سپریم کورٹ سخت، رام مندر چندہ کیس میں رپورٹ طلب
سپریم کورٹ نے رام مندر چندہ کیس میں ایس آئی ٹی سے آئندہ سماعت تک اسٹیٹس رپورٹ طلب کرلی، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات پر زور دیا۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے رام مندر چندہ سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں قائم خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئندہ سماعت سے قبل اپنی تحقیقات کی تازہ ترین پیش رفت پر مشتمل اسٹیٹس رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر اس کی اولین ترجیح غیر جانبدار، شفاف اور بروقت تفتیش کو یقینی بنانا ہے۔یہ معاملہ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل تین رکنی بنچ کے سامنے زیرِ سماعت آیا۔ عدالت ان درخواستوں پر غور کر رہی ہے جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس کیس کی تحقیقات ریاستی ایجنسی کے بجائے مرکزی تفتیشی ادارے (سی بی آئی) کے سپرد کی جائیں۔
سماعت کے دوران اتر پردیش حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ریاستی حکومت نے ایس آئی ٹی کی ازسرِ نو تشکیل کر دی ہے۔ ان کے مطابق نئی تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی آئی جی کرن ایس کر رہے ہیں، جبکہ ٹیم میں ایک آئی جی، ایک ڈی آئی جی اور ایک ایس پی سمیت سینئر پولیس افسران شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تحقیقات کو زیادہ مؤثر اور تکنیکی بنیادوں پر آگے بڑھانے کے لیے ایک فرانزک آڈیٹر کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔دوسری جانب درخواست گزاروں کے وکیل دیودت کامت نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ ملک بھر سے لاکھوں عقیدت مندوں نے رام مندر کی تعمیر کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق چندہ دیا، تاہم یہ الزام سامنے آیا ہے کہ جمع ہونے والی پوری رقم متعلقہ ٹرسٹ تک نہیں پہنچی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ٹرسٹ کی جانب سے جاری کی گئی تمام رسیدیں عوامی دسترس میں لائی جائیں اور انہیں آن لائن شائع کرنے کی ہدایت دی جائے۔
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال عدالت کی توجہ صرف اس بات پر مرکوز ہے کہ تحقیقات مکمل طور پر غیر جانبدار اور تیز رفتاری سے انجام پائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ایس آئی ٹی اپنی رپورٹ پیش کر دے گی تو اس کے بعد شفافیت سے متعلق دیگر تجاویز اور مطالبات پر بھی مناسب غور کیا جا سکتا ہے۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ اگلی سماعت تک ایس آئی ٹی اپنی اسٹیٹس رپورٹ لازماً پیش کرے۔ اگر دورانِ تفتیش تحقیقاتی ٹیم کو کسی بھی قسم کی قانونی یا انتظامی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ عدالت کو آگاہ کرے، جس کے بعد سپریم کورٹ ضروری ہدایات جاری کرنے پر غور کرے گی۔






