شیخ حسینہ کا الزام، طلبہ احتجاج کو سیاسی ہتھیار بنایا گیا
دہلی سے خطاب میں شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش کی موجودہ صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے 2024 کے احتجاج کو سیاسی سازش قرار دیا۔
بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ نے نئی دہلی سے میڈیا کے ساتھ ورچوئل گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران انہوں نے اپنے ملک کو شدید مشکلات اور غیر یقینی حالات سے گزرتے دیکھا۔ ان کے مطابق موجودہ بنگلہ دیش اس خواب کی تعبیر نہیں جس کے لیے لاکھوں افراد نے قربانیاں دیں اور جس کی بنیاد آزادی کی تاریخی جدوجہد پر رکھی گئی تھی۔شیخ حسینہ نے کہا کہ آج کے حالات دیکھ کر انہیں گہرا دکھ ہوتا ہے، کیوں کہ ان کے خیال میں ملک اس راستے سے ہٹ چکا ہے جس پر اسے ترقی اور استحکام کی طرف بڑھنا چاہیے تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے 1971 میں لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا اور ان قربانیوں کا تقاضا تھا کہ ملک میں امن، جمہوریت اور ترقی کو فروغ دیا جائے۔
سابق وزیرِ اعظم نے جولائی اور اگست 2024 میں ہونے والے احتجاجی واقعات کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں صرف طلبہ کی پرامن تحریک قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ان کی حکومت نے ابتدا ہی سے مذاکرات، قانونی تقاضوں اور تحمل کے ذریعے صورت حال کو قابو میں رکھنے اور مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ طلبہ کے بعض جائز مطالبات کو چند منظم گروہوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عناصر احتجاج کو بتدریج ایک سیاسی اور پرتشدد مہم میں تبدیل کرنا چاہتے تھے، جس سے حالات مزید کشیدہ ہوئے۔ شیخ حسینہ کے مطابق حکومت کی خواہش تھی کہ معاملات افہام و تفہیم کے ذریعے حل ہوں، مگر بعض قوتوں نے اس عمل کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔
اپنی گفتگو میں شیخ حسینہ نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ وہ اس وقت اپنے وطن سے باہر رہنے پر مجبور ہیں، لیکن ان کے دل اور سوچ ہمیشہ بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ رہے ہیں۔ ان کے بقول وہ جغرافیائی طور پر ملک سے دور ضرور ہیں، مگر اپنے عوام سے ان کا رشتہ کبھی منقطع نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بنگلہ دیش کے مستقبل کے لیے آج بھی اتنی ہی فکر مند ہیں جتنی اپنے دورِ حکومت میں تھیں۔سابق وزیرِ اعظم نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ بنگلہ دیش ایک مرتبہ پھر سیاسی استحکام، جمہوری اقدار اور قومی یکجہتی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا حل صرف آئینی طریقۂ کار، باہمی اعتماد اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنے میں ہے۔ ان کے مطابق اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو اولین ترجیح دینا ہی بنگلہ دیش کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت بن سکتا ہے۔






