سی بی ایس ای نے نویں جماعت میں تیسری زبان لازمی کردی
سی بی ایس ای نے 2026 سے نویں جماعت میں تیسری زبان لازمی کردی، دسویں بورڈ امتحان میں اضافی زبان کے پرچے سے راحت دی گئی۔
سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن نے نئی تعلیمی پالیسی کے تحت نویں جماعت سے طلبہ کے لیے تیسری زبان کی تعلیم کو لازمی قرار دینے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ بورڈ کی جانب سے جاری تازہ ہدایات کے مطابق تعلیمی سال 2026-27 سے نویں کلاس میں داخلہ لینے والے تمام طلبہ کو تین زبانیں پڑھنا ضروری ہوگا۔ اس فیصلے کو دسویں جماعت کے بورڈ امتحانات کے تناظر میں ایک بڑی تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ اب طلبہ کو اضافی زبان کی تعلیم بھی حاصل کرنی پڑے گی۔بورڈ نے واضح کیا ہے کہ نئی پالیسی قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور نیشنل کریکولم فریم ورک 2023 کے اصولوں کے مطابق نافذ کی جا رہی ہے۔ ان رہنما خطوط کے تحت طلبہ کے لیے ضروری ہوگا کہ تین زبانوں میں کم از کم دو زبانیں ہندوستانی اصل کی ہوں۔ اس اقدام کا مقصد ملک کی مقامی زبانوں کو فروغ دینا اور طلبہ کو ہندوستان کی لسانی و ثقافتی تنوع سے جوڑنا بتایا جا رہا ہے۔
سی بی ایس ای کے مطابق یکم جولائی 2026 سے نویں جماعت میں زیر تعلیم طلبہ کے لیے پہلی، دوسری اور تیسری زبان کی باقاعدہ تعلیم لازمی ہوگی۔ تاہم بورڈ نے طلبہ کو کچھ راحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ دسویں جماعت کے بورڈ امتحان میں تیسری زبان کے علیحدہ پرچے سے استثنا دیا جائے گا۔ یعنی طلبہ کو یہ زبان ضرور پڑھنی ہوگی، لیکن اس کا بورڈ امتحان لازمی نہیں ہوگا۔بورڈ نے اسکولوں کو ہدایت دی ہے کہ تیسری زبان کا جائزہ اور اسسمنٹ مکمل طور پر اسکول سطح پر کیا جائے۔ اس کے لیے داخلی امتحانات اور تعلیمی سرگرمیوں کی بنیاد پر طلبہ کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جائے گا۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے طلبہ میں زبان سیکھنے کی صلاحیت بڑھے گی اور وہ مختلف ہندوستانی زبانوں اور ثقافتوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے۔





