آسام رائفلز پر خوفناک حملہ، دو اہلکار شہید، سرچ آپریشن جاری
منی پور کے ضلع اُکھرول میں شدت پسندوں کے گھات لگا حملے میں آسام رائفلز کے دو اہلکار ہلاک، سرچ آپریشن شروع، حکومت نے سخت کارروائی کا اعلان کیا۔
منی پور کے ضلع اُکھرول میں پیر کے روز سکیورٹی فورسز کے قافلے پر مشتبہ مسلح شدت پسندوں نے گھات لگا کر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں آسام رائفلز کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے، جب کہ دیگر ممکنہ زخمیوں کے بارے میں حکام معلومات جمع کر رہے ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق حملہ دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے اُکھرول ضلع کے نونگشانگ ندی کے قریب پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور پہلے سے گھات لگائے بیٹھے تھے اور انھوں نے قافلے کو نشانہ بنانے کے لیے فائرنگ کے ساتھ دھماکہ خیز مواد بھی استعمال کیا، جس سے موقع پر شدید افراتفری پھیل گئی۔
آسام رائفلز کے ترجمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملے میں فورس کے دو اہلکار جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر اہلکاروں کی حالت اور ممکنہ زخمیوں کے بارے میں مکمل معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں، جس کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔پولیس ذرائع کے مطابق حملہ اُکھرول پولیس اسٹیشن سے تقریباً سولہ کلومیٹر مشرق میں نونگسانگکھونگ کے علاقے کے نزدیک ہوا۔ واقعے کے فوراً بعد اضافی سکیورٹی اہلکاروں کو علاقے میں تعینات کر دیا گیا، داخلی اور خارجی راستوں کی نگرانی بڑھا دی گئی اور جنگلاتی علاقوں میں حملہ آوروں کی تلاش کے لیے مشترکہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
منی پور کے گورنر اجے کمار بھلا نے اس حملے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کی اس نوعیت کی کارروائیاں قابلِ مذمت ہیں اور ایسے بزدلانہ حملے کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ریاست کے وزیرِ اعلیٰ این بیرین سنگھ نے بھی حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے جاں بحق اہلکاروں کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ریاستی حکومت امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے اور اس واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ ان کے مطابق دہشت گردی اور مسلح تشدد کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر انداز میں جاری رکھی جائیں گی تاکہ ریاست میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔






