سی جے پی کی ترجمان وجیتا دہیا کو تمام ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا
سی جے پی نے ترجمان وجیتا دہیا کو متنازع برگر ویڈیو اور مبینہ غیر حساس رویے پر تمام عہدوں اور ذمہ داریوں سے ہٹا دیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ پارٹی کے ترجمان وجیتا دہیا کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کے مبینہ غیر حساس رویے کے باعث کیا گیا، جو پارٹی کے اصولوں اور تحریک کی بنیادی اقدار کے منافی ہے۔سی جے پی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنے ترجمان وجیتا دہیا کے انتہائی غیر حساس طرزِ عمل کی سخت مذمت کرتی ہے۔ پارٹی کے مطابق، جس وقت پرامن مظاہرین اور پارٹی کی ٹیم پولیس کی سخت کارروائی اور تشدد کا سامنا کر رہی تھی، اسی دوران وجیتا دہیا نے ایک ویڈیو جاری کی، جسے پارٹی نے نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس قسم کا رویہ کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ پارٹی کے مطابق، یہ طرزِ عمل نہ صرف حالات کی نزاکت کو سمجھنے میں ناکامی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ سی جے پی کی تحریک، اس کے نظریات اور بنیادی اصولوں سے بھی مکمل طور پر متصادم ہے۔سی جے پی نے واضح کیا کہ وجیتا دہیا کو صرف ترجمان کے عہدے سے ہی نہیں ہٹایا گیا بلکہ انہیں پارٹی کی تمام دیگر سرکاری اور تنظیمی ذمہ داریوں سے بھی فوری طور پر آزاد کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل سوشل میڈیا پر ایک مبینہ ویڈیو بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ وجیتا دہیا برگر کھاتے ہوئے مختلف تبصرے کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں وہ یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ: “یہ احتجاج کوئی نوکری نہیں ہے، مجھے کسی نے ووٹ دے کر منتخب نہیں کیا، میری کسی کے لیے کوئی ذمہ داری نہیں ہے، میں برگر کھاؤں گا۔”یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف صارفین نے اس پر شدید ردِعمل ظاہر کیا اور کئی افراد نے اس رویے پر تنقید کرتے ہوئے اسے احتجاجی تحریک کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔جس پر سی جے پی نے سخت رخ اختیار کرتے ہوئے وجیتا دہیا عہدے سے برطرف کردیا۔






