جے پور میں پیپر لیک کے خلاف بڑا احتجاج، اجازت مسترد
جے پور میں پیپر لیک کے خلاف احتجاج، اجازت مسترد، پارٹی رہنما شہید اسمارک پر مظاہرے پر بضد ہیں۔
راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں 15 جون کو ایک مجوزہ احتجاج کے حوالے سے صورت حال کشیدہ ہو گئی ہے۔’کاکروچ جنتا پارٹی‘نے اعلان کیا ہے کہ وہ صبح 10 بجے شہید اسمارک پر پیپر لیک کے مسئلے کے خلاف بڑا مظاہرہ کرے گی، جس میں پارٹی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے بھی شریک ہوں گے۔پارٹی کے راجستھان رابطہ کار ششی مینا نے 9 جون کو جے پور ساؤتھ کے ڈی سی پی دفتر کو خط لکھ کر احتجاج کی اجازت طلب کی تھی۔ لیکن پولیس حکام نے شہید اسمارک پر اس احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
ڈی سی پی ساؤتھ کے دفتر کی جانب سے جاری مؤقف میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات اور حاصل شدہ معلومات کو دیکھتے ہوئے امن و امان کی صورت حال متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اسی لیے شہید اسمارک اور اس کے اطراف میں دھرنا یا مظاہرہ کرنے کی اجازت دینا ممکن نہیں۔ڈی سی پی راجشری راج ورما نے اس معاملے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ احتجاج کے لیے کچھ شرائط رکھی گئی تھیں جن پر ابھی تک مکمل عمل درآمد نہیں ہوا۔ ان کے مطابق جب تک سیکیورٹی، پارکنگ اور شرکاء کے انتظامات واضح اور تسلی بخش نہیں ہوتے، اس وقت تک اجازت دینا مشکل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ مظاہرے میں کتنے افراد شریک ہوں گے، اس لیے انتظامی خدشات برقرار ہیں۔
دوسری جانب پارٹی کے راجستھان کوآرڈینیٹر ششی مینا کا کہنا ہے کہ وہ ہر صورت شہید اسمارک پر ہی احتجاج کریں گے۔ ان کے مطابق تقریباً پانچ سو افراد کی شرکت متوقع ہے اور انتظامیہ کو اس بارے میں آگاہ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے جلد جے پور پہنچیں گے اور ایک بار پھر اجازت کے لیے پولیس سے رابطہ کریں گے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ابھیجیت دیپکے نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ 15 جون کو دوپہر تین بجے شہید اسمارک پر موجود ہوں گے اور پیپر لیک کے مسئلے پر نوجوانوں کے ساتھ آواز بلند کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے نے طلبہ کا مستقبل متاثر کیا ہے اور اب اجتماعی طور پر احتجاج کی ضرورت ہے۔ادھر پیپر لیک کے مسئلے پر کانگریس پارٹی نے بھی ملک گیر تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس مہم کا آغاز 17 جون کو راجستھان کے شہر کوٹا سے کیا جائے گا، جس میں کانگریس رہنما راہل گاندھی کی آمد اور خطاب بھی متوقع ہے۔






