اسرائیل سے مودی کی دوستی ہندوستان کا نقصان
پی چدمبرم
(سابق مرکزی وزیر داخلہ و فینانس)
مریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جو جنگ چھیڑ ی ہے، وہ دنیا کے کسی دور دراز علاقہ میں نہیں ہے بلکہ ہمارے ملک سے بالکل قریب میں چھیڑی گئی ہے۔ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ مغربی ایشیا میں چھیڑی گئی ہے اور جو برصغیر ہند کا ہمسایہ ملک (ایران) ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ اس علاقہ میں لاکھوں کی تعداد میں ہندوستانی مقیم ار برسرروزگار ہیں اور یہ ہندوستانی تارکین وطن ہر سال اربوں ڈالرس اپنے ملک کو بھیجتے ہیں جس سے ہمارے ملک کے بیرونی زرمبادلہ میں زبردست اضافہ ہوتا ہے۔ آپ کو بتادوں کہ لاکھوں شیعہ ہندوستانیوں کا ایران اور ایرانی عوام سے گہرا تعلق ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان اور ایران کے صدیوں قدیم تعلقات ہیں اور ہندوستان نے روایتی طور پر ایران کے ساتھ طویل اور تاریخی تعلقات کا بھی دعویٰ کرتا رہا ہے۔ وقت کے گذرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان نے ایران کے ساتھ قریبی تجارتی اور معاشی تعلقات بھی بھی دعویٰ کیا۔ ان خوشگواار روایتی و تاریخی تعلقات کی ایک شاندار مثال چاہ بہار بندرگاہ کا فروغ ہے لیکن افسوس کے بی جے پی کی زیرقیادت حکومت میں یہ دعوے کمزور پڑگئے ہیں۔ اس کی سب سے اہم وجہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور ہمارے وزیراعظم نریندر مودی کی گہری دوستی ہے۔ دونوں ہمیشہ اپنی دوستی کا دَم بھرتے رہتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ نریندر مودی نے اپنے حالیہ دورہ اسرائیل کے موقع پر ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ ٹھہرے رہنے کا اعلان کیا۔
مزید نہیں چاہئے: شاندار ماضی یا زمانے قدیم میں کسی بھی جنگ و جدال یا تنازعہ کی صورت میں ثالث کی حیثیت سے ہندوستان سب سے زیادہ مطلوب ہوا کرتا تھا۔ خاص طور پر قیام امن کیلئے دوسرے ممالک ہندوستان کو ثالث مقرر کیا کرتے تھے، لیکن اس مرتبہ جنگ کا چونکہ 28 فروری 2026ء کو آغاز ہوا، امریکہ اور اسرائیل نے جان بوجھ کر ہندوستان سے دوری اختیار کی حالانکہ اسرائیلی وزیراعظم کو وزیراعظم نریندر مودی اپنا سب سے بااعتماد رفیق تصور کرتے ہیں۔ بہرحال ایران ہی وہ ملک ہے جس نے ہندوستان کو وقت بہ وقت موجودہ بحران کی تفصیلات سے واقف کرواتا رہا ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہندوستان کا جھکاؤ ایران سے کہیں زیادہ بلکہ پوری طرح اسرائیل کی طرف رہا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال برکس ملکوں کی اسرائیل کے خلاف قرارداد ہے جس سے ہندوستان نے عدم اتفاق کیا، باالفاظ دیگر ویٹو کیا، اس کے باوجود امریکہ ۔ اسرائیل اتحاد نے ہندوستان کو الگ تھلگ کرکے رکھ دیا اور ہندوستان کی بجائے پاکستان کو نہ صرف اہمیت دی بلکہ اسے ثالث کا کردار بھی دے دیا اور ثالث کے طور پر پاکستان کو بہت زیادہ اہمیت بھی دی۔ واضح رہے کہ ہندوستان اب یہ دکھاوا نہیں کرسکتا کہ مغربی ایشیا کی اس جنگ نے اس پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔ اس جنگ نے دنیا کے اکثر ملکوں کی اقتصادی حالت کو شدید متاثر کیا۔ مقامی طور پر ان ملکوں کو جن کی عالمی تجارتی سپلائی چین اور سمندری مفادات میں اہم حصے ہیں۔ راقم الحروف آپ کو 28 فروری 2026ء سے اب تک کچھ ہندوستانی معاشی اشاریوں سے واقف کروانا چاہتا ہے۔ 28 فروری 2026ء کو برنیٹ خام تیل کی قیمت صرف 67 ڈالر فی بیارل تھی اور 28 اپریل 2026ء میں خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیارل ہوگئی۔ اس طرح 28 فروری 2026ء کو ایل پی جی سلنڈر (گھریلو پکوان گیس) کی قیمت 853 روپئے ہوا کرتی تھی، اب وہ بڑھ کر 913 روپئے ہوگئی۔ کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 1740 ہوا کرتی تھی۔ 28 اپریل کو وہ بڑھ کر 2078 روپئے ہوگئی۔ اب تو مودی حکومت نے 19 کلو کے کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت میں 993 روپئے کا بے تحاشہ اضافہ کردیا ہے۔ اگر ہم Inflation CPI سال بہ سال کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ 28 فروری 2026ء کو یہ 3.21 فیصد تھی۔ 28 اپریل کو بڑھ کر 3.40% ہوگئی۔ دوسری طرف اگر ہم افراط زر Inflation WPI کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ 28 فروری 2026ء کو یہ 2.13% تھی جو 28 اپریل2026ء کو بڑھ کر 3.88% ہوگئی۔ اب بات کرتے ہیں بیرونی زر مبادلہ کے ذخائر کی 28 فروری کو ہمارے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر 728 ارب امریکی ڈالرس اور ایکسچینج ریٹ 91.10 روپئے تھا یعنی ایک ڈالر 91.10 ہندوستانی روپیوں کے مساوی تھا۔ لیکن 28 اپریل 2026ء میں ہمارے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر 728 ارب ڈالرس سے گھٹ کر 703 ارب ڈالرس ہوگئے۔ ساتھ ہی ڈالر کے مقابلے روپئے کی قدر میں بھی زبردست گراوٹ آئی اور 94.20 روپئے ایک ڈالر کے برابر ہوگئے۔ اگر ہم سینسکس BSE اور NIFTY 50(NSE) کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ 28 فروری میں 81.287 اور 28 اپریل 2026ء میں گر کر 76,887 ہوگیا جبکہ آخرالذکر یعنی نفٹی 28 فروری 2026ء میں 25,179 تھا، گر کر 28 اپریل 2026ء میں 23,996 ہوگیا۔ اس طرح بیروزگاری کی شرح 28 فروری 2026ء کو 4.9% تھی اور 28 اپریل2026ء میں بڑھ کر 5.1% ہوگئی۔





