رام مندر چندہ معاملہ، کلین چٹ سے نیا تنازع کھڑا
ایودھیا رام مندر چندہ مبینہ خرد برد کیس میں ٹرسٹ نے استعفے منظور کیے، ایس آئی ٹی تحقیقات جاری، عبوری رپورٹ میں بے ضابطگیوں کے دعوے سامنے آئے۔
ایودھیا میں رام مندر کے چندے میں مبینہ بے ضابطگیوں اور خرد برد کے معاملے پر پیر کے روز شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کی ایک طویل اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی، جو تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہی۔ اجلاس میں سابق جنرل سیکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹی انل مشرا کے استعفوں، جاری تحقیقات اور چندے کے انتظامی نظام پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس کے بعد ٹرسٹ کے خزانچی گووند دیو گری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ چمپت رائے نے اخلاقی ذمے داری قبول کرتے ہوئے ازخود استعفیٰ دیا تاکہ تحقیقات پر کسی قسم کا اثر نہ پڑے۔ ان کے مطابق ٹرسٹ نے چمپت رائے اور انل مشرا دونوں کے استعفے قبول کر لیے ہیں، جب کہ کرشن موہن کو عبوری جنرل سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹرسٹ کے آئین کے مطابق کسی عہدیدار کا استعفیٰ جمع ہوتے ہی مؤثر تصور کیا جاتا ہے اور اسے منظور یا مسترد کرنے کی الگ سے کوئی شق موجود نہیں۔
گووند دیو گری نے اس بات پر زور دیا کہ چمپت رائے کا مبینہ خرد برد سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا اور ان کی نظر میں وہ بے قصور ہیں۔ تاہم اس بیان پر کئی حلقوں نے سوال اٹھائے کہ جب خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کی تفتیش ابھی مکمل نہیں ہوئی تو کسی بھی شخص کو پہلے ہی کلین چٹ دینا کس حد تک مناسب ہے۔اسی کے ساتھ یہ سوال بھی سامنے آیا کہ اگر استعفیٰ خود بخود مؤثر ہو جاتا ہے تو پھر اس مقصد کے لیے خصوصی اجلاس بلانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اجلاس سے بعض اعلیٰ عہدیداروں کو تحفظ دینے کا تاثر پیدا ہوا ہے، جب کہ ٹرسٹ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اجلاس کا مقصد مجموعی انتظامی صورت حال کا جائزہ لینا تھا۔
پریس کانفرنس میں خزانچی نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے یقین دلایا کہ قصوروار افراد کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، تاہم انہوں نے مبینہ خرد برد کی رقم یا اس میں شامل تمام افراد کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر اس معاملے کو مذہبی جذبات کو متاثر کرنے اور ماحول خراب کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔دوسری جانب قیمتی سونے، چاندی اور جواہرات سے مزین رام چرت مانس کے حوالے سے بھی تنازع سامنے آیا تھا۔ سابق مرکزی داخلہ سیکریٹری اور ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر لکشمی نارائن کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے تقریباً پانچ کروڑ روپے مالیت کا نذرانہ مندر کو پیش کیا تھا، مگر انہیں کوئی رسید نہیں دی گئی اور بعد میں یہ نذرانہ اپنی اصل جگہ پر موجود نہیں ملا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس معاملے کی شکایت آر ایس ایس قیادت تک بھی پہنچائی گئی لیکن مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔
ٹرسٹ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مذکورہ رام چرت مانس مکمل طور پر محفوظ ہے اور اسے گربھ گرہ سے منتقل کرکے زیورات کے محفوظ کمرے میں رکھا گیا ہے۔ ٹرسٹ کے مطابق عقیدت مندوں کی جانب سے موصول ہونے والے 2,926 اقسام کے تمام قیمتی نذرانوں کا باقاعدہ اندراج رجسٹر میں موجود ہے اور ہر سال ایک آزاد چارٹرڈ اکاؤنٹنسی فرم ان کی جانچ بھی کرتی ہے۔ پیشگی اجازت کے بعد متعلقہ ریکارڈ کا معائنہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
ادھر ایس آئی ٹی کی عبوری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں تقریباً ستر ایسے مواقع سامنے آئے جہاں مبینہ طور پر رقم میں خرد برد یا مشکوک سرگرمیاں دیکھی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض ملازمین نوٹوں کی گڈیوں سے رقم نکال کر کپڑوں، جیبوں اور جوتوں میں چھپاتے تھے، جب کہ بعض مواقع پر کیمروں کو ڈھانپنے یا ریکارڈنگ متاثر کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ تفتیش میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ملزمان آپس میں خفیہ اشاروں اور مخصوص کوڈ ورڈز کے ذریعے رابطہ رکھتے تھے۔عبوری رپورٹ میں چھ افراد کو ابتدائی طور پر اس معاملے میں ملوث قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف سی سی ٹی وی فوٹیج اور مالی لین دین سمیت ابتدائی شواہد موجود ہیں۔ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حتمی رپورٹ آنے کے بعد مزید قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔






