احتجاجی نوجوانوں کیلئے کانگریس اور آپ کی قانونی معاونت اعلان
کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے احتجاج کے دوران گرفتار اور متاثرہ نوجوانوں کو قانونی و طبی مدد دینے اعلان.
نئی دہلی میں جنتَر منتر پر ہونے والے احتجاج اور پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران پیش آنے والے واقعات کے بعد سیاسی جماعتوں نے متاثرہ نوجوانوں کی مدد کے لیے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ کانگریس پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اگر احتجاج میں شریک کسی نوجوان کو گرفتاری، حراست، یا کسی قسم کی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے تو اس کی ہر ممکن قانونی معاونت کی جائے گی۔کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی کی قانونی ٹیم کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ ان تمام نوجوانوں کی مدد کے لیے دستیاب رہے جو احتجاج کے دوران متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق، ایسے افراد جنہیں گرفتار کیا گیا، حراست میں لیا گیا یا جو تشدد اور حملوں کا نشانہ بنے، انہیں قانونی مشاورت اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں متعدد ای میل پتے بھی شیئر کیے ہیں اور اس کے ساتھ ایک گوگل فارم کا لنک بھی فراہم کیا ہے، جس کے ذریعے متاثرہ افراد یا ان کے اہل خانہ براہِ راست کانگریس کی قانونی ٹیم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو یہ یقین دلانا ہے کہ مشکل حالات میں وہ خود کو تنہا محسوس نہ کریں اور انہیں بروقت قانونی رہنمائی میسر آ سکے۔دوسری جانب، عام آدمی پارٹی نے بھی اسی نوعیت کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی قیادت نے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے یا قانونی پیچیدگیوں میں گھرنے والے نوجوانوں کی مدد کا عزم ظاہر کیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے ایکس پر اپنے پیغام میں احتجاج کے دوران نوجوانوں کے ساتھ ہونے والے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے تشویش ناک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی نوجوان کو طبی امداد یا قانونی معاونت کی ضرورت ہو تو وہ پارٹی کی جانب سے جاری کردہ رابطہ نمبر پر پیغام بھیج سکتا ہے۔ ان کے مطابق، متاثرین کے لیے ماہر وکلا پر مشتمل ایک مضبوط قانونی ٹیم فراہم کی جائے گی۔ کیجریوال نے اپنے پیغام میں نوجوانوں کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کی جماعت ان کے ساتھ کھڑی ہے اور انصاف کے حصول کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔سیاسی مبصرین کے مطابق، حالیہ احتجاجی واقعات کے بعد مختلف جماعتوں کی جانب سے قانونی اور انسانی بنیادوں پر مدد کی پیشکش اس معاملے کو مزید اہم بنا رہی ہے، جبکہ متاثرہ نوجوانوں کی جانب سے بھی ان اقدامات کو مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔






