ میں سے چار ججوں نے اس روایت کے خلاف فیصلہ دے کر ہر عمر کی خاتون کو داخل ہونے کا حق دیدیا جبکہ ایک خاتون جج‘ جسٹس اندو ملہوترا نے روایت کو جاری رکھنے کے حق میں فیصلہ دیا۔ جسٹس اندو ملہوترا نے تین نکات پر مبنی مشاہدہ پیش کیا کہ (۱) عدلیہ کو گہری اور قدیم مذہبی روایتوں میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے‘(۲) سبری مالامندر کا اصول ایک مذہبی فرقے کی روایت کا حصہ ہے اور (۳) ہر عمل کو آئینی اخلاقیات پر نہیں پرکھا جانا چاہیے، خاص طور پر اگر اس کا تعلق سماجی اصلاح کی بجائے عقیدہ سے ہو۔ اس قضیہ میں ہماری دلچسپی کا موضوع خاتون جج جسٹس اندو ملہوترا کا مشاہدہ ہے۔ اس پر کسی اور موقع پر تفصیل سے لکھا جانا مناسب ہوگا۔

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جس شدت کے ساتھ حقوق نسواں کے علم برداروں نے سپریم کورٹ میں سبری مالا مندر کے اس ضابطہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا اسی شدت کے ساتھ سبری مالا مندر کے ذمہ داروں اور قدیم ہندو روایتوں کے علم برداروں نے سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلہ کے خلاف احتجاج کیا۔ دس سال سے پچاس سال کی عمر کی خواتین کے داخلہ کی اجازت قانونی طور پر ابھی نافذ ہے تاہم اب بھی اس عمر کی خواتین کو سبری مالا مندر کے پجاریوں‘ انتظامی کارکنوں اور ہندو روایتوں کے محافظوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہی طبقات کی طرف سے سپریم کورٹ میں مذکورہ فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کی گئی جس میں سات وسیع سوالات کو اٹھاتے ہوئے پوچھا گیا کہ کیا عدالتیں مذہبی روایتوں میں مداخلت کرسکتی ہیں؟ لہٰذا اس طرح کے دیگر آئینی سوالات کو طے کرنے کیلئے سپریم کورٹ نے 9 ججوں کی بنچ تشکیل دی جس کی اب تک دس سماعتیں ہوچکی ہیں۔ اگر نو ججوں کی آئینی بنچ کا فیصلہ یہ آیا کہ عدلیہ مذہبی روایتوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی تو 2018 میں پانچ ججوں کی بنچ کا وہ اکثریتی فیصلہ کالعدم ہوجائے گا جس کی رو سے سبری مالا مندر میں دس سال سے پچاس سال کی عمر کی خواتین کے داخلہ پر عاید پابندی ہٹالی گئی تھی۔ یہ فیصلہ مسلمانوں کیلئے بھی اتنا ہی اہم ہوگا۔

شاید یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ سبری مالا مندر کے قضیہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ بھی معروف ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد کے ذریعہ ایک فریق کی حیثیت سے بحث میں حصہ لے رہا ہے۔ یہ بھی ایک اہم نکتہ ہے کہ مذکورہ نو رکنی بنچ میں ایک خاتون جج جسٹس بی وی ناگرتھنا اور ایک مسلمان جج‘ جسٹس احسان الدین امان اللہ بھی شامل ہیں۔

میں نے ایم آر شمشاد سے بات کی تو معلوم ہوا کہ اس قضیہ میں پرسنل لابورڈ دو وجوہات سےفریق ہے: انہوں نے بتایا کہ جس وقت 2018 میں سبری مالا مندر کا فیصلہ آیا اسی وقت ایک خاتون یاسمین زبیر احمد پیرزادہ نے پٹیشن دائر کی اور اس میں انہوں نے یہ کہتے ہوئے بورڈ کو پارٹی بنا دیا کہ مسجدوں میں مسلمان عورتوں کو جانے نہیں دیا جاتا۔ بورڈ نے جواب میں حلف نامہ داخل کیا کہ شریعت میں مسلمان عورتوں کے مسجدوں میں جانے کی گنجائش ہے مگر یہ لازمی نہیں ہے۔ عدالت نے اس پٹیشن کو 2020 میں سبری مالا والے مقدمہ سے جوڑ دیا۔ حالانکہ یہ پٹیشن 2019 میں دائر ہوئی تھی۔

ایم آر شمشاد نے بتایا کہ بورڈ کے فریق بننے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ سبری مالا کیس کے فیصلہ کے خلاف رٹ پٹیشن میں ایسے بڑے بڑے سوالات رکھ دئے گئے جن کا تعلق مذہبی آزادی سے تھا۔ لہذا یہ اشو اب جنرل ہوگیا۔ اب یہ فقط سبری مالا کا معاملہ نہیں رہا۔ انہوں نے بتایا کہ 1954 میں سات ججوں کی بنچ شرور مٹھ کے مقدمہ میں مذہبی آزادی کے بارے میں کافی کچھ کہہ چکی تھی۔ لہذا اس سے بڑی بنچ میں جو کچھ بھی مذہبی آزادی کے بارے میں کہا جائے گا وہ پھر کئی دہائیوں کیلئے نظیر ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دوسرے کئی مذاہب جیسے جینی وغیرہ نے بھی مداخلت کی عرضی دائر کی۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ایم آر شمشاد نے بورڈ کی طرف سے عدالت میں ایک گھنٹے کی جو بحث کی اس نے نہ صرف سینئر وکلاء کو متاثر کیا بلکہ چیف جسٹس سوریہ کانت تک نے ان کی ستائش کی۔ عدالت نے انہیں نہ صرف بحث میں حصہ لینے کا بھرپور موقع دیا بلکہ ان کے دلائل کو بغور سنا بھی۔ اس ضمن میں جسٹس احسان الدین امان اللہ نے بھی ان سے کئی ایسے سوالات کئے جن کا جواب عدالت میں دیا جانا بہت ضروری تھا۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ جسٹس امان اللہ نے سوالات کرکے بورڈ کو موقع دیا کہ وہ شرعی پوزیشن کو اور زیادہ واضح کرکے پیش کرے۔ اس سے پہلے بھی اسی طرح کے ایک معاملہ میں جسٹس امان اللہ نے اسلامی تعلیمات کی صحیح صورتحال پیش کرکے بنچ کو درست معلومات سے آشنا کیا تھا۔

اس موقع پر مجھے بابری مسجد کے مقدمہ کا فیصلہ کرنے والی پانچ رکنی بنچ کے جسٹس عبدالنظیر یاد آگئے۔ خدا جانے وہ کیسے اس فیصلہ کا حصہ بن گئے جس نے تمام شواہد کے باوجود بابری مسجد کی جگہ مندر کیلئے سونپ دی۔ اگر انہوں نے کوئی الگ موقف اختیار کیا ہوتا تو فیصلہ میں اس کا ذکر ہوتا لیکن فیصلہ متفقہ تھا۔ اسی طرح کا ایک واقعہ کرناٹک ہائی کورٹ کا بھی ہے۔ جہاں 2022 میں حجاب پر پابندی کا مقدمہ سننے والی تین رکنی بنچ میں ایک مسلم خاتون جج جسٹس جے ایم قاضی بھی تھیں۔ اس مقدمہ کا فیصلہ آیا تو اس میں کہا گیا تھا کہ حجاب اسلام یا شریعت اسلامیہ کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ یہ فیصلہ بھی متفقہ تھا۔ اگر جسٹس جے ایم قاضی نے اختلاف کیا ہوتا تو فیصلہ میں اس کا ذکر ضرور ہوتا۔

نو رکنی بنچ کے سامنے یہ انکشاف بھی ہوا کہ سبری مالا میں خواتین کے داخلے کے قضیہ پر عرضی’ انڈین ینگ لایرس ایسوسی ایشن‘ نےدائر کی تھی۔ لہذا 8 اپریل کی سماعت میں خاتون جج جسٹس بی وی ناگرتھنا نے سوال کیا کہ کیا دوسرے عقیدے کے لوگ کسی اور مذہبی عقیدے یا روایت کو چیلنج کرسکتے ہیں؟ انہوں نے پوچھا کہ وہ لوگ جو ’لارڈ ایپا‘ کے پیروکار نہیں ہیں وہ کیسے سبری مالا مندر کی روایتوں کو چیلنج کرسکتے ہیں؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا خود لارڈ ایپا کا عقیدتمند اس روایت کو چیلنج کرسکتا ہے؟ انہوں نے آئینی بنچ کے لئے یہ سوال بھی قائم کر دیا کہ کیا اس عدالت کو اس رٹ کو سماعت کیلئے قبول کرنا چاہئے تھا؟ بحث کے دوران بعض ججوں کی طرف سے یہ نکتہ بھی آیا کہ اصلاح کے نام پر مذہبی روایتوں سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی جاسکتی۔ سبری مالا مندر والے قضیہ پر مزید اسی وقت لکھنا مناسب ہوگا جب اس پر عدالت کا حتمی فیصلہ آجائے گا۔

اس ہفتہ عدلیہ سے متعلق کئی اور اہم معاملات بھی سامنے آئے۔ سپریم کورٹ میں جسٹس وکرم ناتھ کی قیادت والی دو رکنی بنچ نے ان مختلف عرضیوں کا نپٹارا کردیا جو ملک میں ’ہیٹ اسپیچ‘ یا نفرت انگیز تقریروں کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔ بنچ نے فیصلہ دیا کہ نفرت انگیز تقریروں سے نپٹنے کیلئے پہلے سے مختلف قوانین موجود ہیں اور اگر انتظامیہ ان سے نہیں نپٹ رہا ہے تو اس کی وجہ قوانین کی عدم موجودگی نہیں ہے۔ عرضی گزاروں نے نفرت انگیز تقریروں سے نپٹنے کیلئے مرکز کو قانون بنانے کی ہدایت جاری کرنے کی استدعا کی تھی۔

اس فیصلہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورما جیسے لیڈروں کو راحت مل گئی جنہوں نے ’دیش کے غداروں کو ‘گولی مارو — کو ‘جیسے نعرے لگائے تھے۔ عدالت نے انتظامیہ اور پولیس کی بے عملی کے خلاف ناگواری کا اظہار تو کیا لیکن ملزمین کے خلاف کارروائی کرنے کی واضح ہدایت جاری نہیں کی۔ انسان ناقابل قیاس ہوتا ہے لیکن اندازہ ہو رہا ہے کہ جج تو انتہائی ناقابل قیاس ہوتا ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ میرے پسندیدہ جج ہیں۔ وہ جب گجرات ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے تو انہوں نے پاسا قانون کی شق 6 کو کالعدم قرار دے کر ان سینکڑوں مظلوموں کی زندگیاں بچائی تھیں جنہیں محض ان کے نام اور شناخت کی بنیاد پر اس سخت قانون کے تحت ماخوذ کرلیا گیا تھا۔ قانون کے مطابق ماخوذ افراد دو سال سے پہلے ضمانت کی درخواست نہیں دے سکتے تھے لیکن جسٹس وکرم ناتھ نے اس پر قدغن لگاتے ہوئے سینکڑوں لوگوں کی رہائی کا راستہ صاف کردیا تھا۔

اس ہفتہ دیگر کئی مقدموں کی روداد بھی بڑی دلچسپ اور اہم ہے۔ ان پر تفصیل کے ساتھ پھر لکھا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اتل سری دھرن نے یوپی کے امداد یافتہ دینی مدارس کے خلاف قومی حقوق انسانی کمیشن کی کارروائی پر سخت ناگواری ظاہر کرتے ہوئے پوچھا کہ مسلمانوں کی ماب لنچنگ والے معاملات میں جہاں آپ کو از خود نوٹس لینا چاہئے تھے آپ خاموش رہے لیکن جہاں آپ کا کوئی لینا دینا نہیں وہاں مدارس کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کر رہے ہیں؟

الہ آباد ہائی کورٹ کی ایک دوسری بنچ کے جج‘ جسٹس سندیپ جین نے محمد چاند کو نہ صرف رہا کر دیا بلکہ حکومت کو ہدایت دی کہ اسے دو لاکھ روپیہ ہرجانہ کے طور پر بھی اداکرے۔ محمد چاند کو پولیس نے ذبح کرنے کیلئے گائے لے جانے کے الزام میں ماخوذ کیا تھا اور اس کی گاڑی بھی ضبط کرلی تھی۔ اسی طرح الہ آباد ہائی کورٹ نے ہی دو مدارس کو راحت دی۔ ان میں سے ایک کا الحاق ختم کردیا گیا تھا اور دوسرے کے انہدام کی تیاری تھی۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بھی دہشت گردی کے الزام میں ماخوذ تین افراد کو یہ کہتے ہوئے ضمانت دیدی کہ اسلامی لٹریچر یا عقائد رکھنے کو مجرمانہ سرگرمی کا ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا۔

عدالتوں میں انسان ہی بیٹھے ہیں۔ روز افزوں احوال کا علم انہیں بھی ہوتا ہے۔ وہ بھی جانتے ہیں کہ کون سے ملزمین فی الواقع مظلوم ہیں۔ قدرت نے جنہیں پوری قوت کے ساتھ ہرحال میں انصاف کرنے کی توفیق بخشی ہے وہ ہر حال میں انصاف ہی کریں گے۔۔۔۔۔۔۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سیاسی بصیرت

ٹی ایم سی رائے گنج لوک سبھا الیکشن کیوں نہیں جیت پاتی؟

تحریر: محمد شہباز عالم مصباحی رائے گنج لوک سبھا حلقہ مغربی بنگال کی ایک اہم نشست ہے جس کی سیاسی
سیاسی بصیرت

مغربی بنگال میں کیا کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے؟

محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال مغربی بنگال، جو ہندوستان کی سیاست میں