لبنان کا محاذ
ودود ساجد
ایڈیٹر روزنامہ انقلاب
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشمکش کے علاوہ مشرق وسطی میں لبنان اور اسرائیل کے محاذ پر بھی بہت کچھ ظہور پزیر ہو رہا ہے۔ گزشتہ پانچ جون کو امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ حزب الله کے ایک بہت سینئر لیڈر سے ان کی گفتگو ہوئی ہے۔ حزب اللہ جنوبی لبنان میں موجود ایک مسلح مزاحمتی تنظیم ہے جو لبنان کے متعدد علاقوں پر اسرائیل کے قبضہ اور اس کی زیادتیوں کے خلاف شمالی اسرائیل میں حملے کرتی رہتی ہے۔
حزب الله کو کھلے طور پر ایران کی ہمہ جہت مدد حاصل ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ جنگ بندی کے معاہدہ میں حزب الله پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کو روکنا بھی شامل ہونا چاہئے۔ اسی وجہ سے امریکہ کے ساتھ ایران کا کوئی معاہدہ حتمی صورت اختیار نہیں کرسکا ہے۔ اس تناظر میں ٹرمپ کا مذکورہ اعلان فی الواقع بہت بڑا واقعہ ہے۔ اسی دوران پانچ اور چھ جون کی درمیانی شب ایک اور بڑا واقعہ یہ ہوا کہ اسرائیل کے ایک معروف یہودی صحافی’براک ریوڈ ‘ نے لبنان کے ٹی وی نیٹ ورک ’ایل بی سی آئی نیوز‘ کو انٹرویو دیا۔ دونوں فریق کا دعوی ہے کہ ایسا تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔
اسرائیلی صحافی کا انکشاف اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اس نے بتایا کہ اس نے لبنان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ’نبیح بری‘ کے مشیر اعلی ’علی حمدان‘ سے گفتگو کی ہے۔ نبیح بری حزب الله سے قربت رکھتے ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ اگر جامع معاہدہ ہو تا ہے تو وہ اس امرکی ضمانت دینے کو تیار ہیں کہ حزب الله اسرائیل کے خلاف اپنے حملے روک دے گی۔
مزاحمتی تنظیم حزب الله اور لبنان کی حکومت دو مختلف عناصر ہیں۔ لبنان بہت کمزور اور غریب ملک ہے اور اس کی حکومت تو اور بھی زیادہ کمزور ہے۔ حزب الله کے مقابلہ میں بھی اس کی حیثیت کمزور ہے۔ اوپر سے لبنان کی فوج بھی شیعہ غلبہ والی حزب الله کے خلاف اس لئے طاقت کا استعمال کرنے سے گریزاں ہے کہ اس سے فوج میں موجود شیعہ جوانوں کی ناراضگی کا اندیشہ ہے۔
لبنان میں صدر اور وزیر اعظم کے عہدوں کی تقسیم فرقہ وارانہ بنیادوں پر دہائیوں سے چلی آرہی ہے۔ وہاں آدھی آبادی مسلمان اور آدھی عیسائی ہے۔ لہذا وزیر اعظم سنی مسلمان ہوتا ہے اور صدر کیتھولک عیسائی۔ صدر جوزف عون ایران کو تمام مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ان کا تازہ بیان یہ ہے کہ ایران لبنان کو سودے بازی کی ’چپ‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس کی تردید کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا لبنان کے 20 فیصد حصہ پر ایران کا قبضہ ہے اور کیا لبنان کی 25 فیصد آبادی کو ایران نے دربدر کر رکھا ہے؟۔
واضح رہے کہ اس وقت لبنان کے 20 فیصد علاقہ پر اسرائیل کا قبضہ ہے اور اس نے جنگ بندی کے باوجود بار بار بھیانک حملے کرکے جنوبی لبنان کی 25 فیصد آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ اگر حزب الله کمزور ہوتی ہے تو پھر اسرائیل کو پورے لبنان پر قبضہ کرنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔ سچی بات یہ ہے کہ خلیج کا کوئی بھی ملک یہاں تک کہ خلیج فارس کا ایران بھی اگر کمزور پڑتا ہے تو اسرائیل پورے خطہ پر قبضہ کرنے کیلئے لازمی طور پر آگے بڑھے گا۔ اس نے ابھی تک اپنے ’گریٹر اسرائیل‘ کے منصوبہ کو ترک نہیں کیا ہے جس میں سعودی عرب سمیت کئی ملکوں کے بہت سے علاقے شامل ہیں۔
اب ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ٹرمپ لمحہ بہ لمحہ اپنے بیانات اور موقف تبدیل کر رہے ہیں۔ دنیا اب ان کی باتوں کا اعتبار کرتے ہوئے احتیاط سے کام لے رہی ہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے تین جون کو کہا کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای سے ملاقات کو باعث افتخار سمجھیں گے لیکن چار جون کو ان کا موقف بدل گیا اور انہوں نے کہا کہ وہ مجتبی خامنہ ای سے ملنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ اسی طرح انہوں نے دو جون کو کہا کہ ایران سے جلد ہی ایک بہت شاندار معاہدہ ہوجائے گا لیکن تین جون کو کہا کہ ہم ہر حال میں ایران کا یورینیم اٹھالے جائیں گے خواہ یہ کام معاہدہ کے تحت ہو یا کسی دوسرے راستے سے۔ ایران کی طرف سے ہرچند کہ باقاعدہ طور پر کھل کر کوئی بڑا لیڈر کچھ نہیں کہہ رہا ہے لیکن ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسیاں جو کچھ بیان کر رہی ہیں اس سے نہیں لگتا کہ ایران کو معاہدہ کی کوئی جلدی ہے۔
ایران کی طرف سے ایک پہلو پر بہت وضاحت کے ساتھ ایک ہی بات بار بار دوہرائی جارہی ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ پاکستان کی وساطت سے جس جنگ بندی کا اعلان ہوا تھا اس میں لبنان پر اسرائیل کے حملوں کو روکا جانا بھی شامل تھا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اسرائیل نے نہ صرف یہ کہ لبنان میں حملے نہیں روکے ہیں بلکہ ان میں شدت بھی پیدا کردی ہے۔ اپریل 2026 میں جنگ بندی کے بعد سے آج چھ جون تک اسرائیل کے حملوں میں تین ہزار 516 لبنانی شہری شہید ہوچکے ہیں‘ آٹھ ہزار سے زائد شدید زخمی ہیں جبکہ 12 لاکھ شہری بے گھر ہوچکے ہیں۔ تازه اطلاع یہ ہے کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب میں اسرائیل کے حملے میں لبنانی فوج کا ایک جنرل بھی جاں بحق ہوگیا ہے۔ ادھر غزہ میں بھی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے فوجی مسلسل حملے کرکے آج تک ایک ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید‘ سینکڑوں کو زخمی اور ہزاروں کو بے گھر کرچکے ہیں۔ اب معلوم ہوا ہے کہ اسرائیل نے نام نہاد’یلو لائن‘ کو بھی کراس کرکے غزہ کے 70 فیصد حصہ پر قبضہ کرلیا ہے۔
قضیہ یہی ہے کہ ٹرمپ اور نتن یاہو دنیا کو ایران کے معاملہ میں الجھاکر فلسطینیوں اور لبنانیوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔ امریکہ کا خیال ہے کہ معاہدہ اس لئے نہیں ہو رہا ہے کہ ایران میں کوئی مستحکم قیادت موجود نہیں ہے۔ جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیل بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور لبنان پر حملے کر رہا ہے۔ امریکہ کے دعووں اور گفتگو میں تضاد بھی نظر آتا ہے۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس (پارلیمنٹ) کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر کہا کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے اور یہ کہ ایران کے سپریم لیڈر سرگرمی کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں بالواسطہ طور پر حصہ لے رہے ہیں اور یہ کہ کوئی معاہدہ جلد ہوجائے گا لیکن دوسری طرف ٹرمپ کہتے ہیں کہ معاہد ہ میں تاخیر اس لئے ہورہی ہے کہ ایران میں مستحکم قیادت موجود نہیں ہے۔
دو جون کو ایک واقعہ اور ہوا۔ ٹرمپ اور نتن یاہو کے درمیان فون پر بدکلامی ہوئی جس میں ٹرمپ نے نتن یاہو کو مادر زاد گالیاں بھی دیں اور کہا کہ اگر میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے اور یہ کہ پوری دنیا تم سے اور اسرائیل سے نفرت کرتی ہے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ ٹرمپ نتن یاہو کو کتنی ہی گالیاں دے لیں اور اسے کتنا ہی نیچا دکھانے کیلئے معاملات سے الگ تھلگ کردیں مقصد ان کا صرف اسرائیل کو چاروں طرف سے محفوظ کردینا ہے۔ حزب الله کے کسی سینئر لیڈر سے ان کا گفتگو کرنا بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اسی دوران یوروپ کی منافقت بھی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اسرائیل کے خلاف موقف اختیار کرنے کے باوجود یوروپ اسرائیل سے مسلسل ہتھیار بھی خرید رہا ہے۔ تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں اسرائیل کے ہتھیاروں کی فروخت کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ اس نے 19.02 بلین ڈالر کے ہتھیار فروخت کئے ہیں۔ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ایشیا کے ممالک میں ہندوستان اسرائیل سے ہتھیار خریدنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ ایک ریپبلکن کانگریس رکن نے کہا ہے کہ ایک مہینے کے لئے اسرائیل کی ہر قسم کی غیر ملکی امداد روک دی جائے تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا اور آبنائے ہرمز بھی کھل جائے گی۔
آبنائے ہرمز کے بند ہونے کا ذکر آیا ہے تو یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ دنیا بھر کو بھاری نقصانات اور مسائل کا سامنا ہونے کے ساتھ خود ایران کو بھی امریکہ کے محاصرہ کے سبب اب تک چھ بلین ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ بلاشبہ ٹرمپ نہ ایران کے ہمدرد ہیں اور نہ عرب ممالک یا فلسطین کے۔ وہ حزب الله ‘حماس اور حوثیوں سے بھلے ہی گفتگو کرلیں لیکن وہ ان تینوں مسلح جماعتوں کے خیر خواہ تو ہر گز نہیں ہوسکتے۔ اس لئے یہ غلط فہمی نہیں رہنی چاہئے کہ چونکہ ٹرمپ نتن یاہو کو مسلسل ذلیل اور الگ تھلگ کر رہے ہیں اس لئے وہ عربوں یا ایران کے خیرخواہ بن گئے ہیں۔ لیکن پھر بھی اگر معاہدہ میں تمام فریق اور خاص طور پر ایران اور عرب ممالک کے مفادات کا جامع خیال رکھا جاتا ہے تو بہرحال خطہ میں امن قائم ہوسکتا ہے۔
خطہ میں امن کا قیام ظاہر ہے کہ اسرائیل کو تحفظ فراہم کرے گا لیکن بلاشبہ اس سے فائدہ مجموعی طور پر مشرق وسطی کو ہوگا۔ مشرق وسطی میں قیام امن اس لئے بھی ضروری ہے کہ وہاں افراتفری سے دنیا کے باقی ممالک اور خاص طور پر ایشیا اور اس میں بھی ہندوستان سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے چیف زامیر کا تازہ بیان آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ بہتر یہی ہے کہ اسی وقت معاہدہ کرلیا جائے کیونکہ اگر ایک مہینہ کے بعد بھی (ایران کی) انہی شرائط پر معاہدہ ہوا تو پھر آج ہی کرلینا بہتر ہے۔ اسرائیلی فوج کے چیف کا یہ بیان واضح کرتا ہے کہ اسرائیلی فوج خطرات کا سامنا کرتے ہوئے اور مسلسل جانی و عسکری نقصانات اٹھاتے ہوئے تھک چکی ہے اور اب اسے اسرائیل کی مکمل فتح اور مزاحمتی تنظیموں کے مکمل صفایہ کا یقین نہیں رہا۔
یہ خبریں تو قارئین نے پڑھ ہی لی ہوں گی کہ تین جون کو ایران نے امریکہ کے ایک حملہ کے جواب میں کویت اور بحرین پر میزائل داغے۔ کویت کے انٹرنیشنل ایرپورٹ پر اس سے بھاری تباہی ہوئی اور ایک ہندوستانی جاں بحق ہوگیا۔ گزشتہ روز چھ جون کو بھی ایران نے پھر کویت اور بحرین پر میزائل داغے ہیں۔ اس کا دعوی ہے کہ انہی ملکوں کے اپنے اڈدوں سے امریکہ اس پر حملے کر رہا ہے۔ ایران کی القدس فورس کے چیف نے کہا ہے کہ جب تک اسرائیلی افواج لبنان سے نہیں نکلیں گے خطہ میں امن قائم نہیں ہوگا۔ غزہ میں حماس کے نئے ترجمان ابوعبیدہ نے بھی دو جون کو ویڈیو پیغام میں اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیوں پر انتباہ جاری کیا ہے۔
امریکہ کی ثالثی سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان مسلسل مذاکرات جاری ہیں لیکن حزب الله نے ان کوششوں کو مسترد کردیا ہے۔ شاید یہی سبب ہے کہ ٹرمپ حزب الله کی اعلی قیادت سے بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ تمام تفصیلات اس امر کا واضح اشارہ ہیں کہ امریکہ طاقتور ترین ہونے کے باوجود مشرق وسطی کی ان مزاحمتی طاقتوں کے جذبہ کے آگے سرد پڑگیا ہے۔ ہم اپنا پرانا موقف ایک بار پھر دوہرانا چاہتے ہیں کہ تمام تر اشتعال انگیزیوں کے باوجود عربوں نے اور خاص طور پر سعودی عرب نے ضبط سے کام لے کر انتہائی تدبر کا مظاہرہ کیا ہے۔ لہذا امن جب بھی قائم ہوگا خطہ کے سب سے بڑے فاتح عرب ہی ہوں گے۔





