ایل جی بی ٹی کیو برادری بھی سماج کا حصہ ہے: موہن بھاگوت
موہن بھاگوت نے کہا کہ ایل جی بی ٹی کیو پلس برادری کو کمتر نہ سمجھا جائے، وہ معاشرے کا حصہ ہیں اور باعزت زندگی کا حق رکھتے ہیں۔
حیدرآباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ ایل جی بی ٹی کیو پلس برادری کو معاشرے میں کمتر یا الگ تھلگ سمجھنے کے بجائے سماج کا ایک فطری حصہ تصور کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی معاشروں میں مختلف قسم کے رجحانات اور خصوصیات ہمیشہ سے موجود رہی ہیں اور بعض صورتیں ایسی ہوتی ہیں جو فطری طور پر انسان کی پیدائش کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں، جنہیں نہ فرد اپنی مرضی سے اختیار کرتا ہے اور نہ ہی آسانی سے تبدیل کر سکتا ہے۔موہن بھاگوت نے اپنے خطاب میں کہا کہ سماج کو ایسے افراد کے ساتھ ہمدردی، احترام اور مساوات کا رویہ اپنانا چاہیے۔ ان کے مطابق بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں جن کا علاج یا تبدیلی ممکن ہوتی ہے، جب کہ کچھ کیفیتیں ایسی بھی ہیں جو انسان کی فطرت کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں متعلقہ افراد کے بنیادی انسانی حقوق اور باعزت زندگی کے حق کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
آر ایس ایس سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی سماجی روایت میں مختلف النوع افراد کے لیے جگہ موجود رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں ایسے لوگوں کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے بجائے ان کے لیے مختلف سطحوں پر سماجی اور ثقافتی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ ان کے بقول، ملک کی بعض مذہبی اور سماجی روایات میں ایسے طبقات کی نمائندگی اور شناخت کی مثالیں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس موضوع پر غیر ضروری شور و غوغا یا جذباتی بحث کے بجائے سنجیدہ اور متوازن انداز میں غور و فکر کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق موجودہ دور میں جنس، شناخت اور سماجی قبولیت سے متعلق کئی نئے سوالات سامنے آ رہے ہیں، جن پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔ ایسے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے ایک جامع اور ہمہ گیر نقطۂ نظر اختیار کرنا چاہیے تاکہ معاشرے کے تمام طبقات کے حقوق اور وقار کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
موہن بھاگوت کے اس بیان کو ملک میں ایل جی بی ٹی کیو پلس برادری کے حوالے سے جاری مباحثے کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ان کے خیالات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ معاشرے میں مختلف شناخت رکھنے والے افراد کو قبول کرنے اور انہیں مساوی شہری حقوق فراہم کرنے پر مزید گفتگو کی ضرورت موجود ہے۔






