سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، انکاؤنٹر کیس کی فوری سماعت نہیں
بھرت بھوشن انکاؤنٹر کیس میں سپریم کورٹ نے فوری سماعت سے انکار کیا، سی بی آئی جانچ اور آزاد تحقیقات کے مطالبات برقرار۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بہار کے رہائشی بھرت بھوشن تیواری کے مبینہ پولیس انکاؤنٹر سے متعلق دائر درخواست پر فوری سماعت کرنے سے فی الحال انکار کر دیا ہے۔ درخواست گزار نے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے اور مرکزی تفتیشی ایجنسی (سی بی آئی) کے ذریعے جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔اطلاعات کے مطابق پیر کے روز سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت عظمیٰ سے معاملے کو جلد از جلد فہرستِ سماعت میں شامل کرنے کی گزارش کی۔ لیکن عدالت نے فوری سماعت کی درخواست قبول نہیں کی اور وکیل کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے کو متعلقہ رجسٹری کے سامنے پیش کریں تاکہ ضابطے کے مطابق آئندہ کارروائی طے کی جا سکے۔
دائر کی گئی مفادِ عامہ کی عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھرت بھوشن تیواری کی موت کے ذمہ دار قرار دیے جانے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک آزاد اور غیر جانبدار تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی بھی اپیل کی گئی ہے، جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے کسی سابق جج کے سپرد کی جائے تاکہ واقعے کی مکمل اور شفاف جانچ ممکن ہو سکے۔یہ معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بن گیا جب بھوجپور (آرا) پولیس نے 17 جون کو بھرت بھوشن تیواری کے انکاؤنٹر کی اطلاع دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس واقعے سے ایک روز قبل پولیس کی جانب سے انہیں ذہنی طور پر غیر مستحکم قرار دیا گیا تھا۔
ضلع پولیس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے دوران پولیس ٹیم اور عام لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں گولی بھرت بھوشن تیواری کے پیر میں لگی۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ یہ قدم حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے اٹھایا گیا تھا۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ایک ویڈیو نے اس واقعے پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فائرنگ سے قبل بھرت بھوشن تیواری نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے لائیو نشریات کی تھیں، جن میں مبینہ طور پر وہ اپنی پستول پولیس کی جانب پھینکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی بنیاد پر واقعے کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کے مطالبات میں شدت آ گئی ہے اور مختلف حلقے پورے معاملے کی غیر جانبدار جانچ پر زور دے رہے ہیں۔






