طلبہ تشدد معاملہ: راہل گاندھی کا مودی سے معافی کا مطالبہ
راہل گاندھی نے سی جے پی احتجاج میں طلبہ پر تشدد کے معاملے پر مودی سے معافی مانگنے اور وزیر داخلہ کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
راہل گاندھی نے سی جے پی (CJP) کے احتجاجی مظاہرے کے دوران طلبہ کے ساتھ مارپیٹ کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت طلبہ سے متعلق اہم مسائل پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے سے گریز کر رہی ہے اور نوجوانوں کی آواز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔پارلیمنٹ کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے لوک سبھا اسپیکر سے ملاقات کرکے طلبہ کے مسائل پر ایوان میں بحث کرانے کی درخواست کی تھی۔ ان کے مطابق اسپیکر نے جواب دیا کہ بحث کرانے کے لیے انہیں حکومت سے اجازت لینا ہوگی۔
راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ کا معاملہ ملک کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن نوجوانوں کو اپنے حقوق اور تعلیمی نظام سے متعلق مسائل کے خلاف آواز اٹھانے پر تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، یہ صورتحال قابلِ قبول نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کے نوجوان موجودہ تعلیمی نظام اور امتحانی طریقۂ کار میں موجود خامیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔کانگریس رہنما نے وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو طلبہ کے سامنے آکر معافی مانگنی چاہیے اور مظاہرین کے خلاف مبینہ تشدد کا سلسلہ روکنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں اور ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
راہل گاندھی نے مزید الزام لگایا کہ اس معاملے میں صرف وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ انہوں نے وزیر داخلہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ وزیر اعظم کو جواب دہ ہوتے ہیں، اس لیے انہیں اس معاملے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔بعد ازاں راہل گاندھی رام منوہر لوہیا (آر ایم ایل) اسپتال پہنچے، جہاں انہوں نے سی جے پی کے احتجاجی مارچ کے دوران زخمی ہونے والے افراد سے ملاقات کی اور ان کا حال دریافت کیا۔ انہوں نے زخمی طلبہ اور مظاہرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کیا۔دوسری جانب حکومت کی جانب سے اس معاملے پر ردعمل اور واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ سی جے پی مظاہرے سے متعلق تنازع کے بعد طلبہ کے مسائل، تعلیمی نظام اور احتجاج کے دوران انتظامیہ کے کردار پر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔






