سی جے پی کاپارلیمنٹ مارچ، دہلی میں ہائی الرٹ اوراحجاج پر لاٹھی چارج
پارلیمنٹ مارچ کے دوران دہلی میں ہائی الرٹ، پولیس کی سخت بیریکیڈنگ، لاٹھی چارج، میٹرو اسٹیشن بند، احتجاجی مظاہرین مسلسل آگے بڑھنے کی کوشش میں۔
پارلیمنٹ کی جانب کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے اعلان کردہ بڑے احتجاجی مارچ کے پیشِ نظر قومی دارالحکومت دہلی میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ حساس علاقوں میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتِ حال سے نمٹا جا سکے۔پولیس نے پارلیمنٹ اور اس سے ملحقہ علاقوں کی طرف جانے والے متعدد راستوں پر بیریکیڈنگ کر دی ہے، جس کے باعث ٹریفک کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی ہے۔ انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر بعض علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات پر عارضی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جبکہ پٹیل چوک اور جن پتھ سمیت کئی میٹرو اسٹیشن بھی وقتی طور پر بند کر دیے گئے ہیں تاکہ سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔اوربھارتیہ نیا سنہیتا (BNSS) کی دفعہ 163 (سابقہ دفعہ 144) نافذ کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب احتجاجی مارچ مسلسل پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مظاہرین مختلف راستوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن پولیس نے انہیں متعدد مقامات پر روک دیا۔ اس دوران کئی بار پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے آئے، جس سے حالات میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ایک رپورٹ کے مطابق اس احتجاج میں 10ہزار سے زائد لوگوں نے شرکت کی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاجی مارچ کو مقررہ حدود سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ اس سے امن و امان کی صورتِ حال متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری طرف مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں پارلیمنٹ تک پہنچنے پر بضد ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ پرامن انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے ہیں۔مظاہرین کو منتشر کرنے اور انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے پولیس نے متعدد مواقع پر لاٹھی چارج بھی کیا، جس کے بعد کچھ دیر کے لیے افراتفری کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ اس دوران کئی مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، لیکن حکام کی جانب سے اس بارے میں باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
سکیورٹی ادارے مسلسل صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور ٹریفک سے متعلق پولیس کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ دہلی میں احتجاج کے باعث سیاسی سرگرمیوں اور عوامی آمد و رفت پر بھی نمایاں اثرات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔






