بحرالکاہل میں چین کا میزائل تجربہ، کئی ممالک میں تشویش
چین نے بحرالکاہل میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا، جس پر آسٹریلیا، جاپان اور نیوزی لینڈ نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے خطے کے امن و استحکام پر خدشات کا اظہار کیا۔
چین نے بحرالکاہل (Pacific Ocean) میں ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جس میں عملی جوہری وارہیڈ کے بجائے تربیتی یا فرضی وارہیڈ استعمال کیا گیا۔ یہ تجربہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب چند ہی گھنٹے قبل آسٹریلیا اور فجی نے باہمی دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے باعث خطے میں سکیورٹی سے متعلق نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔چینی حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ میزائل تجربہ اس کے سالانہ فوجی تربیتی پروگرام کا معمول کا حصہ ہے اور اس کا مقصد کسی ملک کو دھمکی دینا یا خطے میں کشیدگی پیدا کرنا نہیں۔ تاہم جاپان، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بحرالکاہل کے امن و استحکام کے لیے غیر موزوں قرار دیا ہے۔
آسٹریلیا نے ردِعمل میں کہا کہ ایسے فوجی اقدامات خطے میں بے یقینی اور عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔ اگرچہ آسٹریلوی حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ چین کا یہ میزائل تجربہ آسٹریلیا اور فجی کے درمیان ہونے والے نئے دفاعی معاہدے کا براہِ راست جواب تھا۔گزشتہ چند برسوں کے دوران آسٹریلیا بحرالکاہل کے جزیرہ نما ممالک کے ساتھ اپنے دفاعی اور تزویراتی تعلقات کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس پالیسی کا مقصد خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے سیاسی، معاشی اور عسکری اثر و رسوخ کے تناظر میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا ہے۔
آسٹریلیا کے وزیرِ دفاع رچرڈ مارلس نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ چین نے میزائل تجربے سے چند گھنٹے قبل آسٹریلیا کو اس منصوبے سے آگاہ کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا بحرالکاہل میں امن، استحکام اور سلامتی کو متاثر کرنے والے ہر اقدام پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ایسی سرگرمی پر تشویش کا اظہار کرتا ہے جو خطے کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہو۔دوسری جانب چین نے بحرالکاہل اور ہند۔بحرالکاہل کے متعدد ممالک، جن میں نیوزی لینڈ، جاپان اور پاپوا نیو گنی بھی شامل ہیں، کو سمندر میں ہونے والی اپنی فوجی سرگرمیوں سے پیشگی آگاہ کیا تھا۔ جاپانی حکومت کے مطابق اسے میزائل داغے جانے سے تقریباً نوّے منٹ قبل اطلاع ملی، جس کے بعد ٹوکیو نے بیجنگ سے اس اقدام پر نظرِ ثانی کی درخواست بھی کی۔ تاہم چین نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک معمول کا فوجی تجربہ تھا، جو تقریباً دو برس کے وقفے کے بعد انجام دیا گیا۔






