منگیتر ہی قاتل نکلی، کیتن کی موت نے ہلا دیا
پونے قتل کیس میں منگیتر اور مبینہ عاشق گرفتار، مقتول کے اہلِ خانہ نے سخت سزا اور غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
پونے کے معروف کاروباری خاندان سے تعلق رکھنے والے نوجوان کیتن اگروال کے قتل کے معاملے میں پولیس نے مقتول کی منگیتر سیا گوئل اور ایک نوجوان چیتن کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور حقائق سامنے لانے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔مقتول کے والد وشال اگروال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خاندان اس واقعے سے شدید صدمے میں ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں۔ ان کے مطابق اس سانحے میں جو بھی افراد ملوث پائے جائیں، انہیں قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جانی چاہیے۔
وشال اگروال نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ان کی بیٹی کو کچھ معاملات مشتبہ محسوس ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد جب سیا سے مختلف سوالات کیے گئے تو اس نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ خاندان کے مطابق انہیں کبھی یہ احساس نہیں ہوا تھا کہ سیا اس رشتے سے ناخوش ہے یا اس کی زندگی میں کوئی اور شخص موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ سیا گھر کے افراد سے معمول کے مطابق رابطے میں رہتی تھی اور اس کے رویے سے کبھی ایسا تاثر نہیں ملا کہ وہ شادی کے حوالے سے کسی دباؤ یا پریشانی کا شکار ہے۔ مقتول کیتن کو بھی کسی قسم کا واضح شک نہیں تھا، البتہ وہ کبھی کبھار یہ ضرور ذکر کرتا تھا کہ سیا کا فون اکثر مصروف رہتا ہے۔
مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ اگر سیا کسی اور شخص سے تعلق رکھتی تھی تو وہ آسانی سے یہ بات خاندان کو بتا سکتی تھی، جس کے بعد رشتہ ختم کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ ان کے بقول اصل سوال یہ ہے کہ معاملہ قتل تک کیوں پہنچا۔وشال اگروال نے مزید کہا کہ حادثے کے دن ہی خاندان کو کچھ غیر معمولی باتوں کا احساس ہوا تھا، کیونکہ کیتن کا طرزِ زندگی ایسا نہیں تھا کہ وہ اچانک کسی خطرناک صورتحال میں خود کو ڈال دے۔ بعد ازاں سامنے آنے والی بعض معلومات نے شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کا پورا اعتماد عدالتی نظام پر ہے اور وہ امید رکھتے ہیں کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد تمام حقائق سامنے آئیں گے۔ ان کے مطابق جب تک ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا نہیں ملتی، خاندان کو انصاف ملنے کا احساس نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے ان کے خاندان سے ایک قیمتی فرد چھین لیا ہے اور وہ انصاف کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔






