ٹرمپ کا اصل مقصد …
ودود ساجد
ایڈیٹر روزنامہ انقلاب
ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی مسلح کشمکش کی ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لی ہے اور اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو کو کٹھ پتلی کا کردار دیدیا ہے۔ ایران اور لبنان میں جنگ بندی کی توسیع کے یکطرفہ اعلانات سے تو یہی ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے ایران کے خلاف جاری دو ہفتوں کی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے 21 ؍ اپریل کو اعلان کردیا کہ وہ اس وقت تک کیلئے توسیع کر رہے ہیں جب تک ایران صلح کی کوئی متفقہ تجویز پیش نہیں کرتا۔ پھر اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری دس روزہ جنگ بندی کے ختم ہونے سے دو دن پہلے 24 ؍اپریل کو اعلان کردیا کہ وہ اس میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ایران کے تعلق سے جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایران سے تو کسی قسم کے مشورہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اسرائیل سے بھی یا کم سے کم نتن یاہو سے بھی کوئی مشورہ نہیں کیا گیا۔ یہاں تک کہ اعلان کے وقت بھی نتن یاہو کو ساتھ نہیں لیا گیا۔ نتن یاہو نے کہا کہ انہیں اس کا علم نہیں تھا۔ ایران کے ساتھ اولین جنگ بندی کے فیصلہ پر بھی نتن یاہو نے یہی کہا تھا کہ انہیں اس کاعلم میڈیا سے ہوا اور یہ کہ انہیں تعجب ہوا۔ تازہ اطلاع یہ ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان سے روانہ ہوگئے اور ٹرمپ نے امریکی وفد کا دورہ پاکستان ملتوی کردیا۔۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ اتنی صالح روح نہیں ہیں کہ اتنی آسانی اور نیک نیتی کے ساتھ ایران اور لبنان کو سانس لینے کا موقع خوشی سے عنایت کردیں۔ مبصرین کو اندیشہ ہے کہ ٹرمپ فی الواقع ایک اور بڑی جنگ کیلئے ’مہلت‘ خرید رہے ہیں اور اس کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ انہوں نے بھلے ہی نتن یاہو کو کٹھ پتلی بنا دیا ہو لیکن ان کا اصل مقصد اسرائیل کو ہر طرف سے محفوظ بنا دینا ہی ہے۔ انہیں ایران‘لبنان یا عربوں سے کوئی محبت نہیں ہے۔ بحر عرب میں ایک اور امریکی جنگی بحری بیڑا پہلے ہی پہنچ گیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے اطراف میں امریکی بحری فورسز نے ڈیرا ڈال ہی رکھا ہے۔
امریکی فورسز کے چیف اور جنگی ادارے پنٹاگن کے دیگر افسروں کا بھی کہنا ہے کہ ہم ایک بڑی اور فیصلہ کن جنگ کیلئے تیار ہیں۔ نتن یاہو تو دوبارہ حملے شروع کرنے کیلئے بے چین ہے ہی۔ لہٰذا کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کب کیا ہوجائے۔ ایران نے بھی کہا ہے کہ ایران کے عوام اور حکمراں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح امریکہ اور اسرائیل کی تھوپی ہوئی اس جنگ کے خلاف مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایران نے اپنی طاقت کے اظہار کے طور پر اپنے میزائلوں اور ڈرونوں کی مزید کچھ تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی بہت سا پرانا اسٹاک جوں کا توں موجود ہے۔ یہ بات اس لئے اہم ہے کہ ٹرمپ نے کئی بار کہا ہے کہ ایران کا اقتدار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ہے ‘ حکمرانوں میں سخت اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور یہ کہ اس کی قوت کو ختم کردیا گیا ہے۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی اس جارحانہ جنگ کا ایک اہم عنصر اب لبنان بھی بن گیا ہے۔ لبنان کی جنوبی سرحد ایک طرف شمالی اسرائیل سے ملتی ہے اور دوسری طرف شام سے۔ جنوب میں سب سے مضبوط غیر سرکاری جماعت ’حزب اللہ‘ موجود ہے جوحماس کی طرح اسرائیل سے برسرپیکار ہے۔ حزب اللہ کی قیادت شیعہ علماء کے ہاتھوں میں رہی ہے۔ اس کے حامیوں میں گوکہ سنی اور عیسائی بھی ہیں تاہم شیعہ اکثریت میں ہیں۔ جنوبی سرحد سے لے کر لبنان کی راجدھانی بیروت تک حزب اللہ کا سیاسی اثر و رسوخ قائم ہے۔ حزب اللہ کی مدد ایران کرتا رہا ہے لیکن شام میں حکمرانوں کی تبدیلی کے بعد اب حزب اللہ کی مدد کے راستے مسدود ہوگئے ہیں۔
حزب اللہ عام انتخابات میں بھی حصہ لیتی رہی ہے۔ لہٰذا اس بار بھی 128 سیٹوں والی پارلیمنٹ میں اس کے 13 ممبر منتخب ہوکر آئے ہیں۔ کچھ مقامی چھوٹی سیاسی جماعتوں سے بھی اس کا اتحاد ہے۔ اس اعتبار سے وہ لبنان میں ایک مضبوط سیاسی عنصر بھی ہے اور متعدد حکومتوں میں شریک بھی رہی ہے۔ دو چھوٹی جماعتوں کےساتھ مل کر وہ ایک اہم اپوزیشن کے طور پر لبنان کے سیاسی نظام کے سبب وہاں کے صدر اور وزیر اعظم کے انتخاب میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بیروت کے جنوبی علاقوں ضاحیہ اور بقاع پر اس کا مکمل کنٹرول ہے۔ ان علاقوں سے متصل اسرائیل کی چار بڑی شہری بستیاں ’کریات شمونہ‘ میتولہ‘ نہاریہ اور صفد ‘ آباد ہیں۔ یہاں تین لاکھ اسرائیلی رہتے ہیں۔ یہاں حزب اللہ حملے کرتی رہتی ہے۔
گزشتہ سات اکتوبر 2023 کے بعد سے شمالی اسرائیل میں مسلسل مسلح کشمکش رہی ہے اور حزب اللہ کے حملوں کے خوف سے اسرائیلی شہریوں کی ایک بڑی تعداد بار بار نقل مکانی کرتی رہی ہے۔ ان علاقوں کی حفاظت پر مامور اسرائیلی فوجی بھی حزب اللہ کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ مجموعی طور پر شمالی اسرائیل کا یہ خطہ ہمیشہ خطرہ میں رہتا ہے اور یہی اسرائیل کیلئے سب سے بڑا درد سر ہے۔ اسرائیلی فورسز بھی جنوبی لبنان میں انتہائی جارحانہ کارروائیاں انجام دیتی رہی ہیں۔
گزشتہ سات اپریل کو ٹرمپ نے ایران‘ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان دو ہفتہ کی جس جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اس میں ایران کا دعویٰ تھا کہ لبنان بھی شامل تھا۔ یعنی اسرائیل کو لبنان میں حزب اللہ کے خلاف حملے روک دینے چاہئیں تھے۔ لیکن اس دعوے کو نہ امریکہ نے تسلیم کیا اور نہ اسرائیل نے۔ اس دوران اسرائیلی فورسز نے بھیانک حملے کرکے سینکڑوں لبنانیوں کو شہید کردیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایران نے جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز کو نہیں کھولا اور مطالبہ کیا کہ پہلے جنگ بندی کے مطابق لبنان پر حملے روکے جائیں۔ اسرائیل کے صحافی جیکب مجید سمیت متعدد مبصرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ ایران کے جال میں پھنس گئے اور آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور جنگ بندی جاری رکھنے کیلئے انہوں نے نتن یاہو کو آمادہ کیا کہ وہ لبنان کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں۔ لہٰذا دہائیوں میں پہلی بار واشنگٹن میں امریکہ اور لبنان کے سفیروں کے درمیان مذاکرات ہوئے اور ٹرمپ نے دس روزہ جنگ بندی کا اعلان کردیا۔
نتن یاہو نے اس جنگ بندی پر حیرت کا اظہار کیا تھا لیکن آخر کاراسرائیل کو لبنان میں حزب اللہ کے خلاف حملے روکنے پڑے۔ اس جنگ بندی کی مدت بھی 26 اپریل کو ختم ہونے والی تھی کہ ٹرمپ نے لبنان اور اسرائیل کے سفیروں کی دوسرے دور کی ملاقات کے فوراً بعد یکطرفہ طور پر تین ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کردیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس میٹنگ کی صدارت خود ٹرمپ نے کی تھی۔ ٹرمپ نے یہ اعلان بھی کیا کہ اب وہ اسرائیل کے وزیر اعظم اور لبنان کے صدر کے درمیان میٹنگ کی میزبانی کریں گے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹرمپ کو اسرائیل کے تحفظ کی خاطر اس محاذ پر قابو پانےکی کتنی فکر ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ ہوگا تو اس میں یہ بھی شامل ہوگا کہ ایران کو حزب اللہ کی مدد فوراً بند کرنی ہوگی اور یہ کہ جنگ بندی اسرائیل کو حق دفاع میں حملوں سے نہیں روکتی۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ لبنان کو وہ قانون ختم کرنا ہوگا جس کے تحت اسرائیل کے ساتھ کسی بھی لبنانی کا رابطہ کرنا جرم ہے۔ ٹرمپ کو یہ خوف ستانے لگا کہ اگر حزب اللہ پر اسرائیل مسلسل حملے کرتا رہا تو اس سے ایران کے ساتھ جنگ بندی خطرہ میں پڑجائے گی لیکن ایران کو لبنان سے دور رکھنے کیلئے ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان علیحدہ مذاکرات کرادئے۔ ایسا دہائیوں میں کبھی نہیں ہوا تھا، لہٰذا یہ بڑا اہم واقعہ تو ہے ہی۔
اس وقت لبنان میں حکومت کو حزب اللہ مخالف سمجھا جاتا ہے لیکن وہ اس کے خلاف کھل کر بھی کچھ کہنا نہیں چاہتی۔ وہ حزب اللہ کی سرگرمیوں سے تنگ آگئی ہے اور اب اس سے چھٹکارا پانا چاہتی ہے۔ لبنان کے صدر اس سلسلہ میں بہت پرجوش نظر آتے ہیں تاہم انہوں نے ٹرمپ کے کہنے کے باوجود فون پر نتن یاہو سے بات کرنے سے انکار کردیا تھا۔ لبنان کےصدر’جوزف عون‘ عیسائی ہیں‘ وزیر اعظم ’نواف سلام‘ سنی مسلمان ہیں اور پارلیمنٹ کے اسپیکرنبی بیری شیعہ ہیں۔ فرقہ وارانہ بنیادوں پر مناصب کی یہ تقسیم 1932 کی مردم شماری کے مطابق چلی آرہی ہے۔ اس کے بعد سے آج تک پھر کوئی مردم شماری نہیں ہوئی۔ اس کے مطابق شیعہ اور عیسائی 35-35 فیصد ہیں جبکہ سنی مسلمانوں کی تعداد 30 فیصد بتائی جاتی ہے۔
لبنان کی حکومت بھی چاہتی ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کردیا جائے لیکن حزب اللہ ایک طرف تو خود مضبوط ہے اور متعدد علاقوں پر کنٹرول رکھتی ہے‘ دوسرے اس میں شیعہ اکثریت میں ہیں‘ فوج میں بھی شیعہ اچھی خاصی تعداد میں ہیں’ لہٰذا لبنانی فوج کے چیف بھی حزب اللہ کے خلاف اس خوف سے سخت اقدام کو درست نہیں سمجھتے کہ اس سے فوج میں شیعہ طبقات نالاں ہوسکتے ہیں۔ لبنان کے وزیر اعظم سلام نواف عالمی عدالت انصاف کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔ اسرائیل کے خلاف افریقہ کے نسل کشی کے مقدمہ میں انہوں نے ہی اسرائیل کے خلاف فیصلہ سنایا تھا۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی متعدد کوششیں ناکام ثابت ہوچکی ہیں۔ اب ایک سوال یہ ہے کہ اگر حزب اللہ پر حکومت لبنان کا کنٹرول نہیں ہے تو لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے زمین پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ لبنان میں پچھلے تین برس کے دوران اسرائیلی فورسز نے ساڑھے چھ ہزار شہریوں کا قتل کیا ہے اور ہزاروں عمارتوں کو تباہ کردیا ہے۔ حکومت لبنان عام شہریوں اور حزب اللہ کے بندوق برداروں کی ہلاکتوں کی تعداد کو الگ کرکے نہیں بتاتی۔ اسرائیلی فورسز نے جنوبی لبنان میں چھ میل اندر تک بفرزون قائم کرکے اس پر قبضہ کر رکھا ہے۔
حکومت لبنان کا اصل مقصد مذاکرات کے ذریعہ اس علاقہ سے اسرائیلی فورسز کا انخلاء ہے‘ جبکہ اسرائیل کا اصل مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرانا ہے۔ وہائٹ ہائوس میں میٹنگ کے بعد امریکہ میں اسرائیل کے سفیر نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ حزب اللہ کے خاتمے اور لبنان کے ساتھ امن معاہدہ کا نشانہ حاصل کیا جاسکے گا۔ لیکن امریکہ میں لبنان کی سفیر نے اس تاریخی میٹنگ کی صدارت کرنے کیلئے فقط ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔
لبنان میں جنگ بندی اس لئے اہم ہے کہ اسرائیل نے وہاں اپنے قیام کے بعد سے مختلف ادوار میں بھیانک تباہی مچائی ہے۔ اس نے 1982 کی ہی جنگ میں 20 ہزار افراد کو شہید کردیا تھا۔ اس کا مقابلہ حزب اللہ نے ہی کیا۔ حزب اللہ کو امریکہ‘ یوروپ‘ برطانیہ اور اسرائیل نے دہشت گرد جماعت ڈکلیر کر رکھا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ نے حماس کی طرح حزب اللہ کو بھی دہشت گرد جماعت قرار نہیں دیا ہے۔ حزب اللہ حماس کے شانہ بہ شانہ بھی اسرائیل سے لڑتی رہی ہے۔ اکتوبر 2023 کی جنگ میں بھی اس نے حماس کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ جس میں اس نے حسن نصر اللہ سمیت اپنے متعدد بڑے قائدین کو اسرائیل کے حملوں میں گنوا دیا تھا۔ اس کے بعد اسرائیل نے مجبور ہوکر اس سے جنگ بندی کرلی تھی۔
یہاں یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ 24 مئی 2000 کو اسرائیل نے حزب الله کے دباؤ کے سبب حیرت انگیز طور پر لبنان کے بعض علاقوں پر اپنا 18 سالہ قبضہ ختم کردیا تھا۔ حزب اللہ اسے اپنی بڑی کامیابی تصور کرتی ہے۔ ایسے میں کیا اس وقت تک حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جانا موزوں ہوگا جب تک اسرائیل اہل فلسطین کو ان کے غصب شدہ حقوق نہیں لوٹا دیتا؟





