ایم ایل سی ٹکٹ نہ ملنے سے دیپک پرکاش کی وزارت خطرے میں
بہار ایم ایل سی انتخابات میں این ڈی اے نے 9 امیدوار اتارے، دیپک پرکاش کو ٹکٹ نہ ملنے سے ان کی وزارت خطرے میں آگئی۔
بہار قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کی 10 نشستوں کے لیے نامزدگی داخل کرنے کا عمل پیر کے روز اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوگیا۔ حکمراں این ڈی اے اتحاد نے مجموعی طور پر 9 امیدوار میدان میں اتارے ہیں، جن میں بی جے پی اور جنتا دل (یو) کے چار، چار جب کہ چراغ پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کا ایک امیدوار شامل ہے۔ ان ناموں کے اعلان کے بعد سیاسی حلقوں کی توجہ خاص طور پر آر ایل ایم کے سربراہ اوپیندر کشواہا کے بیٹے دیپک پرکاش پر مرکوز ہوگئی ہے، جنہیں ایم ایل سی کا امیدوار نہ بنائے جانے کے باعث ان کی وزارت خطرے میں پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
بی جے پی نے معروف بھوجپوری گلوکار و اداکار پون سنگھ، ڈاکٹر سنجے میوک، انیل کمار ٹھاکر اور شیلا پانڈت کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ دوسری جانب جے ڈی یو نے نشانت کمار، للت پرساد، بھارتی منڈل اور شیو رانی دیوی پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ ایل جے پی (رام ولاس) نے اشرف انصاری کو میدان میں اتارا ہے، جن کی امیدواری کو سیاسی طور پر اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ادھر راشٹریہ جنتا دل نے سنیل کمار سنگھ کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔
قانون ساز کونسل کی ان 10 نشستوں میں سے 9 پر چھ سالہ مدت کے لیے انتخاب ہوگا، جب کہ ایک نشست پر ضمنی انتخاب کرایا جا رہا ہے۔ یہ نشست وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے راجیہ سبھا منتقل ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق عددی طاقت کے لحاظ سے بی جے پی اور جے ڈی یو کے چار، چار امیدواروں کی کامیابی تقریباً یقینی سمجھی جا رہی ہے، جبکہ ایک نشست ایل جے پی (رام ولاس) کے حصے میں جا سکتی ہے۔ اپوزیشن کے لیے بھی ایک نشست جیتنا نسبتاً آسان تصور کیا جا رہا ہے۔ایم ایل سی انتخابات میں کامیابی کے لیے تقریباً 28 ارکان اسمبلی کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ آر جے ڈی کے پاس اپنے 25 ارکان موجود ہیں، جب کہ کانگریس اور دیگر حلیف جماعتوں کے تعاون سے وہ مطلوبہ تعداد حاصل کر سکتی ہے۔ اسی وجہ سے اپوزیشن کی ایک نشست تقریباً محفوظ مانی جا رہی ہے۔
دوسری طرف دیپک پرکاش کے لیے صورتحال پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ وہ اس وقت بہار حکومت میں وزیر ہیں لیکن نہ اسمبلی کے رکن ہیں اور نہ ہی قانون ساز کونسل کے۔ آئینی تقاضوں کے مطابق مقررہ مدت میں کسی ایک ایوان کی رکنیت حاصل نہ ہونے کی صورت میں ان کی وزارت برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ این ڈی اے کی جانب سے انہیں ایم ایل سی امیدوار نہ بنائے جانے کے بعد ان کے سیاسی مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو دیپک پرکاش کے لیے فوری طور پر قانون ساز کونسل تک پہنچنے کے امکانات محدود ہیں۔ تاہم مارچ 2027 میں گورنر کی جانب سے نامزد کی جانے والی کونسل کی نشستوں کے ذریعے ان کے لیے ایک نئی راہ نکل سکتی ہے۔ اس وقت تک اوپیندر کشواہا اور ان کے حامیوں کو انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔





