خبرنامہ

سی جے پی احتجاج: زخمی شخص کی بیٹی کی اپیل پر راہل متحرک

نئی دہلی: دارالحکومت دہلی میں کوکرچ عوام پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر زخمی ہونے والے ایک شخص کی بیٹی کی جانب سے انصاف کی اپیل سامنے آنے کے بعد لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے اس معاملے پر ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ راہل گاندھی نے متاثرہ لڑکی نشو آزاد کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اسے گھبرانے کی ضرورت نہیں اور وہ اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔
راہل گاندھی نے اپنے پیغام میں الزام عائد کیا کہ نشو آزاد کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ اپنے برادری کے لوگوں اور طلبہ کے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے دہلی پولیس کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔ کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ ایک جانب طلبہ کے ساتھ مبینہ طور پر سخت رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ایک دلت لڑکی کے والد کو مبینہ طور پر زخمی کرنے والا شخص آزاد گھوم رہا ہے۔
راہل گاندھی نے حکومت سے سوال کیا کہ مبینہ حملہ آور کے خلاف کارروائی کب کی جائے گی۔ نشو آزاد نے اپنی ویڈیو میں دعویٰ کیا ہے کہ ایک شخص کی ایسی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ خود اس کے والد پر حملہ کرنے کی بات تسلیم کرتا دکھائی دیتا ہے۔ نشو نے مطالبہ کیا کہ اس شخص کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ واقعے کے وقت ہی پولیس میں ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی، تاہم اب تک اس معاملے میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔
سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے بھی نشو آزاد کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ واقعے کے بعد وہ خود ڈپٹی کمشنر آف پولیس سے ملے تھے اور مبینہ طور پر تشدد میں ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے مطابق پولیس کی جانب سے یہ جواب دیا گیا کہ محض کسی الزام کی بنیاد پر کسی شخص کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بھی اس معاملے پر ردِعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لوگوں سے اسے دیکھنے کی اپیل کی اور حکومت پر سخت تنقید کی۔ کیجریوال نے سوال اٹھایا کہ کیا آزادی کے مجاہدین نے ایسی صورتحال کے لیے قربانیاں دی تھیں جہاں مبینہ طور پر طاقتور افراد کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔
دوسری جانب دہلی پولیس نے سیاسی دباؤ یا مداخلت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنا موقف پیش کیا ہے۔ دہلی پولیس کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق 23 جولائی کو سی جے پی کے احتجاج سے متعلق پارلیمنٹ تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں سورج کمار اور سوتنتر بھاردواج کو موقع سے حراست میں لیا گیا تھا اور قانون کے مطابق انہیں نوٹس بھی جاری کیے گئے۔ پولیس کے مطابق دونوں افراد سے پوچھ گچھ بھی کی گئی ہے۔دہلی پولیس نے مزید کہا کہ اس معاملے میں جلد ہی چارج شیٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔ پولیس نے واضح کیا کہ کیس میں کسی قسم کے غیر مناسب سیاسی اثر و رسوخ یا مداخلت کا الزام حقائق کے اعتبار سے درست نہیں اور اسے بے بنیاد قرار دیا۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر