روزنِ تاریخ

سلسلۂ رشیدیہ جون پورکی خانقاہوں اورتعلیمی اداروں کا تعارف و جائزہ

برصغیر ہند وپاک میں محبت، رواداری اور اسلام کی حقیقی روح کو فروغ دینے میں صوفیہ کرام اور خانقاہی نظام کا کردار نہایت نمایاں اور ناقابلِ فراموش ہے۔ ان بزرگوں کے اعلیٰ اخلاق، نرم مزاجی، شیریں کلامی اور اعتدال پر مبنی طرزِ زندگی نے لوگوں کے دلوں کو مسخر کیا اور حق و باطل میں تمیز کا ایک واضح معیار قائم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ جوق در جوق ان کی تعلیمات سے متاثر ہو کر ان کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوتے گئے۔انہی بابرکت خانقاہوں میں ایک ممتاز اور منفردخانقاہ؛خانقاہ رشیدیہ بھی ہے، جس کی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں پانچ شاخیں قائم ہیں۔ ہر شاخ کے ساتھ دینی و تعلیمی ادارے بھی وابستہ ہیں جو علم و تربیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ان اداروں نے دینی اقدار کے ساتھ ساتھ عصری تقاضوں کو بھی پیش نظر رکھا ہے۔ اس مضمون میں سلسلۂ رشیدیہ کی تمام خانقاہوں اور مدارس کا مختصر تعارف، ان کی خدمات اور موجودہ صورتِ حال پر ایک نظر ڈالی جارہی ہے۔

خانقاہ رشیدیہ ہندوستان کی قدیم اور معروف خانقاہوں میں سے ایک ہے۔ اس کے بانی شیخ محمد رشید عرف دیوان جی جون پوری (مصنف: مناظرۂ رشیدیہ) ہیں۔ اس خانقاہ کی بنیاد تقریباً 1040 ھ میں اُس وقت رکھی گئی جب دیوان جی کی عمر چالیس برس تھی۔بانی سلسلۂ رشیدیہ نہ صرف روحانی علوم کے عظیم ماہر اور باکمال شیخِ طریقت تھے بلکہ ظاہری علوم کے بھی ایک بہترین استاد اور نامورعالم وفاضل تھے۔ اس خانقاہ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی ہے کہ یہاں کے سجادگان اپنے اپنے ادوار میں صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ بلند پایہ عالم بھی رہے ہیں۔ یہ خانقاہ اپنی سادگی، تواضع اور صوفیانہ روایات کے اعتبار سے ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ خانقاہ کا مرکزی مقام محلہ میرمست، جون پور میں واقع ہے، جب کہ بانی سلسلۂ رشیدیہ اور دیگر سجادگان و بزرگانِ سلسلہ کے مزارات رشیدآباد، جون پور شریف میں ہیں۔ ان دونوں مقامات پر دینی و تعلیمی سرگرمیوں کے لیے مدارس بھی قائم ہیں، جو اس سلسلے کی علمی خدمات کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے نمبر درج ہے:حافظ ممتاز عالم رشیدی:9161066521

اس مدرسے میں حفظِ قرآن کی تعلیم دی جاتی ہے۔ طلبہ ہاسٹل میں رہتے ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت کا باقاعدہ انتظام موجود ہے۔ اس ادارے میں اساتذہ تدریسی خدمات انجام دیتے ہیں۔ جس کی نگرانی اور دیکھ بھال کی ذمے داری مولانا غلام مصطفیٰ رشیدی کے سپرد ہے۔مزید معلومات کے لیے ان سے رابطہ کریں۔9919263873

مدرسہ آستانۂ عالیہ رشیدیہ رشید آبادجون پور کی بنیاد 2007 میں مجمع البحرین حضرت مفتی محمد عبیدالرحمٰن رشیدی نے رکھی تھی ۔ آستانہ کے احاطے میں قائم اس مدرسے میں بھی حفظِ قرآن کی تعلیم دی جاتی ہے اور طلبہ کے لیے ہاسٹل کی سہولت موجود ہے، جہاں وہ باقاعدہ رہائش اختیار کر کے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس ادارے کے انتظامی امور اور مجموعی نگرانی بھی مولانا غلام مصطفیٰ صاحب کے ذمے ہے۔مزید معلومات کے لیے ان سے اس نمبر پر رابطہ کرسکتے ہیں۔9919263873

یہ خانقاہ قطبِ بنارس حضرت مخدوم شاہ طیب بنارسی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے والد گرامی حضرت شیخ معین بنارسی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب ہے۔ اس کے بانی خود مخدوم شاہ طیب بنارسی ہیں۔ یہ خانقاہ بنارس کی معروف اور ممتاز خانقاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں اہلِ بنارس کو خاص طور پر گہری عقیدت و وابستگی حاصل ہے۔مخدوم شاہ طیب بنارسی شریعت و طریقت کے جامع اور عظیم شیخ تھے۔ آپ بدعات اور شریعت کے خلاف امور کے سخت مخالف تھے اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے ہمیشہ سرگرم رہے۔
جغرافیائی اعتبار سے خانقاہ کا مرکزی احاطہ اس طرح ہے کہ مین روڈ سے داخل ہونے پر سامنے حضرت شاہ طیب بنارسی رحمۃ اللہ علیہ کا مزارِ اقدس واقع ہے، جو ’’چھوٹی درگاہ‘‘ کے نام سے مشہورہے۔ مزار کے اُتر جانب ایک شاندار تعلیمی ادارہ قائم ہےجو دارالعلوم طیبیہ معینیہ درگاہ شریف منڈواڈیہ کے نام سے جانا جاتا ہے اور مزار سے پچھم جانب قدیم مسجد واقع ہے۔ چھوٹی درگاہ سے آگے جنوبی سمت میں وضو خانے کے قریب سے گزرتے ہوئے ’’بڑی درگاہ‘‘ کا حصہ آتا ہے، جہاں متعدد مزارات موجود ہیں۔ بڑی درگاہ بنیادی طور پر حضرت شیخ معین الدین بنارسی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب ہے۔ اسی احاطے میں مجددِ سلسلۂ رشیدیہ حضرت مجمع البحرین مفتی محمد عبیدالرحمٰن رشیدی رحمۃ اللہ علیہ گیارہویں سجادہ نشین خانقاہ عالیہ رشیدیہ کا مزارِ پرانوار ہے۔ آپ کے دورِ سجادگی میں خانقاہی و دینی خدمات قابلِ رشک انداز میں انجام پائیں۔
درگاہ شریف کی موجودہ صورت حال اور مزید معلومات کے لیے رابطہ نمبر:ماسٹر اکرم صاحب: 9839873510

یہ مدرسہ حضرت مجمع البحرین رحمۃ اللہ علیہ کی سرپرستی میں 1990 میں قائم ہوا۔ ابتدا سے لے کر آج تک یہ ادارہ مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اپنی تعلیمی و تربیتی خدمات کو مزید بہتر بنانے میں مصروف ہے۔اس مدرسے میں عالمیت، فضیلت، حفظ و قراءت کے ساتھ ساتھ انگریزی، کمپیوٹر اور مضمون نگاری کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ حال ہی میں یہاں دارالافتاء کا بھی قیام عمل میں آیا ہے، جہاں فتویٰ نویسی کی عملی تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔

مدرسے سے متعلق مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں:
حضرت مولاناعبدالسلام صاحب :8004648104
مولانا قاضی مظہر صاحب:9918969027

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

روزنِ تاریخ

مدرسہ عالیہ قادریہ بدایوں : برصغیر کا نہایت قدیم اور تاریخی تعلیم گاہ

ڈاکٹرارشاد عالم نعمانیاستاذمدرسہ شمس العلوم گھنٹہ گھر بدایوں ’مدرسہ عالیہ قادریہبدایوں‘ اسلامی علوم وفنون کی ترویج واشاعت کے لیے قائم
روزنِ تاریخ

خطہ پنڈوہ کی روحانی و عرفانی عظمت

دانش علائی سلی گوڑوی فاضل مخدوم اشرف مشناستاد : مدرسہ جلالیہ اسلامیہ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ دیوتالہ مالدہ بنگال پنڈوہ شریف