بہار میں نیٹ مظاہرین کو راحت، تمام مقدمات واپس لینے کا اعلان
بہار حکومت کی طلبہ کو بڑی راحت، نیٹ امتحان کے خلاف مظاہروں میں شامل افراد پر کارروائی ختم کرنے کا فیصلہ
بہار حکومت کے محکمۂ داخلہ نے نیٹ (NEET) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شریک طلبہ اور دیگر مظاہرین کے لیے اہم ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 26 جولائی 2026 کی شام 6 بجے تک ریاست بھر میں ہونے والے ان احتجاجی پروگراموں میں حصہ لینے والے افراد کے خلاف درج مقدمات اور دیگر قانونی کارروائیوں کے حوالے سے نرمی برتی جائے گی۔محکمۂ داخلہ کی جانب سے جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ وقت تک احتجاج میں شرکت کے الزام میں درج کی گئی تمام ایف آئی آرز، فوجداری شکایات اور شوکاز نوٹسز کو واپس لینے کے لیے قانونی عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد ان افراد کو ریلیف فراہم کرنا ہے جو نیٹ امتحان سے متعلق خدشات اور اعتراضات کے اظہار کے لیے سڑکوں پر نکلے تھے۔
سرکاری اعلان میں مزید کہا گیا ہے کہ 26 جولائی 2026 کی شام 6 بجے تک درج ہونے والے ایسے تمام مقدمات میں اگر کسی شخص کو گرفتار کیا گیا ہے یا حراست میں لیا گیا ہے تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق متعلقہ اداروں کو اس سلسلے میں ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ فیصلے پر جلد از جلد عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔حکومت نے اپنے بیان میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ مقررہ وقت تک درج ہونے والے ان معاملات میں شامل افراد کے خلاف مستقبل میں بھی براہِ راست یا بالواسطہ کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اس وضاحت کو احتجاجی مظاہروں میں شریک طلبہ اور دیگر افراد کے لیے ایک بڑی رعایت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ان پر قائم مقدمات اور ممکنہ قانونی پیچیدگیوں کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگی۔
سیاسی اور تعلیمی حلقوں میں اس اعلان پر مختلف ردِعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ احتجاجی ماحول میں کشیدگی کم کرنے اور طلبہ کے تحفظات کو مدنظر رکھنے کی ایک کوشش ہے، جب کہ بعض حلقے اس پیش رفت کو عوامی دباؤ اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ لیکن حکومتی مؤقف یہی ہے کہ مقررہ مدت تک احتجاج سے متعلق درج تمام معاملات کو واپس لینے اور متاثرہ افراد کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔






