ایران کا جنگ بندی پر ردعمل، صورت حال پر گہری نظر برقرار
ایران نے جنگ بندی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صورت حال پر نظر ہے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا.
ایران کے دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں تیزی سے بدلتی صورت حال پر ایران مسلسل گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کی درخواست کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ قومی مفادات کے مطابق بروقت فیصلے کیے جا سکیں۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی (ارنا) کے مطابق ترجمان نے ایک بیان میں واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اور مناسب اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں کسی بھی پیش رفت کو محض وقتی بیانات کی بنیاد پر نہیں بلکہ زمینی حقائق اور علاقائی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کی رات امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی کی مدت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ایران کی حکومت کو شدید نقصان سے دوچار قرار دیا، جس پر مختلف حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایران کی جانب سے اس بیان کو محتاط انداز میں لیا جا رہا ہے اور سرکاری سطح پر اس کے اثرات کا جائزہ جاری ہے۔امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے اسماعیل بقائی نے کہا کہ سفارتکاری ایک اہم ذریعہ ہے جس کے ذریعے قومی مفادات اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول، جب بھی ایران کو یہ محسوس ہوگا کہ بات چیت کے لیے سازگار اور مناسب حالات موجود ہیں، تو وہ اس راستے کو اختیار کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی مذاکراتی عمل کا آغاز ایران کے اصولی مؤقف، خودمختاری اور سلامتی کے تقاضوں کے مطابق ہی ہوگا۔
ترجمان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران موجودہ صورتحال میں محتاط مگر فعال حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے اور خطے میں ہونے والی پیش رفت کو قریب سے مانیٹر کر رہا ہے تاکہ وقت آنے پر مناسب ردعمل دیا جا سکے۔





