او بی سی ریزرویشن: 8 لاکھ سے زائد آمدنی پر پابندی
سمراٹ چودھری کا بیان: او بی سی طبقے کے 8 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدنی والے خاندان ریزرویشن کے اہل نہیں ہوں گے۔
بہار کے وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے او بی سی ریزرویشن سے متعلق ایک اہم وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سالانہ آٹھ لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی رکھنے والے خاندان دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے ریزرویشن کے فوائد حاصل نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد ریزرویشن کا فائدہ ان افراد اور خاندانوں تک پہنچانا ہے جو سماجی اور معاشی طور پر واقعی پسماندگی کا شکار ہیں۔سمراٹ چودھری نے کہا کہ موجودہ نظام میں او بی سی طبقے کے لیے “کریمی لیئر” کی حد مقرر ہے۔ جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی آٹھ لاکھ روپے سے تجاوز کر جاتی ہے، انہیں کریمی لیئر میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایسے افراد سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں او بی سی کوٹے کے تحت دی جانے والی سہولتوں کے اہل نہیں رہتے۔ اس کے برعکس، آٹھ لاکھ روپے سے کم آمدنی والے خاندان نان کریمی لیئر کے زمرے میں آتے ہیں اور انہیں ریزرویشن کا مکمل فائدہ حاصل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ریزرویشن کی پالیسی کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ اس کے ثمرات ضرورت مند طبقات تک پہنچ سکیں۔ ان کے مطابق صرف ذات یا سماجی شناخت ہی نہیں بلکہ معاشی حالت کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے، اسی لیے کریمی لیئر کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس طریقۂ کار کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ پسماندہ طبقات کے اندر وہ خاندان جو معاشی طور پر مستحکم ہو چکے ہیں، بار بار ریزرویشن سے فائدہ نہ اٹھائیں۔ اس کے بجائے یہ سہولت ان لوگوں تک پہنچے جو اب بھی معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت مساوی مواقع فراہم کرنے کی حامی ہے اور اسی سوچ کے تحت پالیسیاں مرتب کی جا رہی ہیں۔سمراٹ چودھری نے اقتصادی طور پر کمزور طبقات (ای ڈبلیو ایس) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے بھی آمدنی کی حد مقرر ہے۔ اگر کسی خاندان کی آمدنی طے شدہ معیار سے زیادہ ہو تو وہ بھی ریزرویشن کے فوائد حاصل نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام طبقات کے لیے واضح اصول مقرر کیے گئے ہیں تاکہ سرکاری سہولتیں صحیح اور مستحق افراد تک پہنچ سکیں۔
ماہرین کے مطابق کریمی لیئر کا تصور سماجی انصاف کے اصول کو مضبوط بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ریزرویشن کے فوائد پسماندہ طبقات کے ان افراد تک پہنچیں جو واقعی معاشی اور سماجی طور پر محرومی کا شکار ہیں۔ بہار میں سمراٹ چودھری کے حالیہ بیان کے بعد ایک بار پھر او بی سی ریزرویشن اور کریمی لیئر کی حد پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے، اور آنے والے دنوں میں یہ موضوع مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔





