ٹرمپ کو کھلا چیلنج؟نئے برطانوی وزیراعظم کا بڑا بیان
اینڈی برنم نے کہا کہ برطانیہ کے قومی مفادات کے لیے وہ ٹرمپ سے اختلاف یا تنقید سے نہیں ہچکچائیں گے۔
برطانیہ کے نئے وزیرِاعظم اینڈی برنم نے واضح کیا ہے کہ اگر ملکی مفادات کا تقاضا ہوا تو وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اختلافِ رائے ظاہر کرنے یا ان پر تنقید کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد ایک اہم انٹرویو میں انہوں نے اپنی خارجہ پالیسی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کھل کر اظہارِ خیال کیا۔برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں اینڈی برنم نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی ابتدائی گفتگو خوشگوار ماحول میں ہوئی اور انہیں ٹرمپ ایک دوستانہ اور ملنسار شخصیت کے طور پر محسوس ہوئے۔ لیکن جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ امریکی صدر پر مکمل اعتماد کرتے ہیں، تو انہوں نے اس کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ عالمی سیاست مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے اور موجودہ حالات میں کسی بھی رہنما کو حالات کے مطابق فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ ان کے مطابق بین الاقوامی تعلقات میں مستقل اور غیر مشروط مؤقف اختیار کرنے کے بجائے زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔اینڈی برنم نے اس بات پر زور دیا کہ وہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ ہر معاملے میں ان کی رائے امریکی صدر سے یکساں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی مسئلے پر برطانیہ کے قومی مفادات کا تقاضا ہوا تو وہ آزادانہ مؤقف اپنائیں گے، چاہے وہ مؤقف واشنگٹن کی پالیسی سے مختلف ہی کیوں نہ ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام سے براہِ راست رابطہ اور ان کے مسائل کو سمجھنا ان کی سیاسی زندگی کی سب سے بڑی طاقت رہی ہے۔ ان کے بقول وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد بھی وہ اپنی اسی خصوصیت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور عوامی مسائل سے جڑے رہیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں برنم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر انہیں محسوس ہوا کہ کسی معاملے پر کھل کر تنقید کرنا ضروری ہے تو وہ ایسا ضرور کریں گے، خواہ معاملہ امریکی صدر ہی سے متعلق کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی وزیرِاعظم کی پہلی ذمےداری اپنے ملک کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے اور وہ اسی اصول کے تحت فیصلے کریں گے۔برطانوی وزیرِاعظم نے مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایران سے متعلق کشیدگی اور ممکنہ تنازع کے آغاز پر تشویش رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مستقبل میں بھی قومی اور بین الاقوامی معاملات پر اپنی رائے کھل کر پیش کریں گے اور درست بات کہنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔






